۱۰ اسفند ۱۳۹۹ | Feb 28, 2021
رهبر انقلاب

حوزہ/جو بات ہمیں ایٹمی ہتھیار بنانے سے روکے ہوئے ہيں وہ اسلامی تعلیمات اور اس کی اساس ہے جس میں عام لوگوں کے قتل کا سبب بننے والے ہتھیاروں، چاہے کیمیائی ہوں یا ایٹمی، کی تیاری کو ممنوع قرار دیا گیا ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ماہرین کی کونسل مجلس خبرگان رہبری کے سربراہ اور ارکان سے ملاقات کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سیدعلی خامنہ ای نے حکومت پر زور دیا کہ وہ پابندیوں کے خاتمے سے متعلق پارلیمنٹ کے منظور کردہ قانون پر جو ایک اچھا قانون ہے، پوری طرح سے عملدرآمد کرے۔
آیت اللہ العظمی سید ‏علی خامنہ ای نے ایران کی جانب سے ایٹمی معاہدے پر عملدرآمد کی سطح میں کمی کے بارے میں امریکہ اور تین یورپی ملکوں کے بیانات کو آمرانہ ، غیر منصفانہ اور تہذیب سے عاری قرار دیا۔ آپ نے فرمایا کہ اسلامی جمہوریہ ایران  پہلے دن سے اور طویل عرصے تک اسلامی تعلیمات کی روشنی میں ایٹمی معاہدے پر عمل کرتا آیا ہے جبکہ یہی چار ممالک تھے جنہوں نے شروع دن سے معاہدے پر عمل نہیں کیا۔ لہذا ان سے ہی باز پرس کیا جانی چاہیے اور انہیں سزا بھی دی جانی چاہیے۔
 رہبر انقلاب اسلامی نے فرمایا کہ امریکہ کے ایٹمی معاہدے سے نکل جانے اور یورپ کی جانب سے بھی اس کا ساتھ دیئے جانے کے باوجود اسلامی جمہوریہ ایران ایٹمی معاہدے سے نہیں نکلا بلکہ اس نے ایٹمی معاہدے پر عملدرآمد کی سطح میں بتدریج کمی کی ہے۔ آپ نے فرمایا کہ ایران نے واضح کردیا ہے کہ فریق مقابل کی جانب سے وعدوں کی پاسداری کی صورت میں سارے اقدامات واپس لیے جاسکتے ہیں۔
آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے سامراجی زبان کے استعمال کو مغربی ملکوں کے تئیں ایرانی عوام میں پائی جانے والی نفرت میں اضافہ کا سبب قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ اس درمیان "عالمی صیہونیزم کا مسخرہ"  مسلسل یہ کہہ رہا ہے کہ ہم ایران کو ایٹمی ہتھیار بنانے نہیں دیں گے۔ آپ نے فرمایا کہ اگر ایران ایٹمی ہتھیار بنانے کا فیصلہ کرلے تو وہ کیا اس کے بڑے بھی ہمیں ایسا کرنے سے نہیں روک سکتے۔
رہبر انقلاب اسلامی نے یہ بات زور دے کر کہی کہ جو بات ہمیں ایٹمی ہتھیار بنانے سے روکے ہوئے ہيں وہ اسلامی تعلیمات اور اس کی اساس ہے جس میں عام لوگوں کے قتل کا سبب بننے والے ہتھیاروں، چاہے کیمیائی ہوں یا ایٹمی، کی تیاری کو ممنوع قرار دیا گیا ہے۔
آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے امریکہ کی ایٹمی بمباری میں دولاکھ بیس ہزار جاپانیوں کے قتل عام اور اسی طرح یمنی عوام کے محاصرے اور مغربی ملکوں کے جنگی طیاروں کے ذریعے بازاروں، اسپتالوں اور اسکولوں پر کی جانے والی بمباری کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ عام شہریوں اور بے گناہ لوگوں کا قتل عام تو امریکہ اور یورپ کا وتیرہ ہے، اسلامی جمہوریہ ایران اس طریقے کو قبول نہیں کرتا اور اسی لیے ایٹمی ہتھیاروں کے حصول کا سوچتا بھی نہیں البتہ ہم ملکی ضرورت کے مطابق ایٹمی توانائی کے حصول کا پختہ ارادہ رکھتے ہیں۔
رہبر انقلاب اسلامی نے فرمایا کہ ایران یورینیم کی افزودگی صرف بیس فی صد تک محدود نہیں رکھے گا۔  ایران کو جس مقدار میں یورینیم افزودہ بنانے کی ضرورت ہوگی انجام دے گا، مثال کے طور پر ایٹمی پروپیلروں اور یا دیگر کاموں کے لیے ہم  یورینیم کی افزودگی کو ساٹھ فی صد تک لے جاسکتے ہیں۔
آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے ایٹمی معاہدے میں درج افزودگی کی سطح اور  مدت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ، چند برس کا یہ معاہدہ جو طے پایا ہے اگر مغرب نے اس پر عمل کیا تو ہم بھی اس پر مقررہ مدت تک ہی عمل کریں گے۔ البتہ یورپ والے جانتے ہیں کہ ہم ایٹمی ہتھیار نہیں بنانا چاہتے۔
 رہبر انقلاب اسلامی نے صراحت کے ساتھ فرمایا کہ " ایٹمی ہتھیار ایک بہانہ ہے وہ (مغرب) تو روائتی ہتھیاروں تک بھی ہماری رسائی کے مخالف ہیں، کیونکہ وہ ایران کی طاقت کے عناصر کو اس سے چھیننا چاہتے ہیں۔
آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے فرمایا کہ حقیقت یہ ہے کہ مستقبل قریب میں ایٹمی بجلی گھر دنیا بھر میں پاکیزہ اور صاف ستھری توانائی کے حصول کا اہم ترین ذریعہ ہوں گے جس کے لیے یورینیم کی افزدگی ضروری ہوگی اور ہم اس دن کا انتظار نہیں کرسکتے بلکہ آئندہ کی ضرورت کے اس کام کو ہمیں آج سے ہی شروع کرنا ہوگا۔
 آپ نے فرمایا کہ مغرب والے چاہتے ہیں کہ جب ایران کو ایٹمی توانائی کی ضرورت پڑے تو وہ ان کے آگے ہاتھ پھیلائے اور وہ ہماری ضرورت کو اپنی بالادستی، چوہدارہٹ اور باج گیری کے لیے استعمال کریں۔
رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے تاکید فرمائی کہ ایران اسلامی دیگر معاملات کی طرح ایٹمی معاملے میں بھی پسپائی اختیار نہیں کرے گا اور ملکی مصلحت، حال اور مستقبل کے تقاضوں کے مطابق پوری طاقت کے ساتھ قدم آگے بڑھائے گا۔

لیبلز

تبصرہ ارسال

You are replying to: .
7 + 11 =