۲ آبان ۱۴۰۰ |۱۷ ربیع‌الاول ۱۴۴۳ | Oct 24, 2021
چنیوٹ میں علامہ قاضی غلام مرتضیٰؒ کی پہلی برسی نہایت عقیدت و احترام سے منائی گئی

حوزہ/ محسن ملت مفسر قرآن علامہ شیخ محسن علی نجفی دام ظلہ کے شاگرد خاص اور جامعہ اہلبیت اسلام آباد سے حوزہ علميہ كى طرف سفر شروع کرنے والی اہم قومی و ملی شخصیت، پیکر اخلاص و عمل پرنسپل کلیۃ اہلبیت چنیوٹ علامہ قاضی غلام مرتضیٰ رحمۃ اللہ علیہ کی پہلی برسی گذشتہ روز کلیۃ اہلبیت چنیوٹ میں نہایت عقیدت و احترام سے منائی گئی۔  

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق،چنیوٹ/محسن ملت مفسر قرآن علامہ شیخ محسن علی نجفی دام ظلہ کے شاگرد خاص اور جامعہ اہلبیت اسلام آباد سے حوزہ علميہ كى طرف سفر شروع کرنے والی اہم قومی و ملی شخصیت، پیکر اخلاص و عمل پرنسپل کلیۃ اہلبیت چنیوٹ علامہ قاضی غلام مرتضیٰ رحمۃ اللہ علیہ کی پہلی برسی گذشتہ روز کلیۃ اہلبیت چنیوٹ میں نہایت عقیدت و احترام سے منائی گئی۔  

برسی کے پروگرام کا آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا جس کے بعد دار الحفاظ چنیوٹ کے طلباء نے تواشیح پیش کی۔ ابتدائیہ کلمات مولانا عارف حسین شاکری مدرس کلیۃ اہلبیت  چنیوٹ نے پیش کئے۔ اُنہوں نے قاضی صاحب مرحوم کی برسی میں دور دراز کا سفر طے کر کے آنے والے علماء کرام و دیگر شرکاء کو خوش آمدید کہا اور فرمایا کہ اگر چہ آج قاضی صاحب مرحوم ہمارے درمیان موجود نہیں ہیں لیکن وہ ہم سے جدا بھی نہیں ہیں اور وہ اپنی دینی و ملی خدمات کی وجہ سے ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے۔ جس کے بعد  علمائے کرام و مقررین نے مرحوم و مغفورکو زبردست خراج عقیدت پیش کیا ۔

تصویری جھلکیاں:  چنیوٹ میں علامہ قاضی غلام مرتضیٰؒ کی پہلی برسی نہایت عقیدت و احترام سے منائی گئی

اس موقع پر علامہ افضل حیدری نے اپنے خطاب میں فرمایا  کہ علم و عمل کا امتزاج انسانی ارتقاء میں بنیادی کردار کا حامل ہوتا ہے اور قاضی مرتضیٰ مرحوم و مغفور علم و عمل کے حسین امتزاج کی حامل ایسی شخصیت تھے جنہیں ہم  بھلانا بھی چاہیں تو بھلا نہیں سکتے ۔

علامہ عارف واحدی نے فرمایا کہ قاضی صاحب مرحوم و مغفور شیعیان پاکستان کے لیے تعلیم و تربیت صحت اور روزگار کے حوالے سے ہمیشہ فکر مند رہتے تھے اور ہم سب کو اس ضرورت کی جانب ہمیشہ متوجہ کیا کرتے تھے آج جبکہ وہ ہم میں موجود نہیں تو ہمیں ملت تشیع کے ان پہلووں کی جانب پیش رفت  کرنے کی اشد ضرورت ہے ۔

علامہ غلام حسین عدیل نے فرمایا کہ مشن آل محمد علیہم السلام کو جو زندہ کرتا  ہے اُسے اسباب اور وسائل خدا فراہم کرتا ہے قاضی صاحب نے اپنی زندگی میں جتنے بھی کام کیے  اُن سب کے پیچھے اُن کا  اخلاص عمل  صاف جھلکتا نظر آتا ہے ۔

برسی کے پروگرام سے مولانا ظہور خان بلوچ نے خطاب  فرماتے ہوئے کہا کہ قاضی صاحب ایک فرد ہوتے ہوئے بھی ایک پوری ملت تھے  اُنہوں نے  وہ کام تن  تنہا  کیے جو  بڑی بڑی جماعتیں، انجمنیں اور بہت سے لوگ بھی مل کر نہیں کر سکتے ۔

علامہ میرزا حسین صابری نے مرحوم کے حوالے سے گفتگو  کرنے کے علاوہ منظوم خراج عقیدت بھی پیش کیا؛
"جس قدر بنتے گئے آثار قاضی مرتضیٰ
اس قدر بڑھتا گیا  معیار قاضی مرتضیٰ
خون دل سے علم دیں کی آبیاری کرگئے
تا ابد شاداب ہیں   اشجار قاضی مرتضیٰ
اُس نے برپا کردیا  علم و ادب کا انقلاب
ضو فشاں ہےپرتو  افکار  قاضی مرتضیٰ"

جامعۃ الکوثر کے  فاضل اُستاد علامہ انتصار حیدر جعفری نے اپنی تقریر میں فرمایا  کہ قاضی صاحب کا خدا پر توکل اس قدر تھا کہ مشکلات کے باوجود ہمیشہ مصروف عمل رہتے تھے  وہ ایک ہمہ جہت شخصیت تھے جن کی زندگی کے کسی ایک پہلو کو سامنے رکھ کر اُن کی بابت گفتگو کرنا آسان نہیں ہے ۔

علامہ ظفر عباس شہانی نے قاضی صاحب کو زبردست خراج عقیدت پیش کیا اُنہوں نے فرمایا کہ مرحوم اپنی بیماری کی شدت کے دنوں میں بھی کبھی پریشان نہ ہوئے اور مسلسل کار خیر میں مصروف عمل رہے اُن کی ہمیشہ سے یہ عادت تھی کہ جس کام کا بھی اُنہوں نے بیڑا اُٹھایا اُسے پایہ تکمیل تک پہنچایا۔

علامہ محمد رمضان توقیر نے فرمایا کہ مختصر سی زندگی میں جتنے کارہائے نمایاں قاضی صاحب نے انجام دئیے اُن کا شمار ہر ایک کے بس کی بات نہیں بلاشبہ قاضی صاحب اپنی ذات میں ایک فعال اور متحرک شخصیت تھے ۔

علامہ علی رضا نقوی نے قاضی صاحب مرحوم کی زندگی کے مختلف پہلووں پر روشنی ڈالی اور کہا کہ مرحوم کی زندگی کے جس پہلو پر بھی  نظر ڈالی جائے  وہ اطاعت الہی کا مظہر دکھائی دیتا ہے۔

علامہ عقیل کاظمی نے اپنے خطاب میں فرمایا کہ مرحوم   قاضی صاحب مخلوق خد اکی روحانی صحت کے علاوہ بدنی صحت کے حوالے سے بھی ایک مجاہدانہ کردار کے حامل تھے  اُن کے ادارے اور اُن کے آثار ایسے ہیں جو اُنہیں تا قیام قیامت زندہ رکھیں گے ۔

برسی کے دیگر مقررین میں مولانا مظہر علوی،مولانا رانا نصرت، مولانا عبد الرزاق علوی اور مولانا صادق توحیدی کے علاوہ خواجہ مرید پرنسپل پیرا میڈیکل کالج چنیوٹ بھی شامل تھے جنہوں نے قاضی صاحب کی قوم و ملت کی خاطر  کی گئی مخلصانہ جد و جہد اور زحمات پر اُنہیں زبردست خراج عقیدت پیش کیا اور اُن کے دینی و ملی پراجیکٹس کی تفاصیل بیان کرنے کے علاوہ اُن کی روز مرہ زندگی سے وابستہ یادوں کو بھی اس طرح تازہ کیا کہ شرکاء کی  آنکھیں بار بار نمناک ہوئیں۔

برسی کے اختتام پر علامہ قاضی غلام مرتضیٰ مرحوم و مغفور کے رفیق ِکار مولانا واجد علی نقوی نے اختتامی کلمات ادا کرتے ہوئے شرکاء کا شکریہ ادا کیا اور دعائے خیر سے اس پروگرام کو اختتام بخشا۔ برسی کے آغاز سے اختتام تک مولانا محمد علی ہمدانی نے سٹیج سیکرٹری کے فرائض بااحسن خوبی انجام دیتے رہے۔

لیبلز

تبصرہ ارسال

You are replying to: .
1 + 13 =