۱۰ مرداد ۱۴۰۰ | Aug 1, 2021
News Code: 368605
13 مئی 2021 - 19:24
دنیا پرست حکومت،سماج کی موت

حوزہ/ اس سیکولر نظام میں اگر سرکاری اسپتال، سرکاری اسکول، اور اسی طرح دیگر سرکاری اور پرائیویٹ ادارےبھر پور ذمہ داریوں کو نبھاتے تو ملک کی یہ حالت نہ ہوتی کہ لوگ علاج کا پیسہ نہ ہونے کی وجہ سے تڑپ تڑپ کر دم توڑ رہے ہوں۔ ملک کا وہ جینیس اور ٹیلینٹ دماغ جو پرائیویٹ اسکولوں میں پیسہ نہ ہونے کی وجہ سے مزدوری کر رہا ہے۔ خصوصا اس ملک میں جہاں ملک کا بڑا حصہ غریبی میں زندگی گزار رہا ہے۔

تحریر: مولانا سید نسیم رضا آصف 

حوزہ نیوز ایجنسییوں تو دنیا بھر کی  اکثر حکومتیں اور ان حکومتوں کے حکمراں خود اپنے لئے یا ایک خاص گروہ اور طبقے کے لئے حکومت کرتے ہیں اور ملک کا ایک بڑا حصہ اکثر چیزوں سے محروم رہ جاتا ہے۔ انہیں حکومتوں میں شبہ قارہ ہند یا یوں کہوں مشرقی ایشیا پیش پیش ہے اور ان میں ہمارا ملک ہندوستان جہاں کے لوگ اتنے اچھے اور جہاں کی تہذیب کی کوئی مثال نہیں جہاں لوگ اپنے پریوار کو پالنے کے لے انتھک محنت و مزدوری کرتے ہیں،  دنیا کے کسی حصے میں اتنی محنت کرنے والے لوگ نہیں پائے جاتے، لیکن اس کے بعد بھی اپنے گھر اور پریوار کا پیٹ نہیں بھر نے سے قاصر رہتے ہیں۔

کیوں ایسا ہے؟ جب کہ آٹھ گھنٹے کے بجائے جو کہ قانون ہے لوگ بارہ گھنٹے کام کر رہے ہیں۔ اس کے بعد بھی اپنی روز مرہ کی زندگی مینٹین کرنے میں جوجھ رہے ہیں۔ ظاہری طور پر اس سیکولر نظام میں آزادی تو ہے لیکن عملی طور پر ایک بڑے حصے کے حقوق کی پائمالی ہو رہی ہے اور اس کا گلا گھونٹا جا رہا ہے تو اس طرح کا نظام تو ایک ڈکٹیٹر نظام کہلاتاہے سیکولر نہیں۔

اس سیکولر نظام میں اگر سرکاری اسپتال، سرکاری اسکول، اور اسی طرح دیگر سرکاری اور پرائیویٹ ادارےبھر پور ذمہ داریوں کو نبھاتے تو ملک کی یہ حالت نہ ہوتی کہ لوگ علاج کا پیسہ نہ ہونے کی وجہ سے تڑپ تڑپ کر دم توڑ رہے ہوں۔ ملک کا وہ جینیس اور ٹیلینٹ دماغ جو پرائیویٹ اسکولوں میں پیسہ نہ ہونے کی وجہ سے مزدوری کر رہا ہے۔ خصوصا اس ملک میں جہاں ملک کا بڑا حصہ غریبی میں زندگی گزار رہا ہے۔

آج سے پچاس سے ساٹھ سال پہلے یہی سرکاری ہاسپٹل اور اسکول جہاں سے لوگ کہاں سے کہاں چلے گئے مگر افسوس آج ان کی کیا حالت ہو گئی اور یہ سب خائن حکام کی خیانت کا خمیازہ ہے جو بیچاری عوام کوبھگتنا پڑ رہا ہے، ایسے خاین اور جاہل حکمران کہیں بھی حکومت کرنے کے لائق نہیں ہیں یہ تو ہندوستان کی بھولی بھالی عوام اپنے حقوق پائمال ہوتا دیکھنے کے بعد بھی خوشی سے رہ رہی ہے۔ 

اے ہندوستان کے حکمرانوں تمہہں کیا ہو گیا ہے کہ جب تم آج کے ٹیکنکل اور ترقی یافتہ دور میں ملک کے لائٹ، سڑک، پانی اور ہیلتھ کے نظام کو جو ایک ملک کی پہلی ضرورت ہے ٹھیک نہیں کرسکے تو تم حکومت کیوں کر رہے ہو۔ ہاں یہاں پر یہ بات بھی کہتا چلوں کے یہ غلطی یہاں کی جنتا اور عوام کی بھی ہے جسے یا تو اپنے حقوق کا پتہ نہیں یا لوگوں میں اپنا حق لینے کی جرائت نہیں کیوں کہ آپسی اتحاد نہیں ہےجسکی وجہ سے اسے اسکے ضروری حقوق بھی نہیں مل پاتے۔

آخر میں میں ان حکمرانوں سے کہوں گا کہ اگر تم عوام اور لوگوں کو طاقتور بنائو گے تو تم بھی قوی ہوگے اور ملک بھی قوی ہوگا۔ قوی ہونے کےبعد تم اگر کسی ملک میں جائو گے تو عزت کی نگاہوں سے دیکھے جائو گے ۔ لہٰذا حکام کو چاہئے کہ وہ ملک میں اپنی عوام کو جاہل اور مزدور نہ  بنائیں بلکہ  وہ اسے ڈاکٹر اور سائنٹسٹ و۔۔۔۔۔۔۔۔ بنائیں

تبصرہ ارسال

You are replying to: .
2 + 2 =