۳ اردیبهشت ۱۴۰۳ |۱۳ شوال ۱۴۴۵ | Apr 22, 2024
اجتماع بزرگ حوزویان قم در اعتراض به جنایات تروریستی شیعیان افغانستان

حوزہ/ حوزہ علمیہ قم کی اعلی کونسل کے ممبر نے کہا: امریکہ اور جرائم پیشہ اسرائیل کو خبردار کرتے ہیں کہ خطے کے مسلمانوں کا پیمانہ ٔصبر اب لبریز ہو چکا ہے۔ اگر وہ ان جرائم سے ہاتھ نہیں کھینچیں گے تو انہیں لوگوں کے سخت انتقام کا سامنا کرنا پڑے گا۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق،آیۃ اللہ محسن اراکی نے مدرسہ فیضیہ قم میں منعقدہ افغانستان میں شیعیان اہل بیت علیہم السلام کے قتل عام کے خلاف علماء کرام اور دیگر افراد کے بہت بڑے احتجاجی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا: افغانستان میں ہوئے حالیہ دو دلخراش واقعات نے تمام لوگوں اور امام زمانہ عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف کے دل کو زخمی کردیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا: ان جرائم سے معلوم ہوتا ہے کہ دشمن آج بھی آلِ علی (علیہ السلام) سے جنگ کر رہا ہے۔

حوزہ علمیہ قم کی اساتذہ کی انجمن (جامعہ مدرسین) کے ممبر نے کہا: حوزہ علمیہ کے اساتذہ اور بزرگ علماء  مراجع تقلید کی رہنمائی میں آج مدرسہ فیضیہ اکٹھے ہوئے ہیں تاکہ دشمن پر واضح کر دیں کہ یہ جرائم انہیں امام حسین علیہ السلام اور آلِ حسین کے مشن سے ہرگز نہیں روک سکتے اور یہ مشن جاری و ساری ہے۔

آیت اللہ اراکی نے کہا: یہ قتلِ عام ہمیں جہاد در راہ خدا سے دور نہیں کر سکتا اور اب بھی جنرل سلیمانی اور ابو مہدی المہندس جیسے مجاہدین جہادِ راہ خدا میں مشغول ہیں۔

انہوں نے کہا: جرائم پیشہ امریکہ اور خونخوار اسرائیل کی مکمل شکست تک ہمارا جہاد جاری ہے اور آج مدرسہ فیضیہ میں علماء کرام اور بزرگانِ حوزہ اکٹھے ہوئے ہیں تاکہ یہ اعلان کریں کہ افغانستان کے لوگ تنہا نہیں ہیں۔ ان کے دکھ درد ہمارے درد ہیں اور ان کا خون ہمارا خون ہے۔

آیت اللہ اراکی نے کہا: ان شاء اللہ شیعیانِ افغانستان کو فتح نصیب ہو گی۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم سب افغانستان کی مدد کے لیے ہاتھ بڑھائیں۔

انہوں نے کہا: افغانستان کے حکام کو چاہئے کہ وہ افغانستان کے مظلوموں کی جانب توجہ کریں۔ ہم ان حوادث میں عزداروں سے اظہار ہمدردی کرتے ہیں اور افغانستان کے حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ لوگوں کو سیکورٹی فراہم کریں۔

جامعہ مدرسین کے ممبر نے کہا: یہاں ہم امریکہ اور جرائم پیشہ اسرائیل کو خبردار کرتے ہیں کہ اب خطے کے مسلمانوں کا پیمانۂ صبر لبریز ہو چکا ہے اور اگر انہوں نے ان جرائم سے ہاتھ نہ کھینچا تو لوگوں کا سخت انتقام انہیں اپنے کئے پر پشیمان کر دے گا۔

آیت اللہ اراکی نے کہا: آج مسلمانوں کا اتحاد ہمیشہ کی طرح واجب ہے۔ ملتِ افغانستان کو معلوم ہونا چاہیے کہ دشمن مسلمانوں کے درمیان تفرقہ ایجاد کر کے افغانستان میں مسلمانوں کو آپس میں لڑانا چاہتا ہے اور جو چیز خطے میں دشمن کی سازشوں کو نتیجہ خیز بناتی ہے وہ ہمارے درمیان کا اختلاف ہے۔

اسمبلی آف ایکسپرٹس (مجلس خبرگان) کے ممبر نے مزید کہا: ہماری ذمہ داری ہے کہ دشمن کو اپنے درمیان اختلافات ایجاد کرنے میں ناکام بنائیں۔ دشمن نے ہمارے درمیان تفرقہ ایجاد کرنے کے لئے بہت زیادہ سرمایہ خرچ کیا ہے تاکہ وہ اپنے مذموم اہداف کو حاصل کر سکے۔ ہم بھی یہ اعلان کرتے ہیں کہ دشمن کی اس سازش کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔

لیبلز

تبصرہ ارسال

You are replying to: .