۲ خرداد ۱۴۰۱ |۲۱ شوال ۱۴۴۳ | May 23, 2022
مجمع علماء وواعظین پوروانچل ہندوستان

حوزہ/ مجمع علماء وواعظین پوروانچل ہندوستان کی جانب سے شہزادی کونین سلام اللہ علیہا کی ولادت با سعادت کے پر مسرت خصوصی موقع پر ہم شہزادی عصمت و خاتون جنت حضرت فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہا کی خدمت با برکت میں پر خلوص نذرانۂ عقیدت پیش کرتے ہیں۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق،مخدومہ ٔ کونین ،سیدہ ٔ نساء العالمین ،مخدرۂ عصمت و طہارت ،خاتون جنّت، صدیقہ طاہرہ،بتول عذرا،حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی عظمت و فضیلت کے کیا کہنے کیونکہ آپ لاتعداد و بے شمار فضائل و منا قب کا مرکز و محور ہیں۔ایک حدیث میں حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ «مٰا رَأیتُ أَحَداً قَطُّ أَفْضَلْ مِنْ فٰاطِمَةِ غَیر أَبِیهٰا…».(سیرۃ حلبی، ج ۲، ص ۶،امالی شیخ طوسیؒ اور بخاری میں بھی یہ روایت متعدد مقامات پر موجود ہے۔)۔ یعنی "میں نے حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا سے کسی کو افضل نہیں دیکھا سوائے ان کے پدر گرامی کے"۔

شہید محراب آیۃ اللہ دستغیب ؒ نے کتاب زندگانی حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا صفحہ ۱۲۲میں کتاب ریاحین الشریعہ جلد اول کے حوالہ سے رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ فرمان نقل کیا ہے کہ خداوند عالم نے تمام پیغمبروں میں بہشت کی خوشبو رکھی ہے۔اور حوروں میں بہشت کے چنبیلی کے پھول کی خوشبو رکھی ہے اور فرشتوں میں بہشت کے گلاب کی خوشبو رکھی ہے۔اور یہ نبیوں ،حوروں اور فرشتوں میں جو علٰحدہ علٰحدہ خوشبو ہے یہ تمام کی تمام مکمل طور پر جناب بتولؑ میں ہے‘‘۔یعنی بھری پری کائنات میں فرش سے عرش تک جتنی بھی خوشبو پھیلی ہوئی ہے اس کا مرکز و محور و ملجا فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی ذات مبارکہ ہے۔

ان خیالات کا اظہار مجمع علماء وواعظین پوروانچل ہندوستان کےارکان مولانا ابن حسن املوی واعظ بانی و سرپرست حسن اسلامک ریسرچ سینٹر املومبارکپور، مولانا ناظم علی واعظ سربراہ جامعہ حیدریہ خیرآباد مئو ،مولانا مظاہر حسین محمدی پرنسپل مدرسہ باب العلم مبارکپور، مولانا شمشیر علی مختاری پرنسپل مدرسہ جعفریہ کوپا گنج مئو، مولانا سید سلطان حسین پرنسپل جامعہ امام مھدی اعظم گڑھ،مولانا سید صفدر حسین زیدی پرنسپل جامعہ امام جعفر صادق ؑ جونپور،مولانا محمد محسن جونپوری پرنسپل وثیقہ عربی کالج فیض آباد،مولانا رئیس حیدر واعظ جلال پوری مدیر و پرنسپل حوزہ ٔ علمیہ جامعہ امام الصادق ؑ کریم پور جلال پورامبیڈکر نگر،مولانا منہال رضا قمی استاد جامعہ حیدریہ خیر آباد مئو،مولانا سید ضمیر الحسن ا ستاد جامعہ جوادیہ بنارس،مولانا سید محمد عقیل استاد جامعہ ایمانیہ بنارس، مولانا کاظم حسین منیجر مدرسہ حسینیہ بڑا گاؤں گھوسی مئو،مولانا تنویر الحسن امام جمعہ و جماعت شہرو ضلع غازی پور،مولا نا جابر علی قمی زنگی پوری امام جمعہ و جماعت پارہ ضلع غازی پور،مولانا محمد مہدی حسینی استاد مدرسہ باب العلم مبارکپور،مولانا کرار حسین اظہری استاد مدرسہ باب العلم مبارکپور، مولانا عرفان عباس امام جمعہ و جماعت شاہ محمد پور مبارکپور،مولانا سید حسین جعفر وہب امام جمعہ و جماعت سیدواڑہ محمدآباد گوہنہ مئو،مولانا سید محمد مہدی استاد جامعہ امام مھدی اعظم گڑھ،مولانا ڈاکٹر مظفر سلطان ترابی صدر آل یاسین ویلفیر اینڈ ایجوکیشنل ٹرسٹ مبارکپور، مولانا عارف حسین قمی مبارکپوری،مولانا جاوید حسین نجفی مبارکپوری،مولانا غلام پنجتن مبارکپوری،صدرو القلم ویلفیر اینڈ ایجو کیشنل ٹرسٹ مبارکپور، مولانا محمد رضا ایلیا سرپرست ادارہ تحقیقی مشن مبارکپور،مولا شبیہ رضا قمی مبارکپوری امام جمعہ و جماعت شکار پور بلند شہر، مولانا اکبر علی واعظ جلال پوری امام جمعہ و جماعت میران پور اکبر پور امبیڈکر نگر، مولانا محمد ظفر معروفی استاد مدرسہ بقیۃ اللہ جلال پورامبیڈکر نگر،،مولانا ظفرالحسن فخرالافاضل جلال پوری جنرل سکریٹری آل انڈیا شیعہ سماج دہلی،مولانا سید عترت حسین واعظ اعظمی استاد جامعہ ناظمیہ لکھنو،مولانا نسیم الحسن استاد مدرسہ جعفریہ کوپاگنج مئو،مولانا مظاہر انور مدرس اعلیٰ مدرسہ امامیہ املو ،مولانا غلام باقر خان رنّو جونپور استاد جامعہ امام مھدی اعظم گڑھ،مولانا مرغوب عالم عسکری استاد جامعہ ایمانیہ ناصریہ جونپور،مولانا سید ذوالفقار حیدر امام جمعہ و جما عت شیولی اعظم گڑھ،مولانا مظفر نقی معروفی پیشنماز مسجد آل نبی ؐ حسینی باغ مبارکپور،مولانارضوان المعروفی پورہ معروف مئو،مولانا ثقلین حیدر صدرالافاضل سمند پور ی ،مولانا عون محمد املوی نجفی، مولانا محمد اعظم املوی قمی،مولانا محمد شاہد ریاضی مبارکپوری ننے اخبار کے لئے جاری اپنے ایک مشترکہ پیغامِ ِ تبریک و تہنیت میں کیا ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ سیدۂ عالم میں تین نسبتیں ایسی ہیں کہ جن تک کائنا ت کی کسی خاتون کو رسائی حاصل نہیں ہے۔اسی وجہ سے آپ حضرت مریم ؑ سے تین پہلوؤں کے لحاظ سے عزیز و محترم ہیں۔

آپ کی پہلی نسبت یہ ہے کہ آپ امام اولین ،سید المرسلین ،خاتم النبیین اور رحمۃ للعالمین کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہیںاور ان کے قلب مبارک کے لئے رافت و راحت کا سرمایہ و سامان ہیں۔

دوسری نسبت یہ ہے کہ آپ اس صاحب شجاعت و شہامت انسان کی رفیقۂ حیات ہیں کہ جو اپنے فضائل و مناقب میں کائنات پر بھاری ہیں ۔جن کے القابات و اعزازات لامحدود ہیں۔

تیسری نسبت یہ ہے کہ آپ ان شہزادوں کی والدۂ گرامی ہیں جو جوانان جنت ہیں جو جوانان جنت کے کے سردار ہیں۔جی ہاں پوری کائنات پر نگاہ ڈالئے اب کون ہے جو سیدۂ نساء العالمین کی ہمسری و برابری کا دعویٰ کرے؟علامہ اقبال ؒ نے ’’ رموز بے خودی‘‘ میں فرمایا ہے: مریم از یک نسبت ِ عیسیٰ عزیز از سہ نسبت حضرت زہرا عزیز

لیکن ایرانی مفکر و دانشور ڈاکٹر علی شریعتی نسبتوں کے ذریعہ سے فاطمہ زہرا ؑ کی عظمت و فضیلت کا معیار نہیں قرار دیتے ان کا کہنا ہے کہ ’’ فاطمہؑ فاطمہؑ ہیں‘‘۔

حضرت فاطمہ علیہا السلام کا نام فاطمہؑ کیوں رکھا گیا ؟: علامہ شیخ صدوق علیہ الرحمہ نے ایک روایت نقل فرمائی ہے کہ ’’ اللہ تعالیٰ کو یہ معلوم تھا کہ رسول اللہ مختلف قبائل میں شادیاں کریں گے اور وہ قبائل اس طمع میں کہ آنحضرت ؐ کی حکومت وراثت میں ان کو پہونچے گی پہلے ہی وہ اپنی بیٹیاں دینے کو تیار تھے مگر جب حضرت فاطمہ پیدا ہوئیں اور اللہ تعالیٰ نے ان کا نام فاطمہ رکھا اور یہ وراثت ان کی اولاد میں رکھ دی تو سب کٹ کر رہ گئے اور ان کی ساری طمع کی رسی کٹ گئی تو اس لئے فاطمہ کا نام فاطمہ ہے۔کہ انھو ں نے سب کی طمع کی رسی کاٹ دی اور ’’ فطم ‘‘ کے معنی کاٹنے یا قطع کرنے کے ہیں‘‘( علل الشرائع صفحہ ۱۳۵)
فاطمہ شفیعۂ روزِ جزاء: فرزندِ رسول باقرُ العلوم حضرت امام محمد باقر (علیہ السلام) نے ارشاد فرمایا:
سیدہ فاطمہ (سلام اللہ علیہٰا) کے لیے جہنم کے دروازے پر ایک پڑاؤ ہو گا اور جب قیامت کا دن ہو گا تو ہر شخص کے ماتھے پر مومن یا کافر لکھ دیا جائے گا۔ایک مُحبِ اہلبیت (علیہمُ السلام) جس کے گناہ سب سے زیادہ ہوں گے، کے بارے میں جب حکم دیا جائے گا کہ اس کو جہنم کی طرف پہنچاؤ تو جب وہ دروازے پر پہنچے گا سیدہ فاطمہ (سلامُ اللہ علیہٰا) اس کے ماتھے پر لکھا ہوا پڑھیں گی کہ یہ مُحبِ اہلبیت (علیہمُ السلام) ہے۔تو بارگاہ الہٰی میں عرض کریں گی:اے میرے اللہ !ے میرے مالک ! تو نے میرا نام فاطمہ (سلامُ اللہ علیہٰا) رکھا اور میری وجہ سے تو نے مُجھ سے اور میری ذریت سے تولّا رکھنے والوں کو جہنم سے بری کردیا ہے اور تیرا وعدہ یہی ہے اور تو ہر گز وعدہ کے خلاف نہیں کرتا۔تو اللہﷻ ارشاد فرمائے گا:کہ اے فاطمہ (سلامُ اللہ علیہٰا) تو نے سچ کہا میں نے ہی تیرا نام فاطمہ (سلامُ اللہ علیہٰا) رکھا اور تیری ہی وجہ سے تُجھ سے محبت اور تولا رکھنے والوں کو اور تیری ذریت سے محبت اور تولا رکھنے والوں کو جہنم سے بالکل بری کردیا ہے۔

میرا وعدہ سچا ہے اور میں اپنے وعدہ کے خلاف کبھی نہیں کرتا میں نے اس بندے کو جہنم کی طرف لے جانے کا حکم صرف اس لیے دیا تھا کہ تم اس کی شفاعت کرو اور میں تمہاری شفاعت قبول کروں تاکہ میرے ملائکہ میرے انبیا و رسل اور تمام اہل موقف پر واضح ہو جائے کہ میرے نزدیک تمہارا کیا مقام ہے اب تم جس کی پیشانی پر مومن لکھا ہوا دیکھو اسے جنت میں داخل کر دو۔۔۔!!!(علل الشرائع شیخ صدوقؒ صفحہ ۱۳۵)
اے پرودگارِ عالم ہم گنہگاروں کو بھی روز محشر شفیعۂ ِ روزِ محشر صدیقةُ الطاہرہ حضرت فاطمةُ الزھرا (سلامُ اللہ علیہٰا) کی شفاعت کبریٰ نصیب فرمانا۔

مجمع علماء وواعظین پوروانچل ہندوستان کی جانب سے شہزادی کونین سلام اللہ علیہا کی ولادت با سعادت کے پر مسرت خصوصی موقع پرپہلے ہم شہزادی عصمت و خاتون جنت حضرت فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہا کی خدمت با برکت میں پر خلوص نذرانۂ عقیدت پیش کرتے ہیں اس کے ساتھ ہی جناب رسول ِخدا ؐ کو اورجملہ ائمہ ٔ ہدیٰ علیہم السلام بالخصوص فرزند زہرا ؐ حضرت امام زمانہ عجل اللہ فرجہ الشریف اور جملہ علمائے دین و مراجع کرام و طلاب و مومنین ذوی الاحترام کی خدمت میںتبریک و تہنیت ادا کرتے ہیں۔اور بارگاہ خداوندی میں دعا کرتے ہیں کہ خدایا ! شفیعہ ٔ روز جزا ،صدیقۂ طاہرہ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے صدقہ میں تمام مومنین و مسلمین کے جان و مال و عزت و آبرو کی حفاظت فرما، اسلامی جمھوری ایران کو ترقی و استحکام عطا فرما، مرجع تقلید حضرت آیۃ اللہ العظمیٰ آقائی سیستانی حفظہ اللہ اور رہبر معظم حضرت آیۃ اللہ العظمیٰ آقائی خامنہ ای حفظہ اللہ و دیگرعلماء مراجع عظام کو صحت و سلامتی کے ساتھ طول عمر عنایت فرما ،دشمنان اسلام ومومنین و مسلمین کو ذلیل و رسوا فرما ، یوسف ِ زہرا ؐ امام زمانہ عجل اللہ فرجہ الشریف کے ظہور پر نور میں تعجیل عطا فرما تاکہ روئے زمین سے ظلم و جور کا خاتمہ ہو اور عدل و انصاف اور امن و امان کا راج قائم ہو۔الٰہی آمین۔

واضح رہے کہ ۲۰؍جمادی الثانی سنہ ۵ بعثت شہزادی کونین کی ولادت با سعادت کی تاریخ ہے اور ۲۰؍جمادی الثانی ۱۳۲۰ھ بانی انقلاب اسلامی ایران رہبر کبیر حضرت آیۃ اللہ العظمیٰ سید روح اللہ الموسوی خمینی اعلی اللہ مقامہ کی بھی ولادت کی تاریخ ہے ۔اور اس تاریخ میں ایران میںاور دوسرے ملکوں میں بھی بالخصوص شیعہ سماج میں ’’یوم خواتیں ‘‘ بھی بڑے دھوم دھام اورمذہبی عقیدت اور احترام سے منایا جاتا ہے لہٰذا ان سب مناسبات کے مدنظر ہم مجمع علماء وواعظین پوروانچل ہندوستان کی جانب سے ایرانی عوام اور حکوت نیز جملہ مومنین و مسلمین ِ جہان کی خدمت میں ایک بار پھر سے ہدیۂ تبریک و تہنیت پیش کرتے ہیں ۔گر قبول افتد زہے عز و شرف

احقرالزمن:
حجۃ الاسلام والمسلمین مولانا ابن حسن املوی واعظ
رکن مجمع علماء وواعظین پوروانچل،ہندوستان
تاریخ؛ ۲۲ ؍جنوری ۲۰۲۲ء

لیبلز

تبصرہ ارسال

You are replying to: .
7 + 4 =