۵ بهمن ۱۴۰۰ |۲۱ جمادی‌الثانی ۱۴۴۳ | Jan 25, 2022
مولانا شیخ وسیم حیدر

حوزہ/ خطیب،عالم با عمل،مرد مجاہد،مومن و زاہد حجۃ الاسلام والمسلمین مولانا شیخ وسیم حیدر ممتاز الافاضل نے داعی اجل کو لبیک کہا ۔انّاللہ و انّا الیہ راجعون۔مرحوم کے علمی و مذہبی و قومی گراں قدر خدمات ناقابل فراموش ہیں۔ 

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق،مبارکپور،اعظم گڑھ(اتر پردیش) ہندوستان/ یہ خبر وحشت اثر سن کر دل و دماغ پر رنج و غم کے گہرے بادل چھا گئے کہ معتبر خطیب،عالم با عمل،مرد مجاہد،مومن و زاہد حجۃ الاسلام والمسلمین مولانا شیخ وسیم حیدر ممتاز الافاضل نے داعی اجل کو لبیک کہا ۔انّاللہ و انّا الیہ راجعون۔مرحوم کی علمی و مذہبی و قومی گراں قدر خدمات ناقابل فراموش ہیں۔

حجۃالاسلام والمسلمین مولانا شیخ وسیم حیدر ابن شیخ قدیر حسن ۱۳۶۹ھ؍۱۹؍جنوری ۱۹۴۹ءتحصیل کراکت ضلع جونپور(اتر پردیش) میں پیدا ہوئے ۔ابتدائی تعلیم مدرسہ ناصریہ جونپور میں حاصل کی۔۱۹۶۷ء میں جامعہ ناظمیہ لکھنؤ میں داخلہ لیا۔مفتی احمد علی،مولانا حکیم محمد اطہر،مولانا محمد مرتضیٰ،مولانا رسول احمد ،مولانا ایوب حسین مولانا سید محمد شاکر امروہوی،سے کسب علم کرکے ۱۹۷۴ء میںممتاز الافاضل کی سند حاصل کی۔۱۹۷۴ءمیں ہولے نرسی پور کرناٹک تبلیغ کے لئے گئے وہاں مدرسہ نظیریہ قائم کیا ۔لڑکیوں کی تعلیم کے لئے مدرسہ معصومہ کی بنیاد ڈالی ۔مختلف بستیوں میں مسجد اور عزاخانے تعمیر کرائے۔۲۰۰۰میں پریا پٹن میں غرباء کے لئے مومنین کے تعاون سے کالونی تعمیر کرائی اور مسجد حیدری کی تاسیس کی ۔موضع کارلا کرناٹک میں مسجد بنی ہاشم تعمیر کرائی ۔آپ نے ہولے نرسی پور ،کرناٹک میں اسلامی بیداری پیدا کرنے میں بہت زیادہ محنت کی ۔وہیں سکونت اختیار کی ۔اور آج بتاریخ ۱۱؍ جنوری ۲۰۲۲ء کو وہیں ارحلت کی اور وہیں دفن ہوئے۔

مولاناشیخ وسیم حیدر ہمارے ہمعصر دوستوں میں سے تھے۔وہ ۱۹۶۷ء میں لکھنؤ تحصیل علم کی غرض سے گئے تھے اور ہم ۱۹۶۶ء میں لکھنؤ گئے تھے۔وہ مدرسہ ناظمیہ میں پڑھتے تھے اور ہم مدرسہ سلطان المدارس میں ۔مگر دونوں مدرسوں کے طلباء شیر وشکر کی طرح مل جل کر رہتے تھے۔مرحوم نہایت بے باک،نڈر،صاف گو،ملنسار و پر خلوص انسان تھے۔بہترین خطیب تھے۔مجالس و محافل میں خطاب کرنے کے لئے ہندوستان کے بہت سارے چھوٹے بڑے شہروں میں بھی جایا کرتے تھے۔

مجمع علماء وواعظین پوروانچل ہندوستان کے اراکین مولانا ابن حسن املوی واعظ بانی و سرپرست حسن اسلامک ریسرچ سینٹر املومبارکپور، مولانا ناظم علی واعظ سربراہ جامعہ حیدریہ خیرآباد مئو ،مولانا مظاہر حسین محمدی پرنسپل مدرسہ باب العلم مبارکپور، مولانا شمشیر علی مختاری پرنسپل مدرسہ جعفریہ کوپا گنج مئو، مولانا سید سلطان حسین پرنسپل جامعہ امام مھدی اعظم گڑھ،مولانا سید صفدر حسین زیدی پرنسپل جامعہ امام جعفر صادق ؑ جونپور،مولانا منہال رضا قمی استاد جامعہ حیدریہ خیر آباد مئو،مولانا سید ضمیر الحسن ا ستاد جامعہ جوادیہ بنارس،مولانا سید محمد عقیل استاد جامعہ ایمانیہ بنارس، مولانا کاظم حسین منیجر مدرسہ حسینیہ بڑا گاؤں گھوسی مئو،مولانا تنویر الحسن امام جمعہ و جماعت شہرو ضلع غازی پور،مولا نا جابر علی قمی زنگی پوری امام جمعہ و جماعت پارہ ضلع غازی پور،مولانا محمد مہدی حسینی استاد مدرسہ باب العلم مبارکپور،مولانا کرار حسین اظہری استاد مدرسہ باب العلم مبارکپور، مولانا عرفان عباس امام جمعہ و جماعت شاہ محمد پور مبارکپور،مولانا سید حسین جعفر وہب امام جمعہ و جماعت سیدواڑہ محمدآباد گوہنہ مئو،مولانا سید محمد مہدی استاد جامعہ امام مھدی اعظم گڑھ،مولانا ڈاکٹر مظفر سلطان ترابی صدر آل یاسین ویلفیر اینڈ ایجوکیشنل ٹرسٹ مبارکپور، مولانا عارف حسین قمی مبارکپوری،مولانا جاوید حسین نجفی مبارکپوری،مولانا غلام پنجتن مبارکپوری،صدرو القلم ویلفیر اینڈ ایجو کیشنل ٹرسٹ مبارکپور، مولانا محمد رضا ایلیا سرپرست ادارہ تحقیقی مشن مبارکپور،مولا شبیہ رضا قمی مبارکپوری امام جمعہ و جماعت شکار پور بلند شہر، مولانا اکبر علی واعظ جلال پوری امام جمعہ و جماعت میران پور اکبر پور امبیڈکر نگر، مولانا محمد ظفر معروفی استاد مدرسہ بقیۃ اللہ جلال پورامبیڈکر نگر،مولانا رئیس حیدر واعظ جلال پوری مدیر و پرنسپل حوزہ ٔ علمیہ جامعہ امام الصادق ؑ کریم پور جلال پورامبیڈکر نگر،مولانا ظفرالحسن فخرالافاضل جلال پوری جنرل سکریٹری آل انڈیا شیعہ سماج دہلی،مولانا سید عترت حسین واعظ اعظمی استاد جامعہ ناظمیہ لکھنو،مولانا نسیم الحسن استاد مدرسہ جعفریہ کوپاگنج مئو،مولانا مظاہر انور مدرس اعلیٰ مدرسہ امامیہ املو ،مولانارضوان المعروفی مئو،مولانا ثقلین حیدر صدرالافاضل سمند پوری ،مولانا عون محمد املوی نجفی، مولانا محمد اعظم املوی قمی،مولانا محمد شاہد ریاضی مبارکپوری نے حجۃالاسلام والمسلمین مولانا شیخ وسیم حید کے انتقال پرملال پر گہرے انج و غم کا اظہار کرتے ہوئے اخبار کے لئے جاری اپنے ایک مشترکہ تعزیتی پیغام میں مرحوم کی گراں قدر علمی و مذہبی و قومی خدمات کو سراہتے ہوئے پر خلوص خراج عقیدت پیش کیا ہےاور مرحوم کی مغفرت اور بلندی درجات کی دعا کی ہے۔نیز مرحوم کے تمام لواحقین و متعلقین کے لئے صبر جمیل کی دعا کے ساتھ جملہ علماءوطلاب و مراجع کرام و مومنین ذوی الاحترام بالخصوص حضرت امام زمانہ عجل اللہ فرجہ الشریف کی خدمت میں تعزیت و تسلیت پیش کی ہے۔

افسوس مرحوم کے کوئی اولاد نرینہ نہیں ہے۔اپنے بھائی مولانا رئیس حیدر کے ایک بیٹے محمد اشتر کو گود لیا ہے۔اہلیہ با حیات ہیں خدا ان کوصبر جمیل عطا فرمائے اور سلامت رکھے آمین۔۔فقط والسلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ

شریک غم
حجۃالاسلام مولانا ابن حسن املوی واعظ
رکن مجمع علماءوواعظین پوروانچل ہندوستان
تاریخ: ۱۱؍جنوری ۲۰۲۲ء

تبصرہ ارسال

You are replying to: .
9 + 6 =