۲ اردیبهشت ۱۴۰۳ |۱۲ شوال ۱۴۴۵ | Apr 21, 2024
مراسم ولادت

حوزہ / شیعہ مرجع تقلید نے اہل بیت علیہم السلام کی ولادت کی تقاریب میں تالیاں بجانے کے حکم کے بارے میں پوچھے گئے سوالات کا جواب دیا ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، شیعہ مرجع تقلید آیت اللہ سید علی سیستانی نے اہل بیت علیہم السلام کی ولادت کی تقاریب میں تالیاں بجانے کے حکم کے بارے میں پوچھے گئے سوالات کا جواب دیا ہے۔ جنہیں شرعی مسائل میں دلچسپی رکھنے والے افراد کے لئے ذیل میں پیش کیا جا رہا ہے:

*تالیاں بجانا

سوال: شادی کے موقع پر مردوں اور عورتوں کے تالیاں بجانے کا کیا حکم ہے جبکہ وہ ایک دوسرے سے جدا ہوں لیکن تالیاں بجانے کی آواز سن رہے ہوں؟

جواب: (اگر مرد و خواتین ایک دوسرے سے جدا ہوں تو) اس میں فی نفسہ کوئی حرج نہیں ہے۔

----------------------------------

سوال: کیا ائمہ معصومین علیہم السلام کی ولادت کی تقریبات میں تالیاں بجانا جائز ہے؟

جواب: فی نفسہ تالیاں بجانے میں کوئی حرج نہیں۔

----------------------------------

سوال: کیا بچوں کی عبادت کے جشن میں ساز بجانا اور تالیاں بجانا جائز ہے؟

جواب: اگر لہوی معیار کا ہو (لہو و لعب شمار ہوتا ہو) تو اسے بجانا جائز نہیں۔

----------------------------------

سوال: حسینیہ اور مسجد کے علاوہ کسی مقام پر اہل بیت علیہم السلام کی تعظیم کے لیے جشنِ عید کی تقریبات میں تالیاں بجانے کا کیا حکم ہے؟ جبکہ ایسا کرنا ائمہ معصومین علیہم السلام کی توہین کا سبب نہ ہوتا ہو؟

جواب: کوئی حرج نہیں ہے لیکن ایسے کاموں کا صلوات کی جگہ لینا مناسب نہیں ہے (یعنی بہتر ہے کہ ان پروگرامز میں صلوات پڑھی جائے)۔

ماخذ: آیت اللہ سیستانی کے دفتر کی رسمی ویب سائٹ

تبصرہ ارسال

You are replying to: .