۲۵ فروردین ۱۴۰۳ |۴ شوال ۱۴۴۵ | Apr 13, 2024
عراقی ماہر تجزیہ نگار کی حوزہ نیوز ایجنسی کے ساتھ خصوصی گفتگو:

حوزه/ عراقی ماہر تجزیہ کار قاسم سلمان العبودی نے کہا کہ عراقی مزاحمتی تحریکوں کے جوانوں سمیت سیاست دانوں کی ایک بڑی تعداد ریاستِ کردستان اور دیگر علاقوں کے رہنماؤں کے سازشی رویے سے متفق نہیں ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حالیہ دنوں میں، صہیونی حکومت کے ہاتھوں شام میں دو ایرانی فوجی آفسران کی شہادت کے جواب میں، سپاہِ پاسدارانِ انقلابِ اسلامی نے اربیل عراق میں غاصب اسرائیلی حکومت کے جاسوسی ہیڈ کوارٹر کو نشانہ بنا کر سخت ردعمل کا مظاہرہ کیا ہے۔

اس کارروائی میں اتوار 13 مارچ کی صبح عراق کے شہر اربیل میں صہیونی حکومت کی انٹیلی جنس اور اسپیشل آپریشنز آرگنائزیشن (موساد) کے دو ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔ سپاہِ پاسدارانِ انقلابِ اسلامی کے شعبۂ تعلقات عامہ نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ جعلی صہیونی حکومت کے حالیہ جرائم اور ہمارے سابقہ اعلان کہ، غاصب اسرائیلی حکومت کے جرائم اور شرارتیں لا جواب نہیں رہیں گی، کے مطابق صہیونیوں کے سازشی اور شرارتی اسٹریٹجک مرکز کو طاقتور اور ہدف کو نشانہ بنانے والے میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا۔

اسلامی جمہوریہ ایران کا غاصب صہیونی حکومت کو تین دندان شکن جواب

سپاہِ پاسدارانِ انقلابِ اسلامی نے زور دے کر کہا کہ ہم مجرم صہیونی حکومت کو ایک بار پھر خبردار کرتے ہیں کہ کسی بھی شرارت کے اعادہ پر سخت، فیصلہ کن اور تباہ کن ردعمل کا سامنا کرنا پڑے گا۔

حوزہ نیوز ایجنسی کے بین الاقوامی نمائندے نے اس سلسلے میں عراقی ماہر اور تجزیہ کار "قاسم سلمان العبودی" سے خصوصی گفتگو کی ہے جسے ہم قارئین کی خدمت میں پیش کر رہے ہیں:

حوزہ نیوز ایجنسی کو انٹرویو دیتے ہوئے قاسم سلمان العبودی نے اربیل میں اسرائیلی جاسوسی کے ہیڈکوارٹر پر ایرانی میزائل حملے کے پیغامات کی جانب اشارہ کیا اور کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران نے شمالی عراق کو جو پیغام دیا در حقیقت اس میں ایک ہی وقت میں تین پیغامات تھے۔

پہلا پیغام: سپاہِ پاسدارانِ انقلابِ اسلامی پڑوسی ممالک میں غاصب اسرائیلی حکومت کی مشکوک نقل و حرکت پر نظر رکھے ہوئے ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کا صہیونی حکومت کے نام پہلا پیغام یہ تھا کہ امت اسلامیہ کے اعلیٰ ترین مفادات اور ایران کی قومی سلامتی ایک ریڈ لائن ہے اور کسی بھی بین الاقوامی فریق کو اسے نقصان پہنچانے کا حق نہیں ہے اور تمام پڑوسی ممالک میں سپاہِ پاسدارانِ انقلابِ اسلامی کے جوان ان کی تمام مشکوک حرکات پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔

عراقی ماہر سیاسی تجزیہ کار نے اس جرأت مندانہ اقدام کے دوسرے اہم پیغام کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ دوسرا پیغام، ریاستِ کردستان کے لئے تھا کہ کرد رہنماؤں کے مطابق گزشتہ ادوار میں جب داعش کے دہشت گرد ٹولے اربیل کی سرحدوں پر پہنچے تو ایران کردوں کی مدد کے لئے ان کے پاس پہنچ گیا اور آج اسلامی جمہوریہ ایران انہیں اور دوسروں کو اسلامی جمہوریہ ایران کی قومی سلامتی کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دیتا۔

انہوں نے اس بات کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ مزاحمت و مقاومت کی زبانِ حال کہتی ہے کہ اچھا جواب اچھائی کے سوا کچھ نہیں ہے، لہٰذا اپنے بارے میں آگاہ رہیں اور مطمئن ہوں کہ تل ابیب اور واشنگٹن آپ کو ہمارے غصے کی آگ سے محفوظ نہیں رکھ سکتے اور زلنسکی آپ کے لئے اپنے بارے میں سوچنے کے لئے ایک رول ماڈل ہے، جو کہ ممکن ہے ایک اچھا اور پسندیدہ رول ماڈل ہو یا ایک برا اور ناپسند رول ماڈل ہو۔

اربیل میں موجود اسرائیلی کمین گاہوں سے سیاسی طاقتوں اور مستقبل کی عراقی حکومت کو انتباہ

سلمان العبودی نے اسلامی جمہوریہ ایران کے تیسرے دندان شکن جواب کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ تیسرا اہم پیغام، عراقی سیاسی طاقتوں کے لئے تھا، جو علیٰحدگی پسند کرد رہنماؤں کے ساتھ سیاسی معاہدے میں مشغول اور شمالی عراق میں اسرائیلی جاسوسی ٹھکانوں کی سرگرمیوں کی میزبانی کر رہے ہیں اور جس کے منفی اثرات عراقی عوام محسوس کر رہے ہیں۔

انہوں نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ اس کارروائی کا مقصد عراق کی مستقبل کی حکومت بھی ہے، مزید کہا کہ مستقبل کی عراقی حکومت کو کردوں کے رویے کو روکنے کے لئے اپنا کردار ادا کرنا چاہئے جو عراق کو مختلف علاقوں میں تقسیم کرکے اسے تباہی کے دہانے پر لانا چاہتے ہیں اور پھر صہیونی حکومت کے ساتھ شرمناک اور ذلت آمیز تعلقات کو معمول پر لانے کی طرف بڑھنا چاہتے ہیں۔

عراقیوں کی ایک بڑی تعداد ریاستِ کردستان کی سازشوں کی مخالفت کرتی ہے

العبودی نے کہا کہ میرے خیال میں یہ پیغامات ہمارے مد مقابل سے واضح طور پر پڑھے اور موصول ہوئے ہیں اور ہر ایک کو اپنی مذہبی، قومی اور اخلاقی ذمہ داریاں ادا کرنی چاہئیں۔

آخر میں عراقی سیاسی تجزیہ کار نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے میزائلوں نے اپنے قومی اور اسلامی اصولوں سے بھٹکنے والوں میں سے بعض کو آئینہ دکھایا ہے، کہا کہ عراق اور اسلامی جمہوریہ ایران کے درمیان تعلقات کی سطح پر، میں نہیں سمجھتا کہ ان میزائلوں کا ان پر زیادہ اثر پڑے گا، کیونکہ عراقی مزاحمتی تحریکوں کے جوانوں سمیت سیاست دانوں کی ایک بڑی تعداد ریاستِ کردستان اور دیگر علاقوں کے رہنماؤں کے سازشی رویے سے متفق نہیں ہے۔

لیبلز

تبصرہ ارسال

You are replying to: .