۱۵ مهر ۱۴۰۱ |۱۱ ربیع‌الاول ۱۴۴۴ | Oct 7, 2022
علمای اهل سنت

حوزہ/امام رضا علیہ السلام کے روضۂ مبارک کی بے حرمتی پر سیستان اور بلوچستان کے سنی علماء نے اس اقدام کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے اور دہشت گردوں کے خلاف سخت ردعمل کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہابی تکفیری ٹولہ دینِ اسلام کا دشمن اور ان کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، گزشتہ روز مشہد مقدس ایران حرم مطہر امام رضا علیہ السلام میں پیش آنے والے واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے سیستان و بلوچستان ایران کے سنی علمائے کرام نے دہشت گردوں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ وہابی تکفیری ٹولہ دینِ اسلام کا دشمن اور ان کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

علمائے اہل سنت سیستان وبلوچستان نے ایک تکفیری شخص کے توسط سے رونما ہوئے سانحۂ مشہد کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ جو بھی مسلمانوں کے مابین تفرقہ ڈالنے کا ارادہ رکھتا ہے وہ یقیناً کافر ہے اور یہ افراد امریکہ اور اسرائیل کے نوکر ہیں۔

مجلسِ خبرگانِ رہبری میں سیستان و بلوچستان کے عوامی نمائندے مولوی نذیر احمد سلامی نے کہا کہ رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں حرم امام رضا علیہ السلام اور زائرین کی بے حرمتی مسلم ہو یا غیر مسلم ہر باضمیر انسان کی نظر میں قابلِ مذمت عمل ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ تیسری رمضان المبارک کو محروم علاقوں میں رضاکارانہ طور پر تبلیغی اور ثقافتی سرگرمیوں میں مصروف عمل رہنے والے تین دینی علماء پر چاقو سے حملہ کیا گیا جو کہ ایک دردناک سانحہ ہے کیونکہ رمضان المبارک اور حرم کی بے حرمتی کی گئی ہے۔

سنی عالم دین مولوی سلامی نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ ان تکفیری مجرموں نے اسلامی، انسانی اور اخلاقی اصولوں کی واضح طور پر خلاف ورزی کی ہے، کہا کہ یہ ناقابل معافی جرم ہے، لہذا ہم حکام بالا سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ بہت جلد ان مجرموں کو قرار واقعی سزا دیں۔

انہوں نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ ان تکفیری سوچ کے حامل افراد کا ہدف امت اسلامیہ کے درمیان اختلافات کو ہوا دینا ہے، مزید کہا کہ ایرانی عوام نے انقلاب کے بعد ایسے بہت سے جرائم دیکھے ہیں لیکن ان کے عزائم کو خاک میں ملا دیا ہے اور امت کے درمیان اتحاد و وحدت کے لئے جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہے اور وحدت و اتحاد کی راہ میں مزید جدوجہد جاری رکھیں گے اور دشمنوں کے ناپاک عزائم کو کامیاب ہونے نہیں دیں گے۔

اہل سنت امام جمعہ شہرستان میرجاوه مولوی عبدالرحیم ریگیان پور نے اس گھناؤنے فعل کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ تکفیری سوچ کے حامل افراد کے توسط سے حرم امام رضا علیہ السلام میں پیش آنے والا واقعہ قابل مذمت ہے اور اہل سنت کی نگاہ میں یہ واقعہ مقامات مقدسہ کی توہین ہے اور ہم اس واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔

انہوں نے اس بات پر تاکید کرتے ہوئے کہ اہل بیت علیہم السلام کی محبت کے حوالے سے شیعہ اور سنی میں کوئی فرق نہیں ہے، مزید کہا کہ اہل سنت امام رضا علیہ السلام سے خاص عقیدت رکھتے ہیں۔

سنی عالم دین نے اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ دہشتگردوں اور تکفیری ٹولوں کے لئے اہل سنت میں کوئی جگہ نہیں ہے، کہا کہ ہم عدلیہ سے پرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ جو بھی ملک میں شیعہ اور سنی عوام کے اتحاد، یکجہتی اور بھائی چارے کو نقصان پہنچاتا ہے اور ان کی امن و امان میں خلل ڈالتا ہے اس کے خلاف اسلامی انصاف کے ساتھ فیصلہ کن کارروائی کرے۔

امام جمعہ اہل سنت شہر سرباز مولوی عنایت اللہ رسولی زاده نے واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ مقاماتِ مقدسہ کی توہین اور وحدت و اتحاد کو پارہ کرنا اہل سنت کے نزدیک حرام اور قابل مذمت ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہم اہل سنت، اہل بیت علیہم السلام سے محبت کرتے ہیں اور ہمارے بچوں کے زیادہ تر نام اہل بیت (ع) سے منسوب ہیں اور ہمیں ان ناموں پر فخر ہے، جو بھی پیغمبرِ اسلام کو اہل بیت (ع) سے جدا تصور کرتا ہے وہ مسلمان نہیں ہے اور اہل سنت اس سے نفرت کرتے ہیں۔

سنی عالم دین نے مزید کہا کہ ایران کے اہل سنت معاشرے نے کبھی تکفیریت اور وہابیت کی حمایت نہیں کی ہے اور نہ ہی حمایت کریں گے، کیونکہ اہل سنت کی راہ تکفیریت اور وہابیت سے مختلف ہے، ہم اس ملک میں رہتے ہیں اور اس کے قانون کی پاسداری اور رہبرِ انقلابِ اسلامی کی پیروی کرتے ہیں اور ہم کبھی بھی شدت پسندوں اور تکفیریوں کے ساتھ نہیں چلیں گے۔

انہوں نے واضح طور پر بیان کیا کہ دشمن مذاہب اور اسلامی قوموں کے درمیان تفرقہ ڈالنا چاہتے ہیں لیکن اسلامی جمہوریہ ایران کی ذہین قوم اس طرح کی سازشوں کا کبھی بھی حصہ نہیں بنیں گی۔

لیبلز

تبصرہ ارسال

You are replying to: .
4 + 13 =