۶ تیر ۱۴۰۱ |۲۷ ذیقعدهٔ ۱۴۴۳ | Jun 27, 2022
عرفان حیدر

حوزہ/آج کی دنیا میں ٹیکنالوجی کی ترقی اور تیز رفتار کمیونیکیشن کی وجہ سے لوگوں کا ایک دوسرے کے ساتھ رابطے کا سلسلہ انتہائی آسان ہوچکا ہے، یہی وجہ ہے کہ نسل جدید کی زندگی کا آدھا حصہ سوشل میڈیا پر گزر جاتا ہے-

تحریر: عرفان حیدر بشوی

حوزہ نیوز ایجنسی آج کی دنیا میں ٹیکنالوجی کی ترقی اور تیز رفتار کمیونیکیشن کی وجہ سے لوگوں کا ایک دوسرے کے ساتھ رابطے کا سلسلہ انتہائی آسان ہوچکا ہے، یہی وجہ ہے کہ نسل جدید کی زندگی کا آدھا حصہ سوشل میڈیا پر گزر جاتا ہے-
مشاہدہ یہ ہے کہ ذیادہ لوگ بغیر کسی مقصد کے فقط وقت گزرانی اور تفریح طبع کے لئے سوشل میڈیا کا بے دریغ استعمال کرتے ہیں جو ہماری نظر میں ضیاع عمر کا مترادف ہے- ہاں اس کی اہمیت اور آداب سے واقفیت حاصل کرکے مثبت سرگرمیوں کے لئے استعمال کرنا نہ صرف غیر سنجیدہ کام نہیں بلکہ یہ دانشمندانہ اور انتہائی مفید وسرعت سے نتیجہ دینے والا کام ہے- ہم اس مختصر تحریر میں ہم اپنے معزز قارئین کی خدمت میں سوشل میڈیا سے متعلق کچھ سماجی آداب کا تعارف پیش کریں گے-

ایک سوشل ورکر کے لیے ان آداب کا خیال رکھنا انتہائی اہم اور ضروری ہے۔

1۔اپنی زندگی کے اخلاقی معیاروں کو سوشل میڈیا پر بھی اعمال کریں-

یعنی سوشل میڈیا پر بھی آپ کا اخلاق،آپ کی گفتار و رفتار وہی ہونا چاہیے جو عملی اورحقیقی زندگی میں آپ کی پہچان ہے- سوشل میڈیا کے ذریعے ہم ایک دوسرے سے جسمانی طور پر ملنے کے بجائے فاصلے پر رہ کر بات کرتے ہیں۔ اگر آپ اپنی حقیقی زندگی میں اپنے دوست و احباب کے ساتھ بہتر طریقے سے تعلق برقرار رکھتے ہیں تو سوشل میڈیا پر بھی بالکل ایسے ہی تعلقات برقرار رکھنا چاہیے۔

2۔سوشل میڈیا پر انسان کی رفتار اور گفتار دوستانہ ہونا چاہیے:

جب ہم کسی کو کوئی پیغام (sms، voice message, Eimil, video messages, یا جو بھی مسیج بھیجیں سینڈ کرنے سے پہلے یہ ضرور سوچنا چاہیے کہ اگر میرے مدمقابل شخص یہی پیغام میرے لیے بھیج دے تو اس وقت میرا ری ایکشن کیا ہوگا؟؟
لہذا ہمارا رویہ سوشل میڈیا پر بلکل ایسا ہونا چاہیے جیسے ہماری روزہ مرہ زندگی میں ہوتا ہے- یاد رکھیں جب کوئی پیغام بھیج رہا ہوتا ہے یا کوئی کمنٹس دے رہا ہوتا ہے تو اسے اس بات کی طرف متوجہ رہنا چاہیے کہ اس کے ساتھ ہماری دوبارہ ملاقات ہوگی۔
3. فوری طور پر کچھ بھی شیئر نہ کریں:

چونکہ سوشل میڈیا پر ہم ایک بات کو انتہائی تیزی کے ساتھ پوری دنیا میں پھیلا سکتے ہیں اور تقریبا سبھی کو ہم اس سے مطلع کرسکتے ہیں لہذا کوئی بھی بات کرنے سے پہلے یا کوئی بھی پوسٹ کرنے سے پہلے ہمیں چاہیے پہلے درست غور و فکر کریں اس کو خوب پرکھیں اس کے بعد ہی پوسٹ کرنا چاہیے- یہ ہرگز درست کام نہیں کہ جو بھی چیز ہمارے ہاتھ لگ جائے ہم اسے فورا سوشلائز کردیں پس ہمیں چاہیے کہ ہر مطلب کو فورا سوشلایز نہ کریں کیونکہ بعض اوقات ہوتا یہ ہے کہ ہمیں اس چیز کے بارے میں علم نہیں ہوتا وہ صرف سنی سنائی باتیں ہوتی ہیں-جب ہم بغیر تحقیق کے فورا اسے انٹرنٹ پر ڈال دیتے ہیں تو بعض اوقات ہمارے اس غیر سنجیدہ پوسٹ کی وجہ سے کئی لوگ،گاوں آپس میں لڑائی جھگڑے کا شکار ہوسکتے ہیں، کئی لوگوں کی گھریلو زندگی تباہ و برباد ہوسکتی ہے جس سے خود ہمیں دوسروں کے سامنے شرمندگی اور زلت وخواری کا سامنا کرنا پڑھ سکتا ہے لہذا پوسٹ کرنے سے پہلے ہرطرح سے سوچنا ضروری ہے۔

خلاصہ:

انسان کو چاہئے کہ سوشل میڈیا سے درست استفادہ کرے -سوشل میڈیا فساد پھیلانے کا سبب نہیں ہونا چاہیے ،بلکہ آپ اسی سوشل میڈیا کے ذریعے علاقے کی محرومیوں کو پوری دنیا اورحقوق بشر کے علمبرداروں تک پہنچا کر اپنی مشکلات اور محرمیوں کا ازالہ کرانے میں کردار ادا کرسکتے ہیں- خبردار! کبھی بھی ایسا پیغام یا ایسا پوسٹ نہ کرے جس کی وجہ سے علاقے کی بدنامی کا سبب بن جائے یا کسی شخصیت کی توہین ہوجایے سوشل میڈیا کو درست طریقے سے استعمال کرنا خود بھی سیکھیں اور اپنے بچوں کو بھی سیکھائیں۔

وماعلینا الا البلاغ المبین

نوٹ: حوزہ نیوز پر شائع ہونے والی تمام نگارشات قلم کاروں کی ذاتی آراء پر مبنی ہیں حوزہ نیوز اور اس کی پالیسی کا کالم نگار کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

تبصرہ ارسال

You are replying to: .
4 + 1 =