۵ تیر ۱۴۰۱ |۲۶ ذیقعدهٔ ۱۴۴۳ | Jun 26, 2022
آیت اللہ حافظ ریاض نجفی

حوزہ/ وفاق المدارس الشیعہ پاکستان کے صدر نے خطبہ جمعہ میں کہا کہ آج مسلمان قوم اگر دنیا پر حکومت ،آخرت میں کامیابی اور جنت چاہتی ہے تو قرآن و اہل بیت کا دامن تھام لے۔ قرآن اور اہل بیت کی تعلیمات پر عمل کرنا شروع کر دے تو اس قوم کی کایا پلٹ جائے گی۔ ورنہ مسلمان اس دنیا میں بھی ذلیل و خوار اور آخرت میں بھی رسوا ہوں گے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق،لاہور/ وفاق المدارس الشیعہ پاکستان کے صدر آیت اللہ حافظ سید ریاض حسین نجفی نے کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کو انسانوں کی فلاح و بہبود ، دنیا و آخرت کی کامیابی کے لئے ایک جامع آئین اور دستور بنا کر بھیجا ہے۔ آج مسلمان قوم اگر دنیا پر حکومت ،آخرت میں کامیابی اور جنت چاہتی ہے تو قرآن و اہل بیت کا دامن تھام لے۔ قرآن اور اہل بیت کی تعلیمات پر عمل کرنا شروع کر دے تو اس قوم کی کایا پلٹ جائے گی۔ ورنہ مسلمان اس دنیا میں بھی ذلیل و خوار اور آخرت میں بھی رسوا ہوں گے۔ حضرت امام باقرؑ اور امام جعفر صادق ؑ نے مدینہ منورہ میں ایک بین الاقوامی یونیورسٹی قائم کی تھی۔ آج ہمارے مسلمان طلباء بیرون ملک پڑھتے ہیں چونکہ مسلمانوں نے تعلیمات قرآن و اہل بیت کو پس پشت ڈال کر خود ٹکڑوں اور فرقوں میں بٹ گئے اورایک دوسرے کے خلاف فتویٰ بازی شروع کردی ۔فرقہ وارانہ دہشت گردی کے سبب پاکستان میں مکتب اہل بیت کے 70 سے 80ہزار پیرو کار شہید کئے گئے ۔

جامع علی مسجد جامعة المنتظر میں خطبہ جمعہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا آیات الٰہی حکمت سے بھر پور ، محکم اور متقن ہیں کہ باطل نہ ان کے سامنے سے حملہ آور ہو سکتا ہے اور نہ پیچھے سے۔ یہ آیات انسانوں کوجہالت کے گھٹاٹوپ اندھیروں سے نکال کرروشنی ، علم اور نور کی طرف لے جاتی ہیں۔اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کو انسانوں کی فلاح و بہبود اور دنیا اور آخرت کی کامیابی و کامرانی کے لئے ایک جامع آئین اور دستور بنا کر بھیجا۔ اور گویا فرمایا: اے مسلمانو! کلمہ پڑھ لینے کے بعد تم پر فرض ہے کہ اپنی زندگی کے تمام شعبوں ( انڈسٹری، حکومت و سیاست، ادارے، پیشے اور دوسرے کاموں ) میں قرآن کو نافذ کردو اور اس کے احکام کے مطابق عمل کرتے چلے جاو۔ اگر ایسا کیا تو یقین جانو! ساری کائنات آپ کی مسخر اور مطیع ہو جائے گی۔ اگر تم اپنے جسم اور آفاق میں غور و فکر کرو تو پتا چلے گا کہ کتنی حکمتیں اللہ نے ان دونوں چیزوں میں رکھ دی ہیں۔

انہوں نے کہا حضرت امام باقرؑ اور امام جعفر صادق ؑ نے مدینہ منورہ میں ایک بین الاقوامی یونیورسٹی قائم کی تھی۔ جس میں مسلمانوں اور مومنین کے علاوہ مختلف مذہب و ملت کے افراد بھی پڑھتے تھے کہ جن کی تعداد تاریخ کے مطابق چارہزار تھی۔ مسلم ، یونس، زرارہ کے علاوہ جابر بن حیان کہ جس نے اپنی تحقیقات سے متعلق چار سو رسالے لکھے۔ اس وقت دنیا بھر سے لوگ مسلمانوں کے پاس علم سیکھنے کے لئے آتے تھے لیکن آج اس کے بر عکس ہے کہ مسلمان طالب علم مغرب میں تعلیم حاصل کرنے جاتے ہیں۔یہ سب اس لئے ہوا چونکہ مسلمانوں نے تعلیمات قرآن و اہل بیت کو پس پشت ڈال دیا اور خود ٹکڑوں اور فرقوں میں بٹ کر اور دوسرے کے خلاف فتویٰ بازی شروع کردی اور جس کے سبب پاکستان میں ہمارے ستر سے اسی ہزار لوگ مارے گئے ۔ پاکستان سونا ہے ، اس کے پاس قدرتی ذخائر موجود ہیں اس کے باوجود ترقی نہیں کررہاہے۔

ان کا کہنا تھا کہ مسلمانوں کی تباہی کا زمانہ تو اس وقت سے شروع ہو گیا تھا ، جس وقت رسول اعظم کی آنکھ بند ہوئی اور لوگوں نے اہل بیتؑ کو چھوڑ دیا۔امیر المو ¿منین کو کوئی سلام تک نہیں کرتا تھا۔ البتہ جب اسلام پر وقت آتا تھا تو حضرت علی ؑ حکومتی اور دیگر مسائل حل کر دیا کرتے تھے۔ اس کے باوجود پچیس سال تک آپ نے گمنامی کی زندگی گزاری۔ حالانکہ رسول اکرم نے مختلف مقامات ، مختلف الفاظ میں اور مختلف اوقات میں اپنے جانشینوں قرآن و اہل بیت ؑ کا تعارف کراتے ہوئے فرمایا: “میں تمہارے درمیان دو گرانقدر چیزیں: اللہ کی کتاب اور عترت یا اہل بیتؑ چھوڑے جا رہا ہوں۔ اگر ان دونوں سے متمسک رہو گے تو ہرگز گمراہ نہیں ہوگے۔ قرآن اور اہل بیت بھی قیامت تک ایک دوسرے سے الگ نہیں ہونگے ، یہاں تک کہ حوض کوثر پر میرے پاس وارد ہوں گے۔

تبصرہ ارسال

You are replying to: .
4 + 8 =