۱۰ بهمن ۱۴۰۱ |۸ رجب ۱۴۴۴ | Jan 30, 2023
صیہونی رجیم

حوزہ/ امریکی استکبار اور برطانوی استعمار کا عرب بادشاہتوں کو دھونس دھمکی کے ذریعے ناجائز صیہونی ریاست کے ساتھ تعلقات کی نارملائزیشن کا پروجیکٹ بری طرح فیل ہوچکا ہے جس کا اظہار خود صیہونی سفارت کار بھی کر چکے ہیں۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق،بالفور ڈیکلریشن کے ذریعے فلسطین پر ناجائز قبضہ جمانے والے خونخوار صیہونی کارپردازوں نے عرب ممالک کے کٹھ پتلی شیوخ کو امریکا بہادر کی شہ پر ڈرا دھمکا کر صدی کی ڈیل جیسے معاہدے کر کے یہ سوچا تھا کہ غاصب صیہونی رجیم کے عرب ملکوں کے ساتھ تعلقات معمول پر لے جانے میں انہیں کامیابی مل چکی ہے۔

لیکن وہ اس حقیقت کو سمجھنے سے قاصر رہے کہ مسلم ممالک کے کٹھ پتلی آمروں اور خیانت کار عرب حکمرانوں کے ساتھ کئے جانے والے کاغذی معاہدوں کو ان ممالک کے غیور عوام جوتی کی نوک پر رکھتے ہیں جس کا مشاہدہ قطر ورلڈ کپ میں صیہونی صحافیوں کو کرنا پڑا۔

خیال رہے کہ امریکی استکبار اور برطانوی استعمار کا عرب بادشاہتوں کو دھونس دھمکی کے ذریعے ناجائز صیہونی ریاست کے ساتھ تعلقات کی نارملائزیشن کا پروجیکٹ بری طرح فیل ہوچکا ہے جس کا اظہار خود صیہونی سفارت کار بھی کر چکے ہیں۔

فارس نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق صیہونی حکومت کے سابق سفیر اسحاق لیوانون نے عبرانی اخبار "معاریو" میں شائع اپنے ایک نوٹ میں اس بات پر تشویش کا اظہار کیا ہے کہ "صیہونی حکومت کی طرف سے بعض عرب ممالک کے حکمرانوں کے ساتھ کئے گئے معاہدوں کو ان ممالک کے عوام نے قبول نہیں کیا ہےاور یہ بات قطر میں ہونے والے ورلڈ کپ میں سامنے آئی ہے کہ ان ممالک کے لوگ ہمارے ساتھ نارمل ہونے کو مسترد کرتے ہیں۔

وہ صہیونی صحافیوں کو نہ صرف انٹرویو نہیں دیتے ہیں بلکہ ان کے سامنے فلسطین کی حمایت میں ہاتھوں میں فلسطینی پرچم تھامے نعرے لگاتے ہیں۔

قابل غور بات یہ ہے کہ عرب فٹ بال ٹیموں کے کھلاڑی بھی اپنے سمجھوتہ کرنے والے حکمرانوں کی رائے کے برعکس سٹیڈیمز میں فلسطینی قوم کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہیں جس کی واضح مثال مراکش کی قومی ٹیم کے کھلاڑیوں کی فلسطینی قوم کے ساتھ یکجہتی ہے۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ صہیونیوں اور عرب حکمرانوں کے درمیان سمجھوتہ کرنے والے معاہدوں کی عرب اقوام میں کوئی جگہ نہیں ہے"۔

واضح رہے کہ بعض عرب ممالک کے حکمراں اپنی بادشاہتوں اور امارتوں کے تحفظ کی بھیک میں غاصب اسرائیل کو تسلیم کرنے کی شرمناک خیانت کے مرتکب ہوئے ہیں

لیکن مسلم ممالک کے غیرت مند عوام نے عرب شیوخ کی فلسطین کے ساتھ کی جانے والی اس خیانت پر غم وغصے کا اظہار کرتے ہوئے فلسطینی پرچم اٹھا کر غاصب صیہونی رجیم اور اس کے کاسہ لیس ڈکٹیٹروں کو یہ پیغام دیا ہے کہ طفل کش صیہونی رجیم کے ساتھ کئے جانے والے ان سمجھوتوں کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے۔

لیبلز

تبصرہ ارسال

You are replying to: .
1 + 3 =