۱۰ خرداد ۱۴۰۳ |۲۲ ذیقعدهٔ ۱۴۴۵ | May 30, 2024
بنگلور قاسم سلیمانی

حوزہ/ انجمن امامیہ کی جانب سے مسجد عسکری بنگلور میں یادِ شھداء کی مناسبت سے ”سیمنار و مجلسِ عزإ براہِ ایصال ثواب شھدائے اسلام“ کا اہتمام کیا گیا۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ہندوستان کے مشہور IT سٹی بنگلور میں سنیچر کے دن بعد از نماز مغربین انجمن امامیہ کی جانب سے مسجد عسکری بنگلور میں یادِ شھداء کی مناسبت سے ”سیمنار و مجلسِ عزإ براہِ ایصال ثواب شھدإ اسلام“ کا اہتمام کیا گیا جس کی صدارت امام جمعہ و جماعت مسجد عسکری مولانا سید قمر نقوی صاحب نے کی اور نظامت کے فرائض مولانا میر اعظم علی جعفری صاحب نے انجام دی۔

اس مناسبت پر مولانا غلام حسین معصومی، مولانا سید منظور رضا عابدی، مولانا میر قاٸم عباس نے شھدائے اسلام کی حیات طیبہ کے مختلف گوشوں پر روشنی ڈالی۔

مولانا میر اطاعت علی عابدی صاحب نے فرمایا کہ شھید سردار امام زمانہ عج کی الہی و عالمی حکومت کے ایک نمونہ تھے اسلے کہ شھید بظاہر ایران سے تعلق رکھتے تھے لیکن جب چاہتے تھے تو ایران،لبنان، عراق و شام مقاومت کیلۓ تشریف لے جاتے تھے چونکہ امام عصر عج کی حکومت عالمی ہوگی اور بنا کسی سرحد کے

جواں سال عالم دین عابد علی مرزا نمائندہ آیت اللہ یعقوبی نے اس مناسبت سے خطاب کرتے ہوٸے کہا کہ آج جو دنیا میں شھداء کا چرچہ ہورہا ہے یہ اس قرآنی اصول کی بدولت ہے کہ ان شھداء نے اللہ کے نام کیلے جان دی اسلٸے اللہ نے ان کا ذکر کو زندہ رکھا۔

مولانا افسر علی نے شھید سردار کا وصیت نامہ پڑھتے ہوٸے نقل کیا کہ ”میں سید علی خامنہ کو بہت تناہ اور مظلوم محسوس کرتا ہوں انہيں آپ کی ہمراہی و نصرت کی ضرورت ہے، آپ سب معززین اپنی تقاریر و ملاقات اور رھبر کی حمایت کے ذریعہ معاشرہ کو صحیح سمت پر گامزن کرسکتے ہے“۔

آخر پر امام جمعہ و جماعت مسجد عسکری بنگلور مولانا سید قمر نقوی نے مختصر شھدائے راہِ حق خصوصاً شھید باقر النمرؒ، شھید ابومھدی المہندس و شھید سردار سلیمانی کی زندگی پر روشی ڈالی اور مصائب آل محمد (ع) سے سیمنار کا اختتام کیا۔

لیبلز

تبصرہ ارسال

You are replying to: .