۲ اردیبهشت ۱۴۰۳ |۱۲ شوال ۱۴۴۵ | Apr 21, 2024
شہادت

حوزه/ جہاد، عربی زبان کا لفظ ہے ، جو اصل میں "ج ہ د" سے لیا گیا ہے اور اس کا معنی کوشش، تلاش، کام میں جدت، کسی چیز کی انتہا تک پہنچنا اور طاقت و توانائی ہے۔

تحریر: بشری علوی

حوزہ نیوز ایجنسی |

مقدمہ:

جہاد اور شہادت ایک ایسا موضوع ہے جس پر ہزاروں کتابیں اور لاکھوں تقریریں موجود ہے۔ اس سے اس موضوع کی اہمیت کا اندازہ ہو جاتا ہے۔ یہ ایک ایسا موضوع ہے جو انسان کو ہمیشہ متحرک رکھتا ہے۔ جو انسان کمال کی طرف بڑھنا چاہے تو اس کےلئے ممکن ہی نہیں وہ جہاد کے بغیر کمال تک پہنچ جائے۔ جہاد فقہی، جہاد علمی، جہاد لسانی، جہاد قلمی یہ سب نوع جہاد انسان کو عمل پہ ابھارتا ہے۔ انسان کو مقصد اور منزل کی طرف نکل پڑھتا ہے۔ اسکا راستہ بہت ہی پر طر راستہ ہے۔ ہر قدم پر شہادت کا موقع میسر ہے۔ جہاد کی کامیابی کا طر امتیاز ہی شہادت ہے۔ اسی لئے علی علیہ السلام نے کہا "فزت و رب الکعبہ" رب کعبہ کی قسم علی آج کامیاب ہوا۔ اس مختصر مقالے میں اس موضوع پر چند عرائض پیش کریں گے۔

کلیدی الفاظ:
جہاد، شہادت، امیر المومنین علی علیہ السلام، اکبر، اصغر

جہاد کا لغوی معنی:

جہاد، عربی زبان کا لفظ ہے ، جو اصل میں "ج ہ د" سے لیا گیا ہے اور اس کا معنی کوشش، تلاش، کام میں جدت، کسی چیز کی انتہا تک پہنچنا اور طاقت و توانائی ہے۔

جہاد کا اصطلاحی معنی:

خاص قسم کی کوشش جو اللہ تعالی کی راہ میں اپنی جان، مال اور اپنی تمام دارائی کو صرف کر کے اسلام کو پھیلانے یا اس سے دفاع کرنے کے لئے مبارزہ اور مقابلہ کرنا کے ہیں، اور جو اس راہ میں مارا جائے اسے شہید کہتے ہیں، شہید کیلئے خدا فرماتا ہے کہ وہ زندہ ہے, اسے مردہ خیال نہ کرو۔ جیسا کہ حکم خدا ہے؛ وَ لَا تَحۡسَبَنَّ الَّذِیۡنَ قُتِلُوۡا فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ اَمۡوَاتًا ؕ بَلۡ اَحۡیَآءٌ عِنۡدَ رَبِّہِمۡ یُرۡزَقُوۡنَ﴿سورہ آل عمران ۱۶۹﴾ۙ
( اور جو لوگ راہ خدا میں مارے گئے ہیں قطعاً انہیں مردہ نہ سمجھو بلکہ وہ زندہ ہیں، اپنے رب کے پاس سے رزق پا رہے ہیں۔)

جہاد کی اہمیت:

حادیث کے مطابق راہ خدا میں جہاد کرنا برترین کاموں میں سے ہیں اور ایک شہید مجاہد کا اخروی صلہ یوں ہے کہ وہ جہاد اور شہادت کی آرزو اور تمنا دوبارہ کرتا ہے.

امام علی(ع): کہ جہاد بہشت کا ایک دروازہ ہے کہ جس کو خداوند نے اپنے خاص اولیاء کے لئے کھول رکھا ہے. جہاد تقوا کا لباس اور خداوند کی محکم زرہ ہے.
پیغمبر اکرم(ص): خداوند کی راہ میں ایک رات چوکیداری کرنا ان ہزار راتوں سے بہتر ہے جو کہ پوری رات عبادت اور پورا دن روزے میں گزرا ہو.

جہاد کی قسمیں:

جہاد دو طرح کا ہوتا ہے ایک جہاد اصغر اور دوسرا جہاد اکبر۔
جہاد اصغر یعنی جو خدا کی خاطر اسلام کے دفاع کیلئے جنگ کی جائے۔
جہاد اکبر یعنی انسان اپنے نفس امارہ کے ساتھ جنگ کرے۔ انسان اپنے خواہشات کو کچل دے۔ خدا نے جو راستہ بتایا ہے اسی پہ چلے۔ مصیبت، مشکلات، خوف، ڈر ہر صورت میں اپنے نفس کے ساتھ لڑ کے خداوند متعال کی حکم کی بجاآوری کا نام جہاد اکبر ہے۔

حضرت علی اور جہاد اکبر:

امام علی علیہ السلام نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ کے ساتھ بہت سی جنگوں میں حصہ لیے اور دین اسلام کی بقا کیلئے دشمنان دین اور کفار کے ساتھ جنگ کی لیکن ایک جنگ جس میں امام علی علیہ السلام کے بارے میں معلوم ہوتا ہے کہ آپ ع جہاد اکبر کے اعلی درجہ پر فائز تھے۔
جیسے تاریخ میں ملتا ہے کہ عمرو ایسا طاقتور پہلوان تھا۔ جیسے "فارس یل یل" کہتے تھے۔ جو ہزار انسانوں کے ساتھ تنہا لڑتا تھا۔
جب جنگ خندق میں مسلمان خندق کے اس طرف اور دشمن خندق کے اس پار تھا دشمن نے خندق پار کرنے کی کوشش کی لیکن بے سود آخر عمر بن عبدود سمیت چند لوگ کسی نہ کسی طرح خندق پار کرنے میں کامیاب ہو گئے۔
اس نے گھوڑے کو جولان دی اور بلند آواز سے "ھل من مبارز؟"(کوئی مقابلہ کرنے والا ہے)کہا چونک مسلمانوں کو اس کی طاقت کا پہلے سے علم تھا کسی کو اس کے ساتھ مقابلہ کرنے کے لیے میدان جنگ میں جانے کی جرات نہ ہوئی کیونکہ وہ جانتے تھے جاتے ہی مارے جائیں گے۔
پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
کون اس شخص کا مقابلہ کرنے کے لیے میں جاتا ہے ؟ کسی نے کوئی جواب نہ دیا سوائے بیس پچیس سال کے ایک نوجوان نے اور وہ علی ابن ابی طالب تھے۔
عرض کیا: یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں حاضر ہوں۔
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں تم بیٹھ جاؤ۔
تین چار مرتبہ عمرو نے مبارز طلبی کی لیکن سوائے امام علی علیہ السلام کے کسی نے جواب نہیں دیا۔
جب امام علی علیہ السلام میدان میں آئے عمرو جو پچھاڑ کر اس کے سینے پر چڑھ گئے ،چاہتے تھے کہ اس کا سر بدن سے جدا کردیں کہ عمرو گستاخی کرتے ہوئے امام علی علیہ السلام کے چہرہ مبارک پر تھوک دیا ، آپ اس کے اوپر سے اٹھ کھڑے ہوئے اور ٹہلنے لگا گئے اور کچھ دیر کے بعد دوبارہ آئے اور اس کے سینے پر سوار ہو گئے
عمرو نے پوچھا ! کیوں اٹھے اور پھر کیوں آگئے ؟ آپ علیہ السلام نے فرمایا: تو نے میرے منہ پر لعاب پھینکا تو میں غصے میں آگیا، مجھے اس بات کا خوف ہوا کہ اگر اسی غصے کی حالت میں تیرا سر تن سے جدا کروں تو اس میں خواہشات نفسانی دخل ہوگا، لہٰذا ہٹ گیا اب جب کہ وہ حالت ختم ہوگئی ہے دوبارہ آگیا ہوں میں خدا کی راہ میں تلوار چلاتا ہوں، نہیں چاہتا کہ اس میں کوئی غیر خدا شامل ہو۔ (ھجرت اور جہاد شہید مطہری ص15)

جہاد کی ایک معنی یہی ہوئی کہ خواہشات نفسانی کا مقابلہ کرنا۔
امام علی علیہ السلام کے اس واقعے سے واضح ہے کہ آپ کی نظر میں جہاد کی کتنی اہمیت ہیں۔ آپ علیہ السلام جہاد اکبر میں بھی اور اصغر میں بھی کسی غیر خدا یا اپنی نفسانی خواہش کو شامل نہیں کیا بلکہ خالص قربۃ الی اللہ انجام دی۔
جب انسان بھی جہاد نفس میں کامیاب ہوجاتا ہے تو وہ شهادت کے عظیم رتبہ پر فائز ہوجاتا ہے۔

شہادت اور شہید کا معنی:

شہادت اللہ کی راہ میں مارے جانے کو کہا جاتا ہے اور جو اللہ کی راہ میں قتل ہوتا ہے اسے شہید کہا جاتا ہے۔ فقہ میں شہید اس مسلمان کو کہا جاتا ہے جو جنگ کے میدان میں کافروں کے ہاتھوں قتل ہوتا ہے۔ تفسیر نمونہ میں شہادت کے لئے دو معنی؛ عام اور خاص ذکر کیا ہے۔ خاص معنی وہی فقہی معنی ہے اور عام معنی یہ ہے کہ انسان اللہ کی راہ میں اپنی ذمہ داریاں نبھاتے ہوئے مارا جائے یا مرجائے۔ اسی لئے وہ طالب علم جو طلب علم کی راہ میں دینا سے چلا جائے، یا کوئی بیماری کے بستر پر جان دیدے جبکہ اللہ، رسولؐ اور اہل بیتؑ کی معرفت رکھتا تھا، حملہ آورں کے مقابلے میں اپنے مال کا دفاع کرتے ہوئے مارا جائے وغیرہ کو بھی روایات میں شہید جانا گیا ہے۔

شہادت کی اہمیت:

شہادت ایک ایسا عظیم رتبہ ہے جو ہر کسی کو نصیب نہیں ہوتا ۔ یہ فقط انہیں نصیب ہوتا ہے جس کو خدا انتخاب کرکے اسے پرواز عطا کرے یہ پرواز تب حاصل ہوگی جب وہ جہاد اکبر کے درجہ پر فائز ہونگے ۔ عاشق خدا اور نفس امارہ سے جہاد کرنے کے عاشق کو ہی خدا یہ منصب، رتبہ، فضلیت اور مقام عطاء کرتا ہے۔

امیرالمومنین (ع) نھج البلاغہ خطبہ ۱۵۶ شهادت کے بارے میں ارشاد فرماتے ہیں کہ!
,, میں نے رسول خدا (ص) سے کہا اے پیغمبر خدا(ص) کیا آپ نے جنگ احد کے دن کہ جب چند اصحاب ( مسلمان ) درجہ شہادت پر فائز ہوئے اور مجھے شہادت نصیب نہ ہوئی کہ جو مجھ پر بڑا گراں گزرا تو آپ(ص) نے اس وقت مجھے کہا تھا کہ ( اے علی (ع) ) تمہیں آنے والے دنوں میں شہادت نصیب ہوگی۔
اس کے بعد مولا (ع) فرماتے ہیں کہ رسول خدا (ص) نے مجھ سے فرمایا کہ ,, ایساہی ہوگا کہ تم شہادت پاؤ گے ۔ جب تم شہادت کے درجے پرفائز ہوگے تو اس وقت تمہارے صبر کا کیا عالم ہوگا ؟
میں نے رسول (ص) کو جواب دیا کہ اے پیغمبر خدا (ص) شہادت، صبر کا مقام نہیں بلکہ خوشی اور شکر کا مقام ہے۔
امام علی علیہ السلام کی نگاہ میں شہادت شکر اور خوشی مقام ہے مولا کو شہادت سے بہت انسیت تھی اور شہادت کے طلبگار تھے۔
اور جب مولا امیرالمومین (ع) کو ۱۹ رمضان کی شب، ابن ملجم کے ضربت کے بعد مشہور معروف جملہ (فزت و رب الکعبۃ) اپنی زبان سے جاری فرمایا۔
تو ایک دلیل ہے کہ : امام علی علیہ السلام کی نگاہ میں شہادت، شہد کی طرح شیرین و خوبصورت ہیں۔
یہ ایک ایسا احساس ہے جس کو درک کرنے کے لیے پہلے خود کو شہید ہوکر رہنا پڑتا ہے، اپنی تمام خواہشات ، مال و دولت، اپنے عزیز و اقارب سب کو پہلے خدا کی راہ میں قربان کرنا پڑھتا ہیں ، اور اپنا ہر عمل خدا کیلئے انجام دیتا ہے۔ اس کے بعد وہ شہادت کی شیریں لذت کو محسوس کرتا ہیں۔

خداوند متعال ہم سب کو شہادت جیسی عظیم نعمت عطا فرمائے آمین۔

منابع:
1۔ قرآن مجید
2۔ تفسیر نمونہ
3۔ نہج البلاغہ
4۔ جہاد و ھجرت (شہید مطہری)
5۔ فلسفہ شہادت (شہید مطہری)

لیبلز

تبصرہ ارسال

You are replying to: .