۳۱ اردیبهشت ۱۴۰۳ |۱۲ ذیقعدهٔ ۱۴۴۵ | May 20, 2024
رئیسی

حوزہ/ ایرانی صدر کے دورہ شام پر صہیونی میڈیا کا مسلسل رد عمل جاری ہے اور تجزیہ کار اس واقعہ کو مزاحمتی محاذوں کی کامیابی قرار دیتے ہوئے اسے اسرائیل کی کمزوری اور تل ابیب کے ہاتھوں سے مواقع کھو جانے سے تعبیر کیا ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی صدر کے دورہ شام پر صہیونی میڈیا کا مسلسل رد عمل جاری ہے اور تجزیہ کار اس واقعہ کو مزاحمتی محاذوں کی کامیابی قرار دیتے ہوئے اسے اسرائیل کی کمزوری اور تل ابیب کے کھوئے ہوئے مواقع" سے تعبیر کیا ہے۔

اسرائیلی نیٹ ورک "کان" کے عرب دنیا کے سیکشن کے سربراہ "روئی قیس" نے اپنے ٹویٹر پیچ پر لکھا: رئیسی نے اپنے شام کے دورے کے بارے میں بات کی اور المیادین نیٹ ورک کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا: ہم تمام مزاحمتی محاذوں کے کی کھلی حمایت کرتے ہیں اور میرا شام کا دورہ بھی اسی حمایت کے سلسلے میں ہے، ہم مزاحمتی محاذ کو اور مضبوط کرنے کی کوشش کریں گے اور ہم کبھی پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

گزشتہ شب المیادین نیٹ ورک کے ساتھ خصوصی انٹرویو میں ایران کے صدر نے ایران اور سعودی عرب کے قریبی تعلقات کی تفصیلات، شنگھائی کی تنظیم میں ایران کی شمولیت اور شام کے ساتھ دو طرفہ تعلقات سمیت کئی سیاسی معاملات پر بات کی۔

تل ابیب کی صورتحال کے بارے میں ایران کے صدر نے المیادین کے ساتھ انٹرویو میں اس بات پر تاکید کی کہ آج اختیار اور فیصلہ فلسطینی مجاہدین کے ہاتھ میں ہے، نہ کہ سیاسی مذاکرات کی میز پر ، صہیونی حکومت خود اپنی سرحدوں کے اندر بھی امنیت فراہم نہیں کر سکتی، کیوں کہ آج کا زمانہ گزاؤشتہ زمانے سے متفاوت ہے۔

صیہونی حکومت کے میڈیا اور سیاسی حلقوں کی توجہ اس ہفتے حجۃ الاسلام سید ابراہیم رئیسی کے دورہ پر مرکوز ہے، ایک ایسا سفر جسے عبرانی زبان کے ذرائع ابلاغ نے "غیر معمولی" قرار دیا اور تسلیم کیا کہ اسرائیل کو بری طرح اس سفر کے سیاسی ، حفاظتی اور سفارتی نتائج جھیلنے ہوں گے۔

لیبلز

تبصرہ ارسال

You are replying to: .