۲۳ تیر ۱۴۰۳ |۶ محرم ۱۴۴۶ | Jul 13, 2024
سلمان عابدی

حوزہ|اے قزل قلعہ کے قیدی اے مجاہد زندہ باد،مسجدِ بوذر کے اے مجروح عابد زندہ۔

حوزہ نیوز ایجنسی|

“ قائد ملک عظیم”

نتیجۂ فکر:حجت الاسلام والمسلمین مولانا سلمان عابدی

اے مقام رہبری تیری قیادت کو سلام
اے عصائے موسوی تیری جلالت کو سلام
اے حُسام حیدری تیری اصالت کو سلام
اے فقیہ جعفری تیری فقاہت کو سلام
تو نے دشت غرب کے پیاسوں کو جامِ نَو دیا
تو نے یورپ کے جوانوں کو پیام نو دیا

اے خمینی بانکپن اے فاتحِ امید و بیم
اے بہشتی فکر و فن اے ِ صاحب طبع سلیم
اے جواد آغا کے بیٹے عصر حاضر کے کلیم
اے امید مرد و زن اے قائدِ ملک عظیم

تو نے ثابت کردیا ایران رک سکتا نہیں
عالمی پابندیوں کے آگے جھک سکتا نہیں

تو اٹھا ہے ارض مشہد کی مقدس خاک سے
کیا تقابل تیرا دنیا کے خس و خاشاک سے
تجھ کو تائیدِ خفی ملتی رہی افلاک سے
سختیاں جب بھی ملا کرتیں تجھے ساواک سے

اے قزل قلعہ کے قیدی اے مجاہد زندہ باد
مسجد ِ بوذر کے اے مجروح عابد زندہ

تو وہ رہبر ہے کہ جو ہے عا ِ ِلم ِ علم رجال
ماہر تاریخیات و شاعر شیریں مقال
اے امام جمعۂ تہران اے بدر کمال
تیری تدبیروں سے دشمن کے ارادے پائمال

جسم تیرا نا مکمل ، روح ، مردہ ہاتھ میں
صور اسرافیل کی طاقت ہے تیری بات میں

جگمگاتا ہے عمامہ ، تیرے فرق ناز پر
فخر کرتی ہے قبا تیرے قد جانباز پر
سادگی ہنستی ہے تیری ، شاہی حرص و آز پر
پوری دنیا کانپ اٹھتی ہے تری آواز پر

اے یمن کی ڈھال اے سید علی تجھ کو سلام
جان استقلال اے سید علی تجھ کو سلام

یہ جو تہذیب و ثقافت کی مچی یلغار ہے
یہ جو کمزوروں پہ قابض آج استکبار ہے
داعش و القاعدہ جو بر سر پیکار ہے
ان کو بس اس بات کا غم ہے کہ تو بیدار ہے

عالم اسلام کو پی جاتے " فانٹے " کی طرح
چشمِ باطل میں کھٹکتا ہے تو کانٹے کی طرح

سربراہ ِ فوج بھی تو رہبر ایراں بھی تو
حوزہ ہائے مشہد و قم کا گُلِ خنداں بھی تو
نہضت آزادئ کشور کی روح و جاں بھی تو
خاندان ِ پہلوی کے حق میں تھا طوفاں بھی تو
چوٹیاں سَر کر چکا ہے حریت کی چاہ میں
یہ فصیلیں کیا کریں گی آج تیری راہ میں

لیبلز

تبصرہ ارسال

You are replying to: .