۵ خرداد ۱۴۰۳ |۱۷ ذیقعدهٔ ۱۴۴۵ | May 25, 2024
یمنی بحران

حوزه/ قطر، متحدہ عرب امارات، اردن اور بحرین نے یمن کی موجودہ صورتحال کے حل کیلئے ریاض مذاکرات کی حمایت کا اعلان کردیا ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، قطری وزارت خارجہ نے منگل کے روز ایک بیان میں اس بات پر زور دیا کہ وہ یمن میں قیام امن کی کوششوں کی حمایت کرتا ہے۔

قطری وزارت خارجہ نے یمن کے بحران کے جامع سیاسی حل کیلئے گزشتہ اپریل میں صنعا میں ہونے والے مذاکرات کی تکمیل کے مقصد سے سعودی عرب کے دورے کیلئے ایک یمنی وفد کو ریاض کے دورے کی دعوت دیئے جانے کا جائزہ لیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق، قطری وزارت خارجہ نے امید ظاہر کی کہ ریاض کی میزبانی میں ہونے والے مذاکرات ایک مستقل جنگ بندی کا باعث بنیں گے اور سلامتی، ترقی اور خوشحالی کیلئے یمنی عوام کی توقعات کے مطابق دیرپا امن قائم کرنے کی کوششوں کو تقویت دیں گے۔

متحدہ عرب امارات نے بھی ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ابوظہبی، یمن میں ایک مستحکم سیاسی حل کیلئے کی جانے والی تمام علاقائی اور بین الاقوامی کوششوں کی حمایت کرتا ہے، تاکہ یمنی عوام سلامتی، ترقی اور استحکام سے لطف اندوز ہو سکیں اور اس سلسلے میں ہم سلطنت عمان اور سعودی عرب کی کوششوں کا خیر مقدم کرتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق، اردن کی وزارت خارجہ کے ترجمان "سنان المجالی" نے بھی سعودی عرب کی جانب سے یمن کی نیشنل سالویشن حکومت کے وفد کو ریاض کا دورہ کرنے کی دعوت کا خیرمقدم کیا ہے، تاکہ یمن میں جنگ بندی کیلئے ملاقاتیں اور بات چیت مکمل کی جا سکے اور یمن میں انسانی بنیادوں پر جنگ بندی کو تقویت حاصل ہوسکے۔

بحرین نے نیز یمن کی نیشنل سالویشن حکومت کے ایک وفد کو ریاض کی جانب سے دعوت دیئے جانے کا خیر مقدم کیا ہے، تاکہ یمن میں مستقل اور جامع جنگ بندی کے قیام اور انسانی بنیادوں پر جنگ بندی کی تقویت اور ایک مستحکم سیاسی حل کے حصول کیلئے عمان کے تعاون سے مذاکرات کو پایۂ تکمیل تک پہنچایا جا سکے اور ایسی پائیدار راہ حل تلاش کی جائے کہ جو اقوام متحدہ کے زیر نگرانی تمام یمنی جماعتوں کیلئے قابل قبول ہو۔

لیبلز

تبصرہ ارسال

You are replying to: .