حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، غزہ میں صحافیوں کی قربانیوں نے صہیونی حکومت کے اربوں ڈالر خرچ کرکے اپنے جرائم پر پردہ ڈالنے اور عالمی رائے عامہ کو گمراہ کرنے کی کوششوں کو ناکام بنا دیا ہے۔ فلسطینی ذرائع کے مطابق اکتوبر 2023 میں جنگ کے آغاز سے مئی 2026 تک غزہ میں 260 سے زائد صحافی اور میڈیا کارکن شہید جبکہ 420 زخمی ہو چکے ہیں۔
فلسطینی نیوز ویب سائٹ ’’عرب 48‘‘ نے غزہ میں حکومتی میڈیا دفتر کے حوالے سے بتایا کہ شہید ہونے والے صحافیوں میں صالح الجعفراوی بھی شامل ہیں، جو غزہ میں پیش آنے والے واقعات اور صہیونی جرائم کو دنیا تک پہنچانے کے دوران اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
رپورٹ کے مطابق صہیونی حکومت نے گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران اپنے جرائم کی پردہ پوشی اور عالمی سطح پر اپنی شبیہ بہتر بنانے کے لیے وسیع مالی اور ابلاغی وسائل استعمال کیے، تاہم غزہ کے صحافیوں کی جدوجہد نے اس مہم کو بے اثر کر دیا ہے۔
صحافیوں نے اپنی جانوں کی پروا نہ کرتے ہوئے غزہ کی تباہی، فلسطینی عوام کی مشکلات اور صہیونی حملوں کی حقیقت دنیا کے سامنے پیش کی۔ ان کی تصاویر، ویڈیوز اور رپورٹس نے عالمی سطح پر اسرائیل کے خلاف نفرت اور فلسطینیوں کے حق میں ہمدردی میں اضافہ کیا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ غزہ کے شہید اور زخمی صحافیوں کا خون اس بات کا ثبوت ہے کہ سچائی کو طاقت اور دولت کے ذریعے زیادہ دیر تک دبایا نہیں جا سکتا۔ فلسطین کے ان صحافیوں کی قربانیاں عالمی صحافت اور حق گوئی کی تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔









آپ کا تبصرہ