بدھ 12 اگست 2026 - 23:39
علامہ میر حامد حسینؒ کے علمی ورثے کو نئی نسل تک پہنچانے کی ضرورت ہے: نمائندہ ولی فقیہ ہندوستان

حوزہ/ ہندوستان میں ولی فقیہ کے نمائندے حجۃ الاسلام والمسلمین عبدالمجید حکیم الٰہی نے علامہ سید میر حامد حسین موسویؒ، مصنف عبقات الانوار کی علمی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس عظیم علمی ورثے کی تجدید صرف ایک کتاب کی تصحیح اور اشاعت نہیں، بلکہ ایک مضبوط علمی و استدلالی روایت کی تجدید ہے جسے نئی نسل تک پہنچانے کی ضرورت ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ہندوستان میں ولی فقیہ کے نمائندے حجۃ الاسلام والمسلمین عبدالمجید حکیم الٰہی نے علامہ سید میر حامد حسین موسویؒ، مصنف عبقات الانوار کی علمی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس عظیم علمی ورثے کی تجدید صرف ایک کتاب کی تصحیح اور اشاعت نہیں، بلکہ ایک مضبوط علمی و استدلالی روایت کی تجدید ہے۔

انہوں نے ایک علمی نشست سے خطاب کرتے ہوئے "بنیاد بین الملکی امامت" اور ان تمام محققین کی کوششوں کو سراہا جنہوں نے علامہ میر حامد حسینؒ کے آثار، خصوصاً عبقات الانوار، کی تحقیق، تصحیح اور دوبارہ اشاعت میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

علامہ میر حامد حسینؒ کے علمی ورثے کو نئی نسل تک پہنچانے کی ضرورت ہے: نمائندہ ولی فقیہ ہندوستان

انہوں نے کہا کہ علامہ میر حامد حسینؒ کو صرف ہندوستان کے ایک شیعہ عالم کے طور پر دیکھنا درست نہیں، بلکہ وہ اسلامی علمِ کلام اور حدیث کے ایک عظیم محقق تھے۔ انہوں نے ہندوستان جیسے مختلف مذاہب اور تہذیبوں کے مرکز میں رہتے ہوئے مضبوط علمی اور عقلی دلائل کے ذریعے مکتب اہل بیت علیہم السلام کا دفاع کیا اور برصغیر میں تشیع کے عظیم علمی ورثے کو دنیا کے سامنے پیش کیا۔

حجۃ الاسلام حکیم الٰہی نے عبقات الانوار کو محض فضائل اہل بیت علیہم السلام یا اثبات امامت کی ایک کتاب قرار دینے کے بجائے اسے امامت کے نظریے کو حدیثی اور عقلی بنیادوں پر ثابت کرنے کا ایک جامع علمی منصوبہ قرار دیا۔ ان کے مطابق علامہ میر حامد حسینؒ نے کسی حدیث پر بحث کرتے ہوئے پہلے اس کے ماخذ اور سند کا جائزہ لیا، پھر اس کے مفہوم اور دلالت کو واضح کیا اور اس کے بعد اہل سنت کے علماء کی جانب سے اس حدیث کی تشریح اور حیثیت کو بھی سامنے رکھا۔

علامہ میر حامد حسینؒ کے علمی ورثے کو نئی نسل تک پہنچانے کی ضرورت ہے: نمائندہ ولی فقیہ ہندوستان

انہوں نے کہا کہ عبقات الانوار کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ علامہ میر حامد حسینؒ نے امامت کے اثبات کے لیے صرف شیعہ مصادر پر اعتماد نہیں کیا بلکہ اہل سنت کے معتبر مصادر سے بھی استفادہ کیا۔ اس طریقۂ کار سے وہ مشترکہ علمی بنیادوں پر استدلال کرتے ہیں، جس کی وجہ سے عبقات کو اسلامی مذاہب کے درمیان علمی گفتگو اور تقابلی علم کلام کے لیے ایک اہم نمونہ قرار دیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ علامہ میر حامد حسینؒ نے حدیث کے ثبوت اور دلالت کو الگ الگ مراحل میں دیکھا۔ یعنی پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ حدیث معتبر طور پر نقل ہوئی ہے یا نہیں، اس کے راوی کون ہیں اور علماء نے اس کے بارے میں کیا کہا ہے؛ اس کے بعد یہ دیکھا جاتا ہے کہ حدیث امامت، ولایت، خلافت، فضیلت اور اہل بیت علیہم السلام کی دینی مرجعیت پر کیا دلالت کرتی ہے۔

علامہ میر حامد حسینؒ کے علمی ورثے کو نئی نسل تک پہنچانے کی ضرورت ہے: نمائندہ ولی فقیہ ہندوستان

حجۃ الاسلام والمسلمین حکیم الٰہی نے کہا کہ عبقات الانوار میں تواتر، متعدد روایات، مختلف اسناد اور قرائن کی اہمیت پر بھی تفصیلی بحث ملتی ہے، جو آج کے علم حدیث، علم کلام اور تحقیق کے لیے خاص اہمیت رکھتی ہے۔ اس کتاب میں امامت کو صرف رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد جانشینی کا تاریخی مسئلہ نہیں بلکہ ہدایت، دینی مرجعیت، علم، عصمت اور حجت الٰہی کے تسلسل پر مشتمل ایک جامع نظریہ کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ آج کے دور میں جب امامت، غدیر، حدیث اور خلافت سے متعلق مختلف شبہات سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع سے تیزی سے پھیل رہے ہیں، علامہ میر حامد حسینؒ کے علمی طریقۂ کار کا دوبارہ مطالعہ بہت ضروری ہے۔

انہوں نے تجویز پیش کی کہ اب عبقات الانوار کی اشاعت کے بعد مکتب کلامی میر حامد حسینؒ اور عبقات الانوار کے کلامی طریقۂ کار پر باقاعدہ تحقیقی منصوبہ شروع کیا جائے۔ اس میں حدیثی و رجالی اصول، تواتر، احادیث کی دلالت، اہل سنت کے مصادر سے استفادہ، عقلی و نقلی استدلال اور تقابلی علم کلام میں عبقات کی اہمیت کا جائزہ لیا جائے۔

علامہ میر حامد حسینؒ کے علمی ورثے کو نئی نسل تک پہنچانے کی ضرورت ہے: نمائندہ ولی فقیہ ہندوستان

انہوں نے مزید کہا کہ عبقات الانوار کے اہم حصوں کا معیاری اردو، ہندی اور انگریزی زبانوں میں ترجمہ بھی ہونا چاہیے تاکہ برصغیر اور دنیا بھر کے محققین اس عظیم علمی سرمایہ سے استفادہ کر سکیں۔

آخر میں انہوں نے کہا کہ علامہ میر حامد حسینؒ صرف ہندوستان کے ایک عظیم شیعہ عالم نہیں بلکہ امامیہ علم کلام کی تاریخ کی اہم شخصیات میں سے ہیں۔ اسی طرح عبقات الانوار صرف ایک تاریخی کتاب نہیں بلکہ حدیثی شواہد کی بنیاد پر کلامی استدلال کی ایک اہم مثال ہے۔ اس لیے اس کی تجدید دراصل ایک کتاب کی تجدید نہیں بلکہ ایک مضبوط علمی و استدلالی روایت کی تجدید ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha