حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، بحرین کی عدالت نے 16 سالہ نوجوان علی حسین جمیل الجمری کو تین سال قید کی سزا سنائی ہے۔ انسانی حقوق اور بچوں کے تحفظ کے حوالے سے یہ فیصلہ ایک بار پھر بحرین میں کم عمر افراد کی گرفتاری اور انہیں سیاسی و مذہبی سرگرمیوں کی بنیاد پر سخت سزائیں دیے جانے کے سوالات اٹھا رہا ہے۔
بحرینی عدلیہ نے نوجوان علی حسین جمیل الجمری کو تین سال قید کی سزا سنائی ہے۔ اسے بنی جمرہ کے علاقے کی ایک سڑک سے اس وقت گرفتار کیا گیا تھا جب اس علاقے میں احتجاجی مظاہروں کے باعث سکیورٹی فورسز کی بھاری نفری تعینات تھی۔
یہ پہلا موقع نہیں کہ بحرینی حکام نے کم عمر نوجوانوں کو گرفتار کیا ہو یا انہیں سخت سزائیں سنائی ہوں، تاہم علی الجمری کی عمر 16 سال سے زیادہ نہیں ہے، جس کی وجہ سے اس سزا پر بچوں کے حقوق اور کم عمر افراد کے ساتھ عدالتی برتاؤ کے حوالے سے سوالات اٹھ رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق، اس معاملے میں بنیادی سوال صرف سزا کی مدت کا نہیں بلکہ یہ ہے کہ ایک 16 سالہ نوجوان کے ساتھ ریاست کا رویہ کیا ہونا چاہیے؟ کیا اسے ایک ایسے بچے کے طور پر دیکھا جانا چاہیے جسے تحفظ اور اصلاح کی ضرورت ہے یا سیاسی و سکیورٹی مخالف کے طور پر، جسے جیل بھیجنا ضروری سمجھا جائے؟
بحرین نے 1991ء میں اقوام متحدہ کے کنونشن برائے حقوقِ اطفال میں شمولیت اختیار کی تھی۔ اس کنونشن کے تحت بچوں کے معاملات میں ان کے بہترین مفاد کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ کنونشن کی دفعہ 37 کے مطابق کسی بچے کو گرفتار یا قید کرنا آخری چارہ کار اور کم سے کم مناسب مدت کے لیے ہونا چاہیے، جبکہ دفعہ 40 میں بچوں کے ساتھ ان کی عمر کے مطابق برتاؤ اور انہیں دوبارہ معاشرے میں ضم کرنے کو فوجداری انصاف کا بنیادی مقصد قرار دیا گیا ہے۔
اس پس منظر میں علی الجمری کو تین سال قید کی سزا دینے سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا کم عمر افراد کے معاملات میں اصلاح اور معاشرے میں واپسی کے بجائے سخت سزا کو ترجیح دی جا رہی ہے؟
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بحرین میں بچوں اور نوجوانوں کی سیاسی احتجاج یا سیاسی مؤقف کی بنیاد پر گرفتاریوں کا معاملہ نیا نہیں۔ ناقدین کے مطابق کم عمری کسی ایسے سیاسی مؤقف کی وجہ سے سزا بڑھانے کا جواز نہیں بن سکتی جسے حکومت خطرہ سمجھتی ہو۔
علی الجمری محض ایک عدالتی مقدمے کا نام نہیں بلکہ ایک 16 سالہ نوجوان ہے، جس کے بارے میں بنیادی سوال یہ ہونا چاہیے کہ اس کے مستقبل کو کیسے محفوظ بنایا جائے، نہ یہ کہ اسے کتنے سال جیل میں رکھا جائے۔
یہ معاملہ بحرین میں بچوں کے حقوق، سیاسی آزادیوں اور ریاستی پالیسیوں کے حوالے سے ایک وسیع تر سوال بھی اٹھاتا ہے کہ جب کوئی کم عمر فرد سیاسی یا مذہبی مؤقف کا اظہار کرے تو ریاست اسے جیل کی طرف لے جائے گی یا اصلاح، تحفظ اور معاشرے میں واپسی کا راستہ اختیار کرے گی؟









آپ کا تبصرہ