حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حجت الاسلام والمسلمین سید دست علی نقوی کے تعزیتی پیغام کا متن مندرجہ ذیل ہے۔
إِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ
حوزۂ علمیہ کے ایک عظیم علمی و روحانی ستون، جلیل القدر فقیہ، محقق اور صاحبِ فضل و کمال شخصیت آیت اللہ العظمیٰ سید موسیٰ شبیری زنجانی رحمۃ اللہ علیہ کی رحلتِ پُرملال پر ہم دلی رنج و غم کا اظہار کرتے ہیں۔
آپؒ ہمارے لیے صرف ایک عظیم عالمِ دین نہیں بلکہ ایک شفیق استاد، مخلص مربی، مہربان رہنما اور علمی محسن کی حیثیت رکھتے تھے۔ آپؒ کی علمی مجالس سے استفادہ، آپؒ کی شفقت و محبت اور آپؒ کی نصیحتیں ہمارے لیے ایک قیمتی سرمایہ ہیں۔
استاد کی جدائی کا غم الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ جس شخصیت نے علم کی روشنی سے ہماری فکری و علمی زندگی کو منور کیا ہو، جس کی شفقت نے طالبِ علم کے حوصلے کو تقویت دی ہو اور جس کی رہنمائی نے علم و دین کے راستے پر آگے بڑھنے کا شعور عطا کیا ہو، اس کی رحلت یقیناً ایک ناقابلِ تلافی خلا ہے۔
آپؒ کی زندگی ہمارے لیے علم، تقویٰ، تواضع، اخلاص اور خدمتِ دین کا عملی نمونہ تھی۔ آپؒ نے اپنی عمرِ عزیز کو علومِ آلِ محمدؐ کی تعلیم و ترویج اور تربیتِ طلاب کے لیے وقف کیا۔ آپؒ کے شاگرد اور علمی وابستگان آپؒ کی علمی میراث کو ہمیشہ اپنے لیے باعثِ افتخار سمجھیں گے۔
امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں:«إِنَّمَا الْعَالِمُ مَنْ عَمِلَ بِمَا عَلِمَ»حقیقی عالم وہ ہے جو اپنے علم پر عمل کرے۔
بلاشبہ ایک عالمِ ربانی کی رحلت صرف ایک فرد کی جدائی نہیں ہوتی، بلکہ ایک علمی عہد کے اختتام اور ایک عظیم علمی و تربیتی خلا کا باعث بنتی ہے۔
ہم حضرت ولی عصر عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف، مراجعِ عظام، حوزاتِ علمیہ، اساتذہ و طلاب، علماء و فضلاء، شاگردان، متعلقین اور جملہ مومنین و مومنات کی خدمت میں دلی تعزیت و تسلیت پیش کرتے ہیں۔
بارگاہِ خداوندِ متعال میں دعا ہے کہ مرحوم استادِ شفیق آیت اللہ العظمیٰ سید موسیٰ شبیری زنجانی رحمۃ اللہ علیہ کو جوارِ محمد و آلِ محمدؐ میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، ان کی تمام علمی و دینی خدمات کو شرفِ قبولیت بخشے، ان کے درجات بلند فرمائے اور ان کے تمام شاگردوں، متعلقین اور سوگواران کو صبرِ جمیل و اجرِ جزیل عطا فرمائے۔
استادِ محترم! آپ جسمانی طور پر ہم سے جدا ہوگئے، مگر آپ کی علمی یادیں، آپ کی نصیحتیں، آپ کی شفقت اور آپ کی تربیت ہمارے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہے گی۔
آپ کی جدائی ہمارے لیے ایک ایسا خلا ہے جسے وقت بھی پُر نہیں کر سکتا۔









آپ کا تبصرہ