حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق،تحریکِ بیداری امت پاکستان کے زیرِ اہتمام 7 اکتوبر، عالمی یومِ طوفان الاقصٰی کی مناسبت سے پارا چنار میں حمایت مستضعفین جہان کے عنوان سے پریس کانفرنس منعقد ہوئی؛ جس میں علمائے کرام سمیت مختلف سیاسی و مذہبی تنظیموں کے رہنماؤں نے شرکت کی۔

7 اکتوبر وہی دن ہے جب فلسطینی مزاحمتی قوت نے اپنی بقا اور دفاع کے لیے اسرائیل کے خلاف کارروائی کی تھی۔
کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے حجتہ الاسلام علامہ سید احمد حسین الحسینی، تحریک حسینی کے صدر حاجی محمد یونس، علامہ معین حسین الحسینی ، امید طوری آئی ایس او پاراچنار، سید حسین آئی او پاراچنار، استاد سید نبی حسین تحریک حسینی پاراچنار اور تحریک بیداری امت کے رہنما آغا میثم طوری نے فلسطین سمیت دنیا بھر کے مستضعفین کی حمایت کا اعلان کیا اور ان کی جدوجہد کو سراہا۔

مقررین نے کہا کہ مظلوم اقوام کی آواز بننا دینی اور انسانی فریضہ ہے اور ظلم کے خلاف کھڑے ہونے والوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار ہر باضمیر انسان پر لازم ہے۔
مقررین نے کہا کہ طوفان الاقصیٰ کے بعد مسئلہ فلسطین عالمی سطح پر ایک بار پھر مرکزی حیثیت اختیار کر گیا اور برسوں سے پس منظر میں جا چکا فلسطینی مسئلہ دنیا بھر کے ایوانوں، میڈیا اور عوامی بحث کا موضوع بن گیا۔ 2024 میں اسپین، آئرلینڈ اور ناروے نے فلسطینی ریاست کو تسلیم کیا، جبکہ 2025 میں فرانس برطانیہ، کینیڈا اور آسٹریلیا سمیت کئی مغربی ممالک نے بھی تسلیم کرنے کا اعلان کیا۔
![]()
مقررین نے عالمی برادری اور انسانی حقوق کے اداروں سے مطالبہ کیا کہ وہ فلسطینی عوام پر جاری مظالم کا نوٹس لیں اور مظلوموں کو ان کے جائز حقوق دلانے کے لیے عملی کردار ادا کریں۔
شرکاء نے عزم کا اظہار کیا کہ مظلوموں کی حمایت کا سلسلہ آئندہ بھی جاری رہے گا۔










آپ کا تبصرہ