ہفتہ 10 اکتوبر 2026 - 08:53
والدین اپنی اولاد کی تربیت اور جذبات و ضروریات کے حوالے سے کس حد تک ذمہ دار ہیں؟

حوزہ / والدین اپنے طرزِ عمل سے بچے کے ذہن اور شخصیت میں ایسے نمونے تشکیل دیتے ہیں جو مستقبل میں اس کے تعلقات پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ خاندانی ماحول میں احترام، محبت اور ذمہ داری کا احساس صحت مند تعلقات کی تشکیل کی بنیاد فراہم کرتا ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، بچوں کی تربیتی اور جذباتی ضروریات سے والدین کی غفلت ان کی نشوونما اور مستقبل کے تعلقات پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔ اس موضوع پر کتاب «تربیتِ کودک در اندیشہ آقائے شہید» کے ایک حصے میں بھی توجہ دلائی گئی ہے۔

والدین اپنی اولاد کی تربیت اور جذبات کے حوالے سے ذمہ دار ہیں۔ اگر والدین بچوں کی تربیت سے غفلت برتیں، انہیں مناسب محبت نہ دیں یا انہیں بے سہارا چھوڑ دیں تو درحقیقت وہ بچوں کے حقوق کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ لہٰذا اولاد کی تربیت اور نگہداشت والدین کی ایک سنجیدہ اور لازمی ذمہ داری ہے۔

آج بعض خاندانوں میں ایک مسئلہ یہ بھی دیکھنے میں آتا ہے کہ والدین اپنے بچوں پر خاطر خواہ توجہ نہیں دیتے اور ان کی تربیت کی ذمہ داری کو سنجیدگی سے نہیں لیتے۔ بعض خاندانوں میں بچوں کے حقوق کا خیال نہیں رکھا جاتا اور یہ مسئلہ صرف مار پیٹ یا جسمانی نقصان تک محدود نہیں ہے۔ محبت میں کمی، بے توجہی، جذباتی وابستگی کا فقدان اور غلط تربیت بھی بچے کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔

دوسری جانب، والدین کا اپنے بچوں کے ساتھ برتاؤ مستقبل میں بچوں کے اپنے والدین کے ساتھ رویّے پر بھی اثر انداز ہوتا ہے۔ اگر والدین اپنی اولاد کے ساتھ محبت اور حسنِ سلوک سے پیش آئیں اور ان کی اچھی تربیت کریں تو اس بات کا امکان بڑھ جاتا ہے کہ بچے بھی مستقبل میں ان کا احترام کریں گے اور ان کے ساتھ اچھا برتاؤ کریں گے۔

اس کے برعکس، اگر والدین اپنی اولاد کے ساتھ نامناسب رویّہ اختیار کریں اور ان کی تربیت اس انداز میں کریں کہ وہ اپنے والدین کے ساتھ بے ادبی اور غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کرنے لگیں تو اس مسئلے کے پیدا ہونے میں خود والدین کا بھی کردار ہوتا ہے۔ لہٰذا اولاد کی صحیح تربیت نہ صرف خود بچوں کے مفاد میں ہے بلکہ اس سے والدین اور اولاد کے درمیان خوش گوار تعلقات قائم کرنے میں بھی مدد ملتی ہے۔

ماخذ: کتاب تربیتِ کودک در اندیشہ آقائے شہید

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha