۱۰ مهر ۱۴۰۱ |۶ ربیع‌الاول ۱۴۴۴ | Oct 2, 2022
تربیت فرزند

حوزہ / ماں کی گود بچے کی پہلی تربیت گاہ ہوتی ہے۔  اسی تربیت پر بچے کی شخصیت پروان چڑھتی ہے ۔ اخلاق کی جو تربیت ماں کی گود میں ہوتی ہے اسی تربیت  پر بچے کی سیرت کے بننے یا بگڑنے کا انحصار ہوتا ہے ۔ ‎

حوزہ نیوز ایجنسی । رہبر کبیر انقلاب اسلامی نے خواتین کے اہم کردار کی طرف اشارہ کرتے ہوے فرمایا کہ جس طرح اسلام کی نسبت مردوں کی ذمہ داریاں ہیں اسی طرح خواتین کی بھی ذمہ داریاں ہیں خواتین اولاد کی تربیت کی ذمہ دار ہیں آپ کو اپنی آغوش میں دیندار اولاد کی تربیت کرنی چاہیے۔

مقدمہ

رہبر کبیر انقلاب اسلامی نے خواتین کے اہم کردار کی طرف اشارہ کرتے ہوے فرمایا کہ جس طرح اسلام کی نسبت مردوں کی ذمہ داریاں ہیں اسی طرح خواتین کی بھی ذمہ داریاں ہیں خواتین اولاد کی تربیت کی ذمہ دار ہیں آپ کو اپنی آغوش میں دیندار اولاد کی تربیت کرنی چاہیے انہوں نے فرمایا کہ معاشرے کو اسلامی بنانے میں خواتین اہم کردار ادا کرسکتی ہیں کیونکہ اگر ماں کی گود سے ایک دیندار بچہ پرورش پا کر جوان ہو گا تو وہ معاشرے کو اسلامی معاشرہ بنا دے گا ماں کی آغوش ہر انسان کے لئے بہترین مدرسہ ہے لہذا اپنے بچوں کی ایسی تربیت کریں کہ یہ بچے مستقبل میں انبیاء علیھم السلام کی حفاظت کر سکیں تاکہ وہ اہداف انبیاء علیھم السلام کی حفاظت کر سکیں تاکہ وہ دین اسلام کی حفاظت کر سکیں۔

اولاد کی اچھی تربیت اس قدر اہم ہے کہ اللہ رب العزت نے اس کے بارے میں فرمایا ! " کہ ایمان والو اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو دوزخ کی آگ سے بچاؤ "۔ لہذا والدین کا فرض ہے کہ بچوں کے سامنے حسن اخلاق کا نمونہ پیش کریں تاکہ انکی اولاد عمدہ اخلاق کی حامل ہو ۔ اولاد کی اچھی تربیت کا فریضہ نہ صرف اسلام عائد کرتا ہے بلکہ ملک و ملت کی طرف سے بھی اس بات کا تقاضہ کیا جاتا ہے اس میں پلنے بڑھنے والے شہری اپنے وطن کا روشن مستقبل ہوں ۔

ماں کا کردار اولاد کے لئے زبردست ترغیب ہوتا ہے اور ماں کی ابتدائی تربیت اولاد کے ساتھ مرتے دَم تک رہتی ہے۔ ابتدائی عمر میں بچے کا دل پاک صاف اور ذہن سادہ تختی کی مثل ہوتا ہے ، جو چیز بھی اس کے سامنے آتی ہے اس کو قبول کرتا ہے ، اس عمر کی اچھی تربیت اُسے اچھا اور غلط تربیت بُرا انسان بنا دیتا ہے۔ مثل مشہور ہے " بچپن کی تعلیم کے اثرات اس طرح دیر پا ہوتے ہیں جیسے کہ پتھر پر نقش۔ " والدین بچّوں کی اس عمر میں تعلیم و تربیت سے غفلت کرکے سنگین نتائج بھگت سکتے ہیں۔

یاد رکھیں! بچے والدین کے عمل کی پیروی کرتے ہیں۔ والدین محبتِ رسول صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم رکھنے والے ، شریعت کے پابند ، دین سیکھنے کے شوقین ہوں گے تو اولاد میں بھی یہ عادات منتقل ہوں گی۔ اولاد والدین کے لئے دنیا میں باعث ِ عزّت اور آخرت میں بخشش و نجات کا سبب بنے گی ورنہ والدین کی بُری عادات اگر اولاد میں منتقل ہوئیں تو دنیا و آخرت میں ذلت و رسوائی کا باعث ہوگا۔ والدین اپنے علم و عمل پر توجہ دیں ، دین کے پیروکار بنیں گے تواولاد کی صحیح معنیٰ میں نیک تربیت کر سکیں گے۔

بچوں کی اچھی تعلیم و تربیت اوران کی کردار سازی میں والدین کا کردار نہایت اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ والدین بطور خاص آغوشِ مادر دنیا کی پہلی درس گاہ ہے جو نومولود کے سطحِ ذہن پر ابتدائی نقش و نگار مُرتسم کرتی ہے۔ ایک صالحہ ماں بچے کی تربیت اسلامی تعلیمات کی روشنی میں کرتی ہے تاکہ وہ بڑا ہو کر اسلامی معاشرے کی تشکیل میں اپنا کردار احسن طریقے سے ادا کر سکے ۔ ایسی ہی عظیم ماؤں کے بارے میں نپولین نے کہا تھا ’’تم مجھے اچھی مائیں دو، میں تمہیں اچھی قوم دوں گا۔‘‘

علامہ اقبال نے فرمایا تھا: ’’قوموں کی تاریخ اور ان کا ماضی و حال ان کی ماؤں کا فیض ہے۔‘‘

تاریخ کا بغور مطالعہ کرنے سے ہمیں ہر عظیم شخصیت کے پیچھے ماں کا کردار کار فرما نظر آتا ہے۔ جیسے حضرت امام حسن و حسین علیہم السلام اور حضرت سیدہ زینب و حضرت سیدہ اُم کلثوم علیہما السلام جنہوں نے ایک نئی تاریخ رقم کی، ان کی شخصیت سازی میں ان کی والدہ ماجدہ خاتون جنت حضرت سیدہ فاطمۃ الزہرا سلام اللہ علیہ کا بہت اہم کردار رہا ہے۔

باکردار نیک طینت ماؤں نے بچوں کی بے مثال تربیت کرتے ہوئے معاشرے کو ایسے باکمال افراد پیش کیے کہ جن میں سے ہر کو ئی عالم، عابد، شجاع، اعلیٰ و ارفع کردار سے مزین، انسانی اقدار کا حامل اور معاشرے کے لیے مفید اور مؤثر ثابت ہوا۔

رہبرِ کبیر سید روح اللہ خمینی رحمۃ اللہ علیہ: "معاشرے میں مردوں سے زیادہ خواتین کے کردار کی اہمیت ہے کیونکہ خواتین معاشرے کی تربیت کرتی ہے۔ معاشرے میں ایک ماں کی خدمت ایک استاد سے بھی زیادہ اہم ہے"۔

تبصرہ ارسال

You are replying to: .
4 + 14 =