اتوار 11 اکتوبر 2026 - 07:34
استعمار نے ہمیشہ آزادی کے نام پر نوجوان نسل کو مذہب سے دور کرنے کی کوشش کی، علامہ اشفاق وحیدی

حوزہ / علامہ اشفاق وحیدی نے کہا: استعمار نے آزادی کے نام پر نوجوانوں کو ہمیشہ مذہب سے دور کرنے کی کوشش کی؛ ملکی استحکام کے لیے تمام طبقات کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، شیعہ علماء کونسل پاکستان کے مرکزی رہنما اور اوسپاک انٹرفیتھ بورڈ کے چیئرمین علامہ اشفاق وحیدی نے کہا ہے کہ نوجوان نسل کے روشن مستقبل کے لیے اسلام شناسی، دینی تعلیم اور تربیتی پروگراموں کا فروغ ناگزیر ہے۔

انہوں نے کہا: استعمار نے ہمیشہ آزادی کے نام پر نوجوان نسل کو مذہب سے دور کرنے کی کوشش کی، اس لیے نوجوانوں میں دینی شعور اور اسلامی تعلیمات سے آگاہی پیدا کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

علامہ اشفاق وحیدی نے ملکی موجودہ صورت حال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا: پاکستان کو درپیش مشکلات کے حل اور ملکی استحکام کے لیے تمام طبقات کو اپنا مؤثر کردار ادا کرنا چاہیے۔

انہوں نے کہا: احتجاج اور دھرنوں کا مسلسل سلسلہ ملک کو کمزور کر رہا ہے لہٰذا سیاسی جماعتوں کو اپنے اختلافات مذاکرات کے ذریعہ حل کرنے چاہییں۔

اوسپاک انٹرفیتھ بورڈ کے چیئرمین نے موجودہ مہنگائی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا: مہنگائی نے عوام کا جینا محال کر دیا ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ ملک کو درپیش سیاسی، معاشی اور سماجی مسائل کے حل کے لیے تمام مذہبی و سیاسی جماعتوں کی آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) بلائے، تاکہ باہمی مشاورت اور اتفاقِ رائے سے قومی مسائل کا حل تلاش کیا جا سکے۔

شیعہ علماء کونسل پاکستان کے مرکزی رہنما نے اس بات پر زور دیا کہ نوجوان نسل کی دینی و علمی تربیت اور فکری رہنمائی کے لیے حکومتی سطح پر جامع پروگرام تشکیل دیے جائیں۔ اسی طرح عوام کو مساوی حقوق کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے ایسی پالیسیاں مرتب کی جائیں جو معاشرے کے تمام طبقات کے ساتھ یکساں انصاف اور برابری کے اصولوں پر مبنی ہوں۔

علامہ اشفاق وحیدی نے بین الاقوامی صورت حال کا ذکر کرتے ہوئے کہا: جن خطوں پر جنگ مسلط کی گئی ہے، وہاں امن و امان کی بحالی اور تنازعات کے حل کے لیے اقوام متحدہ کو اپنا مؤثر کردار ادا کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق، متعدد ممالک میں پیدا ہونے والے اقتصادی اور معاشی بحرانوں کی ایک بڑی وجہ مسلط کردہ جنگیں ہیں، جن کے اثرات براہِ راست عوام کی زندگیوں پر مرتب ہوتے ہیں۔

انہوں نے عالمی اداروں پر زور دیا کہ ایسی پالیسیوں کے خاتمے کے لیے اقدامات کیے جائیں جو جنگوں اور تنازعات کو ہوا دیتی ہیں اور عام لوگوں کے لیے مشکلات میں اضافے کا سبب بنتی ہیں۔ عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ طاقت کے بجائے مذاکرات، انصاف اور پُرامن بقائے باہمی کو فروغ دے، تاکہ دنیا بھر میں پائیدار امن قائم ہو سکے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha