اتوار 11 اکتوبر 2026 - 13:37
جامعۃ الکوثر میں علامہ ملک ظفر عباسؒ کی پہلی برسی؛ قائد ملت جعفریہ سمیت علمائے کرام کا خراجِ عقیدت

حوزہ / جامعۃ الکوثر میں علامہ ملک ظفر عباس (رہ) کی پہلی برسی کا انتہائی عقیدت و احترام کے ساتھ انعقاد کیا گیا۔ جس میں مقررین نے علامہ ملک ظفر عباس (رہ) کی علمی و دینی خدمات کو سراہتے ہوئے انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، اسلام آباد/ ملک پاکستان بالخصوص یورپ میں تعلیماتِ قرآن کریم کے فروغ اور سیرتِ ائمہ اطہار علیہم السلام کی ترویج و اشاعت کے لیے زندگی بھر سرگرمِ عمل رہنے والے ممتاز عالمِ دین حجۃ الاسلام والمسلمین علامہ ملک ظفر عباسؒ کی پہلی برسی جامعۃ الکوثر اسلام آباد میں عقیدت و احترام کے ساتھ منائی گئی۔ اس موقع پر قرآن خوانی اور تعزیتی ریفرنس کا اہتمام کیا گیا، جس میں علمائے کرام، طلبہ اور مختلف علاقوں سے آنے والے عقیدت مندوں نے شرکت کرکے مرحوم کی علمی، دینی اور تبلیغی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔

جامعۃ الکوثر میں علامہ ملک ظفر عباس (رہ) کی پہلی برسی کا انعقاد / قائد ملت جعفریہ کی خصوصی شرکت اور دعائیہ کلمات

تعزیتی ریفرنس سے مولانا انیس الحسنین خان اور مرحوم کے فرزند مولانا علی عباس نے اظہارِ خیال کیا، جبکہ حجۃ الاسلام و المسلمین شیخ محمد شفا نجفی اور جامعۃ الکوثر کے سربراہ حجۃ الاسلام و المسلمین شیخ انور علی نجفی نے کلیدی خطابات کیے۔ مقررین نے علامہ ملک ظفر عباسؒ کی زندگی، علمی جدوجہد اور دینی خدمات پر روشنی ڈالی اور ان کی شخصیت کو محسنِ ملت آیت اللہ شیخ محسن علی نجفیؒ کے علمی و تربیتی مکتبِ فکر سے وابستہ قرار دیا۔

جامعۃ الکوثر میں علامہ ملک ظفر عباس (رہ) کی پہلی برسی کا انعقاد / قائد ملت جعفریہ کی خصوصی شرکت اور دعائیہ کلمات

تقریب کے اختتام پر قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے مختصر خطاب کیا اور دعائیہ کلمات ادا کیے۔ اس موقع پر مرحوم عالمِ دین کی دینی و علمی خدمات کی یاد تازہ کی گئی اور ان کے لیے دعائے مغفرت کی گئی۔ علمائے کرام کی خدمات کا اعتراف اور ان کے علمی و تبلیغی آثار کو محفوظ رکھنا دینی معاشرے کی اہم ذمہ داری ہے، تاکہ نئی نسل ان کی جدوجہد سے آگاہ ہو اور دین کی خدمت کے جذبے کو آگے بڑھائے۔

جامعۃ الکوثر میں علامہ ملک ظفر عباس (رہ) کی پہلی برسی کا انعقاد / قائد ملت جعفریہ کی خصوصی شرکت اور دعائیہ کلمات

حجۃ الاسلام و المسلمین شیخ محمد شفا نجفی نے اپنے کلیدی خطاب میں علامہ ملک ظفر عباسؒ کی علمی و دینی خدمات اور تعلیماتِ قرآن کریم و اہل بیت علیہم السلام کی اشاعت کے لیے ان کی جدوجہد کو موضوعِ گفتگو بنایا۔ انہوں نے اس امر کی اہمیت اجاگر کی کہ علماء کی ذمہ داری صرف دینی علوم کی تعلیم تک محدود نہیں، بلکہ لوگوں کی فکری و اخلاقی تربیت اور معاشرے میں دینی شعور کی آبیاری بھی ان کے فرائض میں شامل ہے۔ مرحوم کی زندگی کو اسی دینی ذمہ داری کے تناظر میں یاد کیا گیا۔

جامعۃ الکوثر میں علامہ ملک ظفر عباس (رہ) کی پہلی برسی کا انعقاد / قائد ملت جعفریہ کی خصوصی شرکت اور دعائیہ کلمات

جامعۃ الکوثر کے سربراہ علامہ شیخ انور علی نجفی نے علامہ ملک ظفر عباسؒ کی شخصیت اور ان کی خدمات کو محسنِ ملت آیت اللہ شیخ محسن علی نجفیؒ کے علمی و تربیتی مکتبِ فکر کے تناظر میں پیش کیا۔ انہوں نے اس پہلو کو اجاگر کیا کہ دینی شخصیات کی حقیقی میراث ان کے علمی آثار، تربیت یافتہ افراد اور معاشرے میں پیدا ہونے والے مثبت اثرات کی صورت میں باقی رہتی ہے۔ ایسی شخصیات کی یاد منانے کا مقصد ان کے دینی مشن اور علمی ورثے کو آئندہ نسلوں تک منتقل کرنا بھی ہے۔

مولانا انیس الحسنین خان نے مرحوم کی دینی و تبلیغی زندگی کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے ان کی خدمات کو یاد رکھنے اور ان سے استفادہ کرنے کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ علامہ ملک ظفر عباسؒ نے تعلیماتِ قرآن کریم اور سیرتِ اہل بیت علیہم السلام کی ترویج کے لیے اپنی زندگی وقف کر رکھی تھی۔ ان کی جدوجہد اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ دین کی خدمت کے لیے مسلسل علمی محنت، اخلاص اور معاشرے کی دینی رہنمائی کا جذبہ بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔

مرحوم کے فرزند مولانا علی عباس نے بھی ریفرنس سے خطاب کیا اور اپنے والد کی علمی و دینی زندگی اور تبلیغی خدمات کا تذکرہ کیا۔ اس موقع پر علامہ ملک ظفر عباسؒ کی ان کوششوں کو یاد کیا گیا جن کے ذریعے قرآن کریم اور تعلیماتِ اہل بیت علیہم السلام کو عام کرنے کے لیے کام کیا گیا۔ ان کی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے ساتھ ان کے علمی و دینی مشن کو جاری رکھنے کی ضرورت بھی اجاگر کی گئی۔

تقریب میں نظامت کے فرائض علامہ نقاش الحسنین نے انجام دیے۔ تعزیتی ریفرنس میں اسلام آباد، راولپنڈی، اٹک اور دیگر قریبی و دور دراز علاقوں سے علمائے کرام اور طلبہ کی بڑی تعداد شریک ہوئی اور مرحوم کی دینی، علمی اور تبلیغی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha