جمعرات 8 اکتوبر 2026 - 05:55
اسلام آباد میں علامہ قاضی سید نیاز حسین نقوی کی برسی و سالانہ جلسہ / علماء کا مرحوم کی علمی و ملی خدمات پر خراجِ عقیدت

حوزہ / جامعہ المنتظر العالمیہ اسلام آباد کے زیرِ اہتمام علامہ قاضی سید نیاز حسین نقوی کی یاد میں دو روزہ سالانہ جلسہ و برسی کا انعقاد کیا گیا۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، جامعہ المنتظر العالمیہ اسلام آباد کے زیرِ اہتمام فخرِ ملت حضرت علامہ قاضی سید نیاز حسین نقوی کی یاد میں دو روزہ سالانہ جلسہ و برسی 3 اور 4 اکتوبر 2026ء کو مسجد امیرالمؤمنینؑ، ملحقہ جامعہ المنتظر العالمیہ اسلام آباد میں منعقد ہوئی۔ جس میں ملک کے مختلف علاقوں سے جید علماء کرام، خطباء، آئمہ جمعہ و جماعت، مدارس کے مدیران، طلاب اور مومنین نے بھرپور شرکت کی۔

دو روزہ اجتماع میں حضرت علامہ قاضی سید نیاز حسین نقوی کی علمی، دینی، تبلیغی، ملی اور قومی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا، جبکہ دینی تعلیم و تربیت، تبلیغِ دین، عزاداریِ سید الشہداءؑ، ملی شعور، اتحادِ امت اور عصرِ حاضر میں علماء و دینی مراکز کی ذمہ داریوں سمیت مختلف اہم موضوعات پر علماء و خطباء نے اظہارِ خیال کیا۔

پہلے روز کے خطابات

پہلے روز مجلسِ عزا کا آغاز نمازِ ظہرین کے بعد تلاوتِ کلامِ مجید سے ہوا، جس کی سعادت جامعہ کے مدرس مولانا قاری انصر عباس جوادی نے حاصل کی جبکہ جامعہ کے سینئر طالب علم مولانا مہدی حسن نے حدیثِ کساء کی تلاوت کی۔

اس موقع پر مولانا علی عباس معصومی، مولانا سید عون الحسن نقوی قمی، شاعرِ اہل بیتؑ مولانا عاشق حسین مسکین، مولانا محمد اصغر یزدانی، مولانا قاری قربان حسین عارفی، مولانا غلام باقر گھلو، مولانا محمد حامد علی سندرانہ اور مولانا غلام عباس سمیت متعدد علماء و خطباء نے خطاب کیا۔

مہتممِ اعلیٰ حوزہ علمیہ جامعہ المنتظر لاہور علامہ محمد افضل حیدری نے اپنے خطاب میں علامہ قاضی سید نیاز حسین نقوی کی علمی و ملی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے دینی مدارس اور حوزاتِ علمیہ کی اہمیت، علماء کی ذمہ داریوں اور نئی نسل کی دینی و فکری تربیت کی ضرورت پر روشنی ڈالی۔

اسلام آباد میں علامہ قاضی سید نیاز حسین نقوی کی برسی و سالانہ جلسہ / علماء کا علمی و ملی خدمات کو خراجِ عقیدت

انہوں نے کہا: دینی مراکز معاشرے میں علم، اخلاق، بصیرت اور دینی شعور کی ترویج میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں جبکہ علماء کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے اسلاف کی علمی و عملی میراث کو عصرِ حاضر کی ضروریات سے ہم آہنگ کرتے ہوئے آگے بڑھائیں۔

مرکزی سیکرٹری جنرل شیعہ علماء کونسل پاکستان علامہ ڈاکٹر شبیر حسن میثمی نے اپنے خطاب میں فخرِ ملت علامہ قاضی سید نیاز حسین نقوی کی علمی و ملی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا: ایسی شخصیات کی زندگی نئی نسل کے لیے عملی نمونہ ہوتی ہے۔

انہوں نے دینی و ملی مسائل کے حل کے لیے باہمی اتحاد، تنظیم، اجتماعی شعور اور منظم جدوجہد کی ضرورت پر زور دیا اور کہا: ملت کے اجتماعی مسائل کے حل کے لیے علماء، دینی مراکز اور مومنین کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرتے ہوئے کردار ادا کرنا ہو گا۔

اسلام آباد میں علامہ قاضی سید نیاز حسین نقوی کی برسی و سالانہ جلسہ / علماء کا علمی و ملی خدمات کو خراجِ عقیدت

آخر میں مدیر جامعہ اہل بیتؑ حجۃ الاسلام والمسلمین علامہ شیخ شفا نجفی نے مفصل علمی خطاب کیا۔

انہوں نے فخرِ ملت علامہ قاضی سید نیاز حسین نقوی کی علمی جدوجہد کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے علمِ دین کے حصول، اخلاق و کردار کی تعمیر اور دینی تعلیمات کو عملی زندگی میں نافذ کرنے کی ضرورت پر روشنی ڈالی اور کہا: دینی شخصیات کی حقیقی یاد ان کے علمی مشن، تربیتی فکر اور خدمتِ دین کو آگے بڑھانے سے زندہ رہتی ہے۔

قابل ذکر ہے کہ پہلے روز کینیڈا سے علامہ عابد رضا نقوی، لاہور سے مولانا سید علی نقوی اور راولپنڈی و اسلام آباد کے مختلف آئمہ جمعہ و جماعت نے بھی خصوصی شرکت کی۔

اسلام آباد میں علامہ قاضی سید نیاز حسین نقوی کی برسی و سالانہ جلسہ / علماء کا علمی و ملی خدمات کو خراجِ عقیدت

دوسرے روز علمی و فکری نشستیں

دوسرے روز مجلسِ عزا کا آغاز صبح تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جس کے بعد مولانا اکبر ساقی، مولانا سید حسنین نقوی، مولانا مظاہر نجفی، مولانا سید صابر حسین کاظمی، مولانا صابر حسین توحیدی اور دیگر علماء نے خطاب کیا۔

اس موقع پر پروفیسر عابد حسین عابدی نے بھی خطاب کرتے ہوئے عصرِ حاضر میں دینی فکر، معاشرتی تربیت اور نوجوان نسل کی فکری رہنمائی کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔

انہوں نے کہا: موجودہ دور میں علمی و فکری چیلنجز کا مقابلہ مضبوط دینی شعور، مطالعہ، تحقیق اور مؤثر تربیت کے ذریعے کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے علماء اور دینی اداروں پر زور دیا کہ وہ نئی نسل کو دینی اقدار کے ساتھ ساتھ عصرِ حاضر کے فکری مسائل سے آگاہ کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔

اسلام آباد میں علامہ قاضی سید نیاز حسین نقوی کی برسی و سالانہ جلسہ / علماء کا علمی و ملی خدمات کو خراجِ عقیدت

اس موقع پر جامعہ کے مسئول مولانا سید حسن رضا نقوی نے معزز مہمانوں، علماء، آئمہ جمعہ و جماعت، مومنین اور پروگرام میں معاونت کرنے والے احباب کا شکریہ ادا کیا اور مرحومین کے لیے اجتماعی دعائے مغفرت بھی کرائی۔

اسلام آباد میں علامہ قاضی سید نیاز حسین نقوی کی برسی و سالانہ جلسہ / علماء کا علمی و ملی خدمات کو خراجِ عقیدت

قرآنِ مجید کی تقسیم

دوسری نشست کے دوران الاظہر ادارہ خدمتِ خلق موجیانوالہ انٹرنیشنل کے بانی و مؤسس مولانا ساجد علی شرعی کی جانب سے بذریعہ قرعہ اندازی 22 قرآنِ مجید شرکاء میں بطور ہدیہ تقسیم کیے گئے۔ یہ قرآنِ مجید علامہ ڈاکٹر سید محمد نجفی اور علامہ سید مرید حسین نقوی کے دستِ مبارک سے خوش نصیب شرکاء کو پیش کیے گئے۔

بعد ازاں حضرت آیت اللہ حافظ سید ریاض حسین نجفی کی نمائندگی کرتے ہوئے علامہ ڈاکٹر سید محمد نجفی نے خطاب کیا جبکہ مولانا سید حسین رضا نقوی، مولانا سید اظہر عباس شیرازی اور مولانا شیخ انوار علی نجفی نے بھی اظہارِ خیال کیا۔

فخرِ ملت علامہ قاضی سید نیاز حسین نقوی کے فرزند مولانا سید محمد حسن نقوی نے اپنے والدِ گرامی کی حیات، علمی خدمات، دینی جدوجہد اور ملی کردار پر تفصیلی روشنی ڈالی۔

اسلام آباد میں علامہ قاضی سید نیاز حسین نقوی کی برسی و سالانہ جلسہ / علماء کا علمی و ملی خدمات کو خراجِ عقیدت

اس موقع پر علامہ سید مرید حسین نقوی نے فخرِ ملت علامہ قاضی سید نیاز حسین نقوی کی علمی و دینی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا: دینی شخصیات کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ ان کے علمی و تربیتی مشن کو جاری رکھا جائے۔

انہوں نے علماء، آئمہ جمعہ و جماعت اور دینی مراکز کے باہمی تعاون کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیتے ہوئے دینی و ملی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے اجتماعی کاوشوں پر زور دیا۔

علامہ سید مرید حسین نقوی نے جامعہ المنتظر العالمیہ اسلام آباد کے علمی و تربیتی کردار کو بھی اہم قرار دیتے ہوئے کہا: ایسے ادارے معاشرے میں دینی تعلیم، تربیت اور فکری رہنمائی کے مراکز کے طور پر اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے رہیں۔

اسلام آباد میں علامہ قاضی سید نیاز حسین نقوی کی برسی و سالانہ جلسہ / علماء کا علمی و ملی خدمات کو خراجِ عقیدت

قائدِ ملت جعفریہ پاکستان کا خصوصی اختتامی خطاب

دو روزہ سالانہ جلسہ و برسی کا خصوصی اور اختتامی خطاب قائدِ ملتِ جعفریہ پاکستان حضرت علامہ سید ساجد علی نقوی نے فرمایا۔

قائدِ ملت جعفریہ پاکستان نے اپنے خطاب کا آغاز فخرِ ملت حضرت علامہ قاضی سید نیاز حسین نقوی کی علمی، دینی، ملی اور قومی خدمات کے تذکرے سے کیا اور ان کی گراں قدر خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔

انہوں نے کہا: علامہ قاضی سید نیاز حسین نقوی نے اپنی زندگی علمِ دین کی ترویج، دینی تعلیم و تربیت اور ملی و قومی خدمت کے لیے وقف کیے رکھی اور ان کی خدمات اہلِ علم اور نئی نسل کے لیے قابلِ قدر سرمایہ ہیں۔

قائدِ ملت جعفریہ پاکستان نے شہید سید حسن نصر اللہؒ کی برسی کے ایام کی مناسبت سے انہیں بھی خراجِ تحسین پیش کیا اور ان کی دینی و ملی خدمات کو یاد کرتے ہوئے موجودہ حالات میں دینی و ملی شعور کی اہمیت پر بھی روشنی ڈالی۔

اسلام آباد میں علامہ قاضی سید نیاز حسین نقوی کی برسی و سالانہ جلسہ / علماء کا علمی و ملی خدمات کو خراجِ عقیدت

انہوں نے مدارسِ دینیہ کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا: دینی مدارس علم و تربیت کے مراکز ہیں اور ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسے علماء اور مبلغین تیار کریں جو دین کی صحیح تعلیمات کو معاشرے تک پہنچانے کے ساتھ عصرِ حاضر کے فکری و معاشرتی مسائل کا ادراک بھی رکھتے ہوں۔

قائدِ ملت جعفریہ پاکستان نے عزاداریِ سید الشہداءؑ کی اہمیت پر بھی روشنی ڈالی اور واضح کیا کہ عزاداری مکتبِ اہل بیتؑ کی دینی، فکری اور تربیتی روایت کا اہم حصہ ہے۔

انہوں نے موجودہ قوانین کے حوالے سے بھی اہم امور کی طرف توجہ دلائی اور دینی و ملی معاملات میں شعوری، منظم اور ذمہ دارانہ کردار ادا کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

دو روزہ اجتماع کا مجموعی جائزہ

دو روزہ پروگرام میں مجموعی طور پر 31 علماء و خطباء نے خطابات فرمائے جبکہ 49 آئمہ جمعہ و جماعت، مدارس کے مدیران، طلاب اور مومنین نے شرکت کی۔

انتظامیہ کی رپورٹ کے مطابق پہلے روز جامعہ کے افراد کے علاوہ 259 افراد جبکہ دوسرے روز جامعہ کے طلاب و انتظامیہ کے علاوہ تقریباً 700 افراد نے شرکت کی۔ شرکاء میں راولپنڈی، اسلام آباد، اٹک، مری، میانوالی، چکوال اور گرد و نواح سمیت مختلف علاقوں سے آنے والے مومنین شامل تھے۔

پروگرام کی کامیابی میں آئمہ جمعہ و جماعت کی خصوصی معاونت بھی شامل رہی۔ علامہ سید مرید حسین نقوی کی جانب سے راولپنڈی، اسلام آباد اور گرد و نواح کے آئمہ جمعہ و جماعت کو اس علمی و دینی اجتماع میں شرکت کی خصوصی دعوت دی گئی۔

اسلام آباد میں علامہ قاضی سید نیاز حسین نقوی کی برسی و سالانہ جلسہ / علماء کا علمی و ملی خدمات کو خراجِ عقیدت

اختتام پر علامہ سید مرید حسین نقوی نے قائدِ ملت جعفریہ پاکستان حضرت علامہ سید ساجد علی نقوی، علماء و خطباء، آئمہ جمعہ و جماعت، مدارس کے مدیران، طلاب، مومنین اور تمام معاونین و منتظمین کا شکریہ ادا کیا۔

دو روزہ سالانہ جلسہ و برسی دعائے خیر و مغفرت کے ساتھ اختتام پذیر ہوئی۔ اس موقع پر اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ فخرِ ملت حضرت علامہ قاضی سید نیاز حسین نقوی کی علمی، دینی، تبلیغی اور ملی میراث کو آگے بڑھانے، دینی تعلیم و تربیت کو فروغ دینے اور معاشرے میں علمی و ملی شعور کو مضبوط بنانے کے لیے علماء، مدارس اور مومنین اپنا کردار جاری رکھیں گے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha