تحریر: مولانا سید علی ہاشم عابدی
حوزہ نیوز ایجنسی | 5 جمادی الاول، سنہ 5 ہجری؛ مدینۂ منورہ کی فضاؤں میں رحمت کی خوشبو، بیتِ وحی و نبوت میں مسرت کی روشنی، اور آغوشِ عصمتِ کبریٰ میں ایک ایسی شہزادی کی آمد کہ جس کی پیشانی پر تقدیر نے صبر کی عظمت، بصیرت کی تابندگی اور حق کی پاسبانی کا عنوان رقم کر دیا۔ یہ محض ایک ولادت نہ تھی؛ تاریخ کے افق پر ایک ایسے آفتاب کا طلوع تھا جس کی کرنیں کربلا کے ریگزار سے گزر کر کوفہ و شام کے ایوانوں تک پہنچیں گی، جس کی گونج صدیوں کے فاصلے عبور کرے گی، اور جس کا کردار ہر عہد کے مظلوم، ہر دور کے حق گو اور ہر بیدار ضمیر کے لئے چراغِ راہ بنے گا۔
یہ ولادت تھی حضرت زینب کبریٰ سلام اللہ علیہا کی؛ خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نواسی، امیرالمؤمنین امام علی مرتضیٰ علیہ السلام کی دختر و زینت، سیدۂ کائنات حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی نور نظر و ثانی اور پروردۂ مکتبِ وحی و امامت کی۔ وہ شہزادی جس کی رگوں میں شجاعتِ حیدری، جس کے دامن میں طہارتِ فاطمی، جس کے افقِ فکر پر حکمتِ نبوی اور جس کے کردار میں بندگی و استقامت کی وہ جلوہ گری تھی جس نے مصائب کی تاریکیوں میں بھی حق کا چراغ فروزاں رکھا۔
زینبؑ! یہ نام لیتے ہی تاریخ کے اوراق پر ایک ایسی تصویر ابھرتی ہے جس میں آنسو بھی ہیں، مگر شکست نہیں؛ غم بھی ہے، مگر ناامیدی نہیں؛ اسیری بھی ہے، مگر غلامی نہیں؛ اور مصائب کے پہاڑ بھی ہیں، مگر عزم و یقین کی وہ رفعت ہے جس کے سامنے جبر کے ایوان اپنی تمام تر ہیبت کے باوجود بے معنی دکھائی دیتے ہیں۔
آپؑ کے معروف القاب و اوصاف—عقیلۂ بنی ہاشم، عقیلۂ طالبیین، عالمۂ غیر معلّمہ، عارفہ، عابدہ، فاضلہ، کاملہ، صابرہ، شریکۃ الحسین اور ام المصائب—آپؑ کی شخصیت کے مختلف آفاق کی نشان دہی کرتے ہیں۔ یہ محض تعظیمی کلمات نہیں، بلکہ ایک ایسی حیاتِ طیبہ کے عنوانات ہیں جس نے علم کو بصیرت، عبادت کو اخلاص و روحانیت، عفت کو وقار، صبر کو قوت اور حق گوئی کو عبادتِ الٰہی کی عملی تفسیر بنا دیا۔
عقیلۂ بنی ہاشم! آپؑ کی شخصیت کا یہ عنوان اس عقل و تدبیر، متانت و وقار اور بلندئ فکر کی یاد دلاتا ہے جو حالات کے طوفان میں بھی راستہ پہچانتی ہے۔ عقل جب ایمان سے روشن ہو، علم جب اخلاق سے آراستہ ہو اور بصیرت جب رضائے الٰہی کی تابع ہو، تو انسان صرف اپنے زمانے کا تماشائی نہیں رہتا، بلکہ تاریخ کی سمت متعین کرنے والوں میں شمار ہوتا ہے۔ حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے اپنے کردار سے ثابت کیا کہ عظمت کا معیار محض اقتدار، دولت یا ظاہری قوت نہیں؛ اصل عظمت وہ ہے جو انسان کو سخت ترین آزمائش میں بھی اپنے مقصد سے منحرف نہ ہونے دے۔
عالمۂ غیر معلّمہ! اس تعبیر میں معرفت کا ایک روشن جہان آباد ہے۔ آپؑ نے جس گھرانے میں پرورش پائی، وہاں علم کتابوں کے اوراق تک محدود نہ تھا؛ وہ کردار میں ڈھلتا، عبادت میں نکھرتا، عدل میں جلوہ گر ہوتا اور زندگی کے ہر موڑ پر رہنمائی کرتا تھا۔ رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیمات، امیرالمؤمنین علیہ السلام کی حکمت اور حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی طہارت و بصیرت کے اس نورانی ماحول میں آپؑ کی شخصیت پروان چڑھی۔ چنانچہ آپؑ کا علم محض معلومات کا ذخیرہ نہ تھا، بلکہ حق کو پہچاننے، باطل کو بے نقاب کرنے اور ضمیرِ انسانی کو بیدار کرنے والی قوت تھا۔
عابدۂ آلِ علیؑ! آپؑ کی بندگی اس حقیقت کا استعارہ ہے کہ خدا سے مضبوط تعلق رکھنے والا دل مصائب کے ہجوم میں بھی اپنی معنویت نہیں کھوتا۔ عبادت صرف محراب کی خلوت کا نام نہیں؛ کبھی یہی عبادت صبر کی صورت اختیار کرتی ہے، کبھی حق کی گواہی بن جاتی ہے، کبھی مظلوم کی حمایت میں آواز اٹھاتی ہے، اور کبھی طوفانوں کے درمیان ایمان کی شمع کو بجھنے نہیں دیتی۔ حضرت زینب سلام اللہ علیہا کی سیرت اسی عبادت کی تصویر ہے جس میں روحانیت زندگی سے فرار نہیں، بلکہ زندگی کی دشواریوں میں رضائے الٰہی کی جستجو ہے۔
پھر تاریخ کا وہ دن آیا جب کربلا کی سرزمین نے حق و باطل کے درمیان ایک فیصلہ کن معرکہ دیکھا۔ امام حسین علیہ السلام نے اپنے خون سے دین کی حرمت، انسانی شرف اور حق کی سربلندی کا باب رقم کیا؛ اور حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے اس عظیم قربانی کے پیغام کو خاموشی کے سپرد ہونے سے محفوظ رکھا۔ کربلا میں تلواریں خاموش ہوئیں تو خطابت نے زبان کھولی؛ خیموں پر مصائب اترے تو بصیرت نے سر اٹھایا؛ عزیزوں کے لاشے سامنے آئے تو ایمان نے اپنے قدم مضبوط کئے؛ اور اسیری کے راستے کھلے تو حق کی آواز نے قصر ہائے ظلم کا رخ کیا۔
یہی وہ مقام ہے جہاں "شریکۃ الحسین" کی معنویت تاریخ کے افق پر روشن ہوتی ہے۔ امام حسین علیہ السلام کی شہادت اور حضرت زینب سلام اللہ علیہا کی بعد از عاشورا جدوجہد، حق کی ایک ایسی تاریخ کے دو مربوط باب ہیں جنہیں الگ کرکے کربلا کے پیغام کی پوری معنویت نہیں سمجھی جا سکتی۔ ایک نے اپنے خون سے حق کی گواہی ثبت کی، دوسری نے اپنے خطبات، کردار اور استقامت سے اس گواہی کو زمانے کے حافظے میں محفوظ کیا۔ ایک کا لہو میدانِ کربلا میں بہا، دوسری کی آواز نے اس لہو کو فراموشی کے اندھیروں میں گم ہونے نہ دیا۔
کوفہ کے مجمع میں آپؑ کا خطاب محض ایک خطیبہ کی فصاحت نہیں تھا؛ وہ ایک زخمی مگر بیدار ضمیر کی صدا تھی، جو غفلت کے پردوں کو چاک کرتی اور انسان کو اس کی اخلاقی ذمہ داری یاد دلاتی ہے۔ دربارِ ابن زیاد میں آپؑ کی جرأت نے واضح کیا کہ اقتدار کی بلندی کسی کو حق و باطل کا معیار نہیں بنا دیتی۔ پھر شام کے دربار میں آپؑ کی حق گوئی نے اس حقیقت کو مزید نمایاں کیا کہ ظلم کی چمک دمک، حق کی روشنی کو ماند نہیں کر سکتی۔ ایوانوں میں تخت و تاج موجود تھے، مگر تاریخ کی نگاہ اس خاتون پر مرکوز تھی جس کے پاس نہ لشکر تھا، نہ اقتدار، نہ دنیاوی وسائل؛ اس کے پاس ایمان تھا، معرفت تھی، کربلا کی گواہی تھی اور وہ زبان تھی جسے خوف خاموش نہ کر سکا۔
ام المصائب! یہ لقب آپؑ کی زندگی پر گزرنے والے حوادث کی شدت کی یاد دلاتا ہے، مگر آپؑ کی عظمت کا خلاصہ صرف مصائب برداشت کرنا نہیں۔ اصل عظمت یہ ہے کہ انسان غم کے سمندر میں اترے، مگر اپنے مقصد کی کشتی کو ڈوبنے نہ دے؛ دل پر زخموں کی بارش ہو، مگر زبان حق سے خالی نہ ہو؛ نگاہوں کے سامنے عزیزوں کی جدائی ہو، مگر خدا کی حکمت اور رضائے الٰہی پر یقین متزلزل نہ ہو۔ حضرت زینب سلام اللہ علیہا کا صبر بے حسی نہیں تھا، ان کی خاموشی کمزوری نہیں تھی، ان کے آنسو شکست کی علامت نہیں تھے؛ یہ سب ایک ایسے قلبِ مطمئن کی کیفیات تھیں جس کی وابستگی دنیا کے عارضی سہاروں سے بڑھ کر ربِّ کائنات سے تھی۔
حضرت زینب سلام اللہ علیہا کی سیرت عورت کی عظمت کے بارے میں قائم محدود تصورات کو بھی چیلنج کرتی ہے۔ آپؑ نے عفت و حیا کے ساتھ علم و معرفت، وقار کے ساتھ جرأت، عبادت کے ساتھ سماجی ذمہ داری اور حجاب کے ساتھ حق گوئی کی ایسی مثال قائم کی جس میں نسوانی عظمت اور انسانی آزادی ایک دوسرے کی تکمیل کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ آپؑ کی شخصیت بتاتی ہے کہ عفت انسان کی آواز کو کمزور نہیں کرتی، حیا شعور کے راستے میں رکاوٹ نہیں بنتی، اور دینی وقار ظلم کے سامنے سر جھکانے کا نام نہیں۔
آج بھی دنیا کے گوشوں میں جب مظلوموں کی چیخیں بلند ہوتی ہیں، جب اقتدار کے ایوانوں میں سچ کو دبانے کی کوشش کی جاتی ہے، جب علم سے محروم معاشرے تعصب کی تاریکیوں میں بھٹکتے ہیں، اور جب انسان مصلحت کے نام پر اپنے ضمیر سے سمجھوتا کرنے لگتا ہے، تو سیرتِ زینبیؑ ایک سوال بن کر سامنے آتی ہے: کیا ہم حق کو پہچاننے کے باوجود اس کی گواہی دینے کا حوصلہ رکھتے ہیں؟ کیا ہم مصیبت کے وقت اپنے مقصد کو یاد رکھتے ہیں؟ کیا ہمارے علم میں بصیرت، ہماری عبادت میں اخلاص، ہماری زبان میں صداقت اور ہمارے کردار میں عدل موجود ہے؟
ولادتِ باسعادتِ حضرت زینب کبریٰ سلام اللہ علیہا کا جشن اسی وقت حقیقی معنویت اختیار کرتا ہے جب ان کے نام کے ساتھ ان کے پیغام کو بھی اپنی زندگیوں میں جگہ دی جائے؛ جب ہماری بیٹیاں علم و عفت کی دولت سے آراستہ ہوں، ہمارے گھر تربیت و معرفت کے مراکز بنیں، ہمارے معاشرے میں مظلوم کی حمایت کو اخلاقی فریضہ سمجھا جائے، اور ہماری زبانیں سچائی، انصاف اور احترامِ انسانیت کی ترجمان بنیں۔
سلام اے زینبؑ! اے دخترِ حیدرِ کرارؑ، اے پروردۂ آغوشِ فاطمہؑ، اے رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نواسی، اے عقیلۂ بنی ہاشم، اے عالمۂ غیر معلّمہ، اے عابدہ و صابرہ، اے کربلا کی امین اور حق کی پاسبان!
سلام اس عزم پر جو مصائب سے بلند رہا؛ سلام اس بصیرت پر جس نے فریبِ اقتدار کے پردے چاک کئے؛ سلام اس خطابت پر جس نے خاموش تاریخ کو زبان عطا کی؛ اور سلام اس کردار پر جس نے دنیا کو سمجھایا کہ شہادت اگر حق کی گواہی ہے تو اس گواہی کی حفاظت بھی ایک عظیم ذمہ داری ہے۔
کربلا میں خون نے تاریخ لکھی، حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے اس تاریخ کو صدائے ابدیت عطا کی؛ امام حسین علیہ السلام نے حق کے لئے سر دیا، حضرت زینب سلام اللہ علیہا نے اس حق کی گواہی کو زمانے کے سپرد کیا۔
ولادت باسعادت حضرت زینب سلام اللہ علیہا بہت بہت مبارک ہو۔










آپ کا تبصرہ