حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، شیعہ علماء کونسل پاکستان کے مرکزی ایڈیشنل سیکرٹری علامہ سید ناظر عباس تقوی نے کراچی میں منعقدہ ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے شہید رہبرِ انقلابِ اسلامی آیت الله العظمیٰ سید علی خامنہای کو خراجِ تحسین پیش کیا۔

انہوں نے کہا کہ آج انقلاب اسلامی جس مضبوطی اور طاقت کے ساتھ کھڑا ہے، یہ سب شہید رہبر معظم کی حکمت، بصیرت اور تربیت کا نتیجہ ہے۔ ان کی قیادت و رہبری ہی کی بدولت ایران اس خطے میں ایک عالمی قوت بن کر ابھرا ہے، جبکہ استعمار و سامراج، جسے دنیا ناقابلِ تسخیر سمجھتی تھی، آج عالمی سطح پر بے بس نظر آ رہا ہے۔

علامہ سید ناظر عباس تقوی نے مزید کہا کہ امریکہ کی گرتی ہوئی معیشت اور مغرب میں عوامی ردعمل نے دنیا اور اسلامی ممالک کی آنکھوں سے پردہ اٹھا دیا ہے۔ جن امریکہ اور اسرائیل کو ہم اپنی بقا و تحفظ کی ضمانت سمجھتے تھے اور اپنے اپنے ممالک میں امریکی اڈوں کو تحفظ کا سہارا تصور کرتے تھے، وہ خود اپنا تحفظ کرنے میں ناکام رہے۔
انہوں نے شہیدِ مقاومت سید حسن نصراللہ کے اس جملے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جو ممالک امریکہ اور اسرائیل کو اپنی بقا کی ضمانت سمجھ کر بیٹھے ہیں، انہیں یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ امریکہ اور اسرائیل کا وجود مکڑی کے جالے سے بھی زیادہ کمزور ہے۔ آج یہ حقیقت پوری دنیا پر آشکار ہو چکی ہے۔

علامہ سید ناظر عباس تقوی نے موجودہ رہبر معظم آیت اللہ سید مجتبیٰ خامنہای کے مؤقف کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ رہبرِ معظم نے دنیا کو واضح پیغام دیا ہے کہ ایرانی عوام اپنے ملک کی سلامتی اور حقوق کے تحفظ سے ایک قدم بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ حکومتِ ایران کی جانب سے پیش کردہ مطالبات تسلیم کیے بغیر مذاکرات کا عمل آگے نہیں بڑھے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر امریکہ نے ایران پر حملہ کرنے کی حماقت کی تو اس کے نتائج اور قیمت پوری دنیا کو ادا کرنا پڑے گی۔










آپ کا تبصرہ