حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، بحرین کے مختلف علاقوں میں 6 اور 7 نومبر 2026 کو عوامی غم و غصے کا مظاہرہ دیکھنے کو ملا۔ اس مظاہرے کے موقع پر عوام نے مختلف شہروں اور دیہات میں سڑکوں پر نکل کر زیرِ حراست علمائے دین کی حمایت کا اعلان کیا اور ان کی رہائی کا مطالبہ کیا۔
19 علاقوں میں احتجاجی مظاہرے
عوامی احتجاج کے تحت بحرین کے 19 علاقوں میں مظاہرے ہوئے، جن میں کرانہ، شہرکان، مالکیہ، ابو صبیع، مرخ، کرباباد، نویدرات، الدراز، عالی، سار، ابو قوہ، کرزکان، باربار، دار کلیب، نبیہ صالح، صدد، جزیرہ سترہ اور مقابہ شامل ہیں۔
ان مظاہروں میں شریک افراد نے آل خلیفہ حکومت کی جیلوں میں قید علمائے کرام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا اور ان کے خلاف جاری عدالتی کارروائیوں کو مسترد کرتے ہوئے ان کی فوری اور غیر مشروط رہائی کا مطالبہ کیا۔
8 نومبر کے احتجاج کی تیاریاں
رپورٹ کے مطابق، مظاہرین اور احتجاج میں شریک افراد نے سترہ جزیرہ، الدراز اور باربار میں غیر ملکی اہلکاروں کے ساتھ جھڑپیں بھی کیں۔ مختلف علاقوں میں احتجاجی نعرے تحریر کیے گئے اور علمائے دین کی تصاویر دیواروں پر آویزاں کی گئیں۔
ان سرگرمیوں کو 8 نومبر کو ہونے والے عوامی احتجاج کی تیاریوں کا حصہ قرار دیا گیا ہے۔










آپ کا تبصرہ