۲۸ شهریور ۱۴۰۰ |۱۱ صفر ۱۴۴۳ | Sep 19, 2021
تصاویر / مراسم اربعین حاج قاسم سلیمانی و حمایت از جبهه مقاومت توسط آیت الله العظمی مکارم شیرازی ( 2 )

حوزہ/گذشتہ رات قم مدرسہ امام کاظم میں سردار شہید قاسم سلیمانی اور ابو مہدی المھندس کے چہلم کی مناسبت سے منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے آیت اللہ اراکی کا کہنا تھا کہ قرآن مجید کے مطابق دین کے دشمن شدت پسندی و دہشت کو دین ناب محمدی کی جگہ لانا چاہتے ہیں۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق گذشتہ رات قم مدرسہ امام کاظم میں سردار شہید قاسم سلیمانی اور ابو مہدی المھندس کے چہلم کی مناسبت سے منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے آیت اللہ اراکی کا کہنا تھا کہ قرآن مجید کے مطابق دین کے دشمن شدت پسندی و دہشت کو دین ناب محمدی کی جگہ لانا چاہتے ہیں۔
 مجلس خبرگان رہبری کے رکن نے مزید کہا کہ رسول اور انبیاء کرام آئے تھے تاکہ حکومت خدا کی ہو اور خدا کا فرمان حاکم ہو اور شدت پسندی اور دہشت کی تقریباً دو سو سال پہلے انگلش کی طرف سے دین کے نام پر بنیاد رکھی گئی اور وہابیت کو وجود میں لایا تاکہ اس شوم کو دنیائے اسلام میں داخل کرایا جائے اور یہ حربہ استعمار کی طرف سے بہت خطرناک حربہ تھا۔
رکن مجلس خبرگان  نے کہا کہ شدت پسند گروپ اپنی طاقت اور جنگی جرائم کو دین اسلام پر لاگو نہیں کررہے ہیں بلکہ فکری جنگ مسلط کرنا چاہتے ہیں اور جہاں فکری و نظریاتی جنگ میں ناکام ہوں تو وہاں اسلحہ کی جنگ اہل حق پر مسلط کرتے ہیں لیکن استعمار نے انقلاب کے آغاز میں دونوں طریقوں کا استعمال کیا ۔

انہوں نے مزید کہا کہ قرآن کے مطابق ہدف انبیاء دین خدا کا نفاذ تھا جب حضرت موسیٰ علیہ السلام کو سامری پر کامیابی کا احساس ہوا تو خدا سے دعا کی خدایا اپنے دین کی حاکمیت اور اس نیکی کو ہمیشہ  ہمارے لیے برقرار رکھ تو خدا کی طرف سے جواب آیا یہ حاکمیت آپ کے لئے نہیں ہے بلکہ پیامبر خاتم کیلئے ہے۔

درس خارج کے استاد نے کہا کہ امت کو انقلاب اسلامی کی کامیابی ایک فقیہ رہبر کے توسط سے ملی اس کامیابی کے فوراً بعد فکری اور نظریاتی جنگ کے ساتھ باقاعدہ اسلحے کی جنگ شدت اختیار کر گئی۔
انہوں نے آیت اللہ مکارم شیرازی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے مزید کہا کہ یہ مرجع تقلید وہابیت کے مقابلے میں دین اسلام کے دفاع کیلئے ہمیشہ تبلیغ میں مصروف ہیں حتیٰ شیخ الازھر آپ کے ارسال کردہ خطوط سے متاثر ہوئے اور انہوں نے یہ بیان جاری کیا کہ شیعہ سنی دنیائے اسلام کے دو پر کی مانند ہیں اور وہابیت کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔
آیت اللہ اراکی کہا کہ سردار شہید قاسم سلیمانی اور انکے ساتھیوں نے میدان جنگ میں کامیابی حاصل کی اس کے علاوہ ہمیں فکری اور نظریاتی جنگ کا سامنا بھی رہا ہے الحمدللہ اس جنگ میں بھی قم اور نجف کےمراجعین عظام کی ہدایت کی بدولت بڑی کامیابیاں ملیں ہیں
 
درس خارج کے استاد نے کہا کہ وہابیت کا عنقریب خاتمہ ہونے والا ہے آج فعال اور متحرک وہابیت کا وجود ہی نہیں ہے ہمارے دشمن بھی جانتے ہیں کہ وہابیت اب بہت کمزور ہو چکی ہے میں آیت اللہ العظمی مکارم شیرازی کی اجازت سے دنیائے اسلام میں وہابیت کے خاتمے اور دنیائے اسلام کی وحدت کے آغاز کا اعلان کرتا ہوں۔

لیبلز

تبصرہ ارسال

You are replying to: .
3 + 4 =