۹ آذر ۱۳۹۹ | Nov 29, 2020
علامہ ساجد نقوی

حوزہ/ رحمت اللعالمین کی رحلت اور نواسہ رسول اکرم حضرات امام حسنؑ کے یوم شہادت پر اپنے خصوصی پیغام میں ایس یو سی کے سربراہ کا کہنا تھا کہ پیغمبر خاتم (ص) کی جانب سے دعوت حق کے لئے سختیاں، مصیبتیں اور مصائب تو برداشت کئے گئے لیکن اخلاق حسنہ، اعلیٰ انسانی اوصاف و کمالات جیسے فرائض کی انجام دہی سے رہتی دنیا تک کے لئے ضابطہ حیات متعین کیا گیا۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، شیعہ علماء کونسل پاکستان کے سربراہ علامہ ساجد علی نقوی کہتے ہیں کہ پیغمبر گرامی (ص) کی ذات بابرکت امت مسلمہ کے درمیان وحدت و اخوت اور بھائی چارے کا مرکز و محور ہے جبکہ نواسہ پیغمبر اکرم حضرت امام حسنؑ کا مصالحانہ اقدام نہ صرف اسلامی اقدار کے فروغ اور تحفظ کا باعث ہے بلکہ مسلم امہ کے لئے امن و آشتی اور صلح کا تاریخی اقدام ہے، خاتم النبین، رحمت اللعالمین کی رحلت اور نواسہ رسول اکرم حضرات امام حسنؑ کے یوم شہادت پر اپنے خصوصی پیغام میں علامہ سید ساجد علی نقوی کا کہنا تھا کہ امت واحدہ کے لئے قرآنی تصور کو عملی طور پر اجاگر کرنے کے لئے عالم اسلام اور خاص طور پر اسلامیان پاکستان کو ان دو محترم و برگذیدہ شخصیات کی سیرت و کردار کو مشعل راہ بناتے ہوئے معمولی نوعیت کے جزوی اور فروغی اختلافات کو پس پشت ڈالتے ہوئے سینکڑوں مشترکات پر عمل پیرا ہوکر مثالی اسلامی معاشرہ کی تشکیل کو یقینی بنانا ہوگا اور ایسے عناصر سے اظہار لاتعلقی کرنا ہوگا جو وطن عزیز میں انتشار و اتفراق، بدامنی، تعصب اور تکفیر سازی کے ذریعہ داخلی وحدت و سلامتی کے درپے ہیں، ایک مسلمان کا دوسرے مسلمان بھائی کے جان و مال، عزت و آبرو کا تحفظ جیسا اہم فریضہ نبھانا لازم و ناگزیر ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پیغمبر خاتم (ص) کی جانب سے دعوت حق کے لئے سختیاں، مصیبتیں اور مصائب تو برداشت کئے گئے لیکن اخلاق حسنہ، اعلیٰ انسانی اوصاف و کمالات، مہر و محبت، علم و حکمت، تدبر و تحمل، صبر و شکر، عدل و انصاف، اخوت و بھائی چارگی، مخلوق خدا کی خدمت اور حقوق انسانی جیسے فرائض کی انجام دہی سے رہتی دنیا تک کے لئے ضابطہ حیات متعین کیا گیا، اس اسوئہ حسنہ کی تقلید سے ہی امت مسلمہ سربلندی و سرفرازی اور درجہ کمال حاصل کرسکتی ہے۔

علامہ سید ساجد علی نقوی نے مزید کہا کہ دین اسلام کی حقیقی تعلیمات کے فروغ اور تحفظ کے لئے نواسہ پیغمبر حضرت امام حسنؑ کے علم، حلم، جلالت، کرامت میں عکس رسول نظر آتا ہے، ان کا دور امامت انتہائی کٹھن اور مشکل حالات سے دوچار رہا تاہم دین اسلام کے تحفظ اور شناخت کو مضبوط بنانے کے لئے امام حسنؑ کے باعظمت و بھرپور مصالحانہ اقدامات مشعل راہ ہیں، اعتراضات اور تنقید کے جواب میں فرمایا ”تمہیں کیا معلوم شاید یہ تمہارے لئے ایک آزمائش ہو اور مقابل کے لئے ایک عارضی سرمایہ و فرصت ہو“۔ علامہ سید ساجد علی نقوی کا مزید کہنا تھا کہ تعلیمات پیغمبر اکرم اور سیرت امام حسنؑ کی روشنی میں ایک مسلمان کا دوسرے مسلمان بھائی کے جان و مال، عزت و آبرو کا تحفظ جیسا اہم فریضہ نبھانا لازم و ناگزیر ہے اور حالیہ دور میں امت مسلمہ کو وحدت کی بہت زیادہ ضرورت ہے۔

لیبلز

تبصرہ ارسال

You are replying to: .
1 + 2 =