۳۰ دی ۱۳۹۹ | Jan 19, 2021
مقبوضہ فلسطینی علاقے میں یہودی آباد کاروں کے لیے 800 نئے گھر

حوزہ/ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے مغربی کنارے کے مقبوضہ فلسطینی علاقے میں یہودی آباد کاروں کے لیے آٹھ سو نئے گھروں کی تعمیر کی منظوری کا حکم دے دیا ہے۔ مقبوضہ ویسٹ بینک میں پہلے ہی تقریبا ساڑھے چار لاکھ یہودی آباد ہیں۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے مغربی کنارے کے مقبوضہ فلسطینی علاقے میں یہودی آباد کاروں کے لیے آٹھ سو نئے گھروں کی تعمیر کی منظوری کا حکم دے دیا ہے۔ مقبوضہ ویسٹ بینک میں پہلے ہی تقریبا ساڑھے چار لاکھ یہودی آباد ہیں۔
وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو نے اسرائیلی حکام کو ہدایت دی کہ وہ ویسٹ بینک کے مقبوضہ علاقے میں اسرائیلی شہریوں کے طور پر یہودی آباد کاروں کے لیے 800 نئے گھروں کی تعمیر کی منظوری دینے میں دیر نہ کریں۔ نیتن یاہو نے یہ حکم ایک ایسے وقت پر دیا ہے، جب اسرائیل نواز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے عہدے کی مدت پوری ہونے میں صرف چند روز باقی ہیں۔

مغربی کنارے‘ کے بجائے ’یہودا و السامرہ‘
نیتن یاہو کے دفتر کے جاری کردہ ایک بیان میں پیر گیارہ جنوری کے روز کہا گیا، ”وزیر اعظم نیتن یاہو نے حکم دیا ہے کہ یہودا اور السامرہ میں (آباد کاروں کے لیے) 800 نئے رہائشی یونٹوں کی تعمیر کے منصوبے پر طے شدہ وقت سے پہلے ہی کام شروع کر دیا جائے۔‘‘
اس سرکاری بیان میں مقبوضہ فلسطینی علاقے کے طور پر مغربی کنارے کا نام نہیں لیا گیا بلکہ اس کے لیے ‘یہودا و السامرہ‘ کی اصطلاح استعمال کی گئی، جو کہ ویسٹ بینک کے علاقے کا وہ نام ہے، جس کا ذکر بائبل میں ملتا ہے۔

جو بائیڈن کے اقتدار میں آنے سے پہلے کی جلدی
نیتن یاہو حکومت نے مقبوضہ فلسطینی علاقے میں یہودی آباد کاروں کے لیے سینکڑوں نئے گھروں کی تعمیر کی جلد منظوری کا اعلان عین اس وقت اس لیے کیا ہے کہ وہ اس منصوبے پر کام کا آغاز نئی امریکی حکومت کے اقتدار میں آنے سے پہلے پہلے کر دینا چاہتی ہے۔
اس کا سبب یہ ہے کہ ریپبلکن امریکی صدر ٹرمپ نے اپنے دور اقتدار میں اسرائیل سے متعلق کئی ایسے فیصلے کیے جو کسی بھی ڈیموکریٹ امریکی صدر کی طرف سے کئی عشروں میں دیکھنے میں نہیں آئے تھے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کے اس سیاسی رویے کے برعکس امریکا کے نو منتخب ڈیموکریٹ صدر جو بائیڈن، جو اگلے ہفتے اپنے عہدے کا حلف اٹھائیں گے، یہ واضح اشارہ دے چکے ہیں کہ وہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں یہودی آباد کاروں کی بستیوں میں توسیع کے اسرائیلی منصوبوں کی مخالفت کی امریکا کی گزشتہ پالیسی پر ہی عمل کریں گے۔

نیتن یاہو کے اعلان کا سیاسی پہلو
وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو نے آج پیر کو جو اعلان کیا، اس کا ایک سیاسی پہلو یہ بھی ہے کہ اسرائیل میں 23 مارچ کو ایک بار پھر عام انتخابات ہونے والے ہیں اور نیتن یاہو اس الیکشن کے نتیجے میں ایک بار پھر اپنے اقتدار میں آ جانے کے خواہش مند ہیں۔
یہ عام الیکشن اسرائیل میں گزشتہ دو سال سے بھی کم عرصے کے دوران ہونے والے چوتھے عام انتخابات ہوں گے۔

مغربی کنارے میں یہودی آباد کاروں کی مجموعی آبادی کتنی؟
مغربی کنارے کا مقبوضہ فلسطینی علاقہ ایک ایسا خطہ ہے جہاں فلسطینی شہریوں کی کُل آبادی تقریباﹰ 2.8 ملین بنتی ہے۔ لیکن وہاں اسرائیل کی طرف سے پہلے ہی اتنی یہودی بستیاں بسائی جا چکی ہیں کہ ان میں رہنے والے اسرائیلی آباد کاروں کی تعداد تقریباﹰ ساڑھے چار لاکھ بنتی ہے۔
جہاں تک ویسٹ بینک کے فلسطینی علاقے میں اب تک تعمیر کردہ یہودی بستیوں کی قانونی حیثیت کا تعلق ہے، تو بین الاقوامی برادری کا ایک بہت بڑا حصہ ان جملہ یہودی بستیوں کو غیر قانونی سمجھتا ہے کیونکہ یہ ویسٹ بینک کی تسلیم شدہ متنازعہ حیثیت کی خلاف ورزی کرتے ہوئے تعمیر کی گئیں۔

فلسطینی خود مختار انتظامیہ کی طرف سے مذمت
فلسطینی خود مختار انتظامیہ نے ویسٹ بینک میں یہودی آباد کاروں کے لیے 800 نئے گھروں کی تعمیر کے نیتن یاہو کے اعلان کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم کا یہ فیصلہ نہ صرف بین الاقوامی قوانین کے منافی ہے بلکہ یہ نیتن یاہو کی وقت کے خلاف اس دوڑ کی نشاندہی بھی کرتا ہے، جو وہ امریکا میں صدر ٹرمپ کا دور اقتدار ختم ہونے سے پہلے جیت لینا چاہتے ہیں۔

تبصرہ ارسال

You are replying to: .
8 + 6 =