۲۷ فروردین ۱۴۰۰ | Apr 16, 2021
علامہ افضل حیدری

حوزہ/ وفاق المدارس الشیعہ پاکستان کے سیکرٹری جنرل نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ مدارس دینی تعلیم و تربیت کے مراکز ہیں،کبھی کسی کے لئے مشکلات پیدا نہیں کی، اگر مدارس کو پریشان کیا گیا تو حکومت کے لئے بھی مشکلات پیدا ہوسکتی ہیں۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، لاہور/ وفاق المدارس الشیعہ پاکستان کے سیکرٹری جنرل علامہ محمد افضل حیدری نے حکومت کی طرف سے نئے مدرسہ بورڈز کی تشکیل پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ مدارس کے مابین تفریق پیدا کرنا پسندیدہ روش نہیں،عمران خان حکومت سے ایسے ناپسندیدہ اقدام کی توقع نہیں تھی۔

انہوں نے کہا کہ یہ کام توجنرل مشرف کی غیر جمہوری حکومت بھی نہیں کرسکی تھی ۔مدارس دینی تعلیم و تربیت کے مراکز ہیں ۔کبھی کسی کے لئے مشکلات پیدا نہیں کیں لیکن بلا وجہ انہیں پریشان کیا گیا توحکومت کے لئے بھی مشکلات پیدا ہوسکتی ہیں۔مدارس کی آزادی اورخود مختاری کے تحفظ کے لئے "اتحاد تنظیمات مدارس" جدوجہد جاری رکھے گی۔

جامعتہ المنتظر میں علماء سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ مدارس اسلام کے قلعے اور علمی مراکز ہیں۔ مدارس کا کوئی سیاسی ایجنڈا نہیں ،ان کے خلاف انتقامی حربے استعمال کرنا افسوسناک ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت بعض مدارس کو نوازنا چاہتی تھی تومتوازی ادارے قائم کر کے تفریق و تقسیم کی بجائے انہیں پہلے سے موجود چند دیگر مدارس کی طرح امتحان لینے کا اختیار بھی دے سکتی تھی ۔مگر ایسا نہیں کیا گیا اور متوازی وفاق المدارس قائم کرکے غلط اقدام کیا گیا۔ اسلامی تعلیمات کی رو سے حاکم کا کام ملت کے طبقات کو آپس میں جوڑنا ہے،تقسیم کرنا نہیں۔

علامہ محمد افضل حیدری نے افسوس کا اظہار کیا کہ پانچ وفاق المدارس کے نمائندہ پلیٹ فارم" اتحاد تنظیمات مدارس" نے ہر حکومت کے مثبت کاموں میں تعاون کیا لیکن اس کی قدر دانی نہیں کی گئی۔

لیبلز

تبصرہ ارسال

You are replying to: .
6 + 3 =