۲۷ مرداد ۱۴۰۱ |۲۰ محرم ۱۴۴۴ | Aug 18, 2022
علامہ ناظر عباس تقوی

حوزہ/علامہ ناظر تقوی نے کہا کہ وطن عزیز میں عوام بھوک اور بے روزگاری سے تنگ آکر خودکشیاں کرنے اور مائیں بچوں کو زہر دے کر خود بھی ابدی نیند سونے لگیں، وہاں ترقی کے وعدے عوام کا مذاق اڑانے کے مترادف ہیں۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، شیعہ علماء کونسل پاکستان کے سینئر رہنما علامہ ناظر عباس تقوی نے کہا کہ وطن عزیز میں عوام بھوک اور بے روزگاری سے تنگ آکر خودکشیاں کرنے اور مائیں بچوں کو زہر دے کر خود بھی ابدی نیند سونے لگیں، وہاں ترقی کے وعدے عوام کا مذاق اڑانے کے مترادف ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ وطن عزیز کی ترقی کے حکومتی وعدے محض دعویٰ اور اخباری بیانات تک ہی محدود دکھائی دے رہے ہیں، حکومتی اداروں کا کوئی پُرسان حال نہیں ہے، صحت توانائی اور تعلیم سمیت بنیادی ضروریات کے تمام شعبے عوام کو سہولیات کے بجائے مشکلات سے دوچار کرنے میں لگے ہوئے ہیں، ملک کے بیشتر حصوں میں گیس کی عدم فراہمی، طبی سہولتوں کے فقدان اور تعلیمی اداروں کی حالت زار سے عام آدمی کی زندگی اجیرن بنی ہوئی ہے۔علامہ ناظر تقوی نے کہا کہ حکومت کا اولین فریضہ یہ ہے کہ وہ عام آدمی کے معمولات زندگی کو بہتر بنائے۔

شیعہ علماء کونسل کے سینئر رہنما نے کہا کہ جہاں عام آدمی بھوک اور بے روزگاری سے تنگ آکر خودکشیاں کرنے اور مائیں بچوں کو زہر دے کر خود بھی ابدی نیند سونے لگے، وہاں ترقی کے دعوے عوام کا مذاق اڑانے کے مترادف ہیں۔انہوں نے کہا کہ کرپٹ حکمران کا واحد ہدف اقتدار کو بچانا ہے، انہیں ملک کی عوام سے کوئی غرض نہیں، ملکی ترقی کے حکومتی دعوے محض اخباری بیانات تک محدود ہیں۔

آخر میں انہوں نے اس بات پر زور دے کر کہا کہ حکومت کو اگر ذاتی کاموں سے فرصت ملے تو قومی امور پر بھی توجہ دے، اسکولوں اور ہسپتالوں کی حالت کو بہتر بنایا جائے، پڑھے لکھے بے روزگار افراد کی باوقار نوکریوں کے لئے اقدامات کرنا بھی ریاست کی اہم ذمہ داریوں میں شامل ہے۔

لیبلز

تبصرہ ارسال

You are replying to: .
2 + 5 =