۲ مرداد ۱۴۰۳ |۱۶ محرم ۱۴۴۶ | Jul 23, 2024
امام جمعه همدان

حوزہ / ایران کے صوبہ ہمدان میں نمائندہ ولی فقیہ نے کہا : یہ کیسے ممکن ہے کہ کوئی امام حسین علیہ السلام کی جانب حرکت کر رہا ہوں اور اس کی نماز اول وقت کی جانب توجہ نہ ہو جبکہ امام حسین علیہ السلام جنگ اور تیروں کی بارش میں بھی نماز کی جانب متوجہ تھے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران کے صوبہ ہمدان کے امام جمعہ حجۃ الاسلام والمسلمین حبیب اللہ شعبانی نے چہلم سید الشہداء علیہ السلام کے موقع پر کربلا جانے والے طلباء سے خطاب کرتے ہوئے کہا: اربعین کے موقع پر پیدل چل کر امام حسین علیہ السلام کی زیارت کرنے کا آغاز 61 ہجری میں جابر بن عبداللہ انصاری کی زیارت اربعین سے ہوتا ہے اور موجودہ دور میں جس طرح زیارتِ اربعین پر لوگ جاتے ہیں اس کا آغاز مرحوم شیخ انصاری رحمۃ اللہ علیہ کے زمانے سے ہوا۔

انہوں نے روایات اور سیرت معصومین علیھم السلام میں زیارت اربعین کی اہمیت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: روایات میں آیا ہے کہ اگر کوئی زیارت امام حسین علیہ السلام کے لئے ایک قدم اٹھاتا ہے تو اس کے بدلے اس کے نام پر ایک نیکی لکھ دی جاتی ہے یا اس کا ایک گناہ مٹا دیا جاتا ہے۔

صوبہ ہمدان میں نمائندہ ولی فقیہ نے مزید کہا: حضرت امام علی علیہ السلام باب معرفت ہیں اور بزرگان دین اگر کوئی معنوی یا معرفتی حاجت رکھتے تھے تو امام علی علیہ السلام کی زیارت کرتے تھے اور اگر ان کی کوئی مادی یا دنیاوی حاجت ہوتی تو وہ کربلا میں سید الشہداء علیہ السلام کی زیارت کے لئے جاتے تھے۔

حجۃ الاسلام والمسلمین شعبانی نے کہا: امام حسین علیہ السلام کے قیام کے اہداف میں سے ایک نماز اول وقت کی اہمیت سے لوگوں کو آگاہ کرنا ہے لیکن بعض اوقات دیکھا گیا ہے کہ زائرین کرام امام حسین علیہ السلام کی زیارت کے لئے تو پیدل چل رہے ہوتے ہیں لیکن وہ اذان اور نماز اول وقت کی جانب توجہ نہیں دیتے اور اپنا سفر جاری رکھتے ہیں۔ اس قسم کے مناظر دیکھ کر انسان کو تعجب ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا: کیسے ممکن ہوسکتا ہے کہ انسان امام حسین علیہ السلام کی زیارت کے لئے جا رہا ہوں لیکن وہ نماز اول وقت کی جانب متوجہ نہ ہو جبکہ امام حسین علیہ السلام نے جنگ اور تیروں کی بارش میں بھی نماز اول وقت کو یاد رکھا۔

شہر ہمدان کے امام جمعہ نے کہا: زائرین کو چاہیے کہ وہ اس سفر کے دوران خود کو امام زمانہ عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف کے نزدیک تر کریں۔

لیبلز

تبصرہ ارسال

You are replying to: .