۲۸ خرداد ۱۴۰۳ |۱۰ ذیحجهٔ ۱۴۴۵ | Jun 17, 2024
عبدالواحد ریگی

حوزہ؍ صوبہ سیستان و بلوچستان کے شہر خاش کے امام جمعہ مولوی عبدالواحد ریگی کا کوئی گناہ نہیں تھا سوائے اس کے کہ انہوں نے لوگوں کو پرسکون اور فتنہ و فساد سے دور رہنے کی دعوت دی۔

تجزیہ نگار: سید لیاقت علی کاظمی

حوزہ نیوز ایجنسی | ایران کے صوبہ سیستان و بلوچستان کے حکام کے مطابق، اہل سنت عالم مولوی عبدالواحد ریگی، جو اسلامی انقلاب کے حامی عالم تھے، کو نامعلوم حملہ آوروں نے اغوا کر کے قتل کر دیا۔ خاش، جنوب مشرق کے ایک صوبے میں، مولوی ریگی امام حسین مسجد میں نماز جمعہ کی امامت کے انچارج تھے۔

صوبے کے پراسیکیوٹر مہدی شمس آبادی کے مطابق، مولوی جمعرات کو اپنی مسجد میں موجود تھے، لیکن نامعلوم افراد نے انھیں پچھلے دروازے سے بلایا، اور انھیں ایک ایسی گاڑی میں بیٹھنے پر مجبور کیا جس پر لائسنس پلیٹ نہیں تھی۔

شمس آبادی نے وضاحت کی کہ، جمعرات کو، مقامی حکام کو مولوی صاحب کی تلاش کے لیے متحرک کیا گیا تھا۔ تاہم، ان کی لاش، خاش کے مضافات میں سڑک کے کنارے ملی جس کے سر پر تین داخلی اور خارجی گولیوں کے زخم تھے۔

اہلکار نے کہا کہ پولیس ذمہ داروں کی شناخت اور گرفتاری کے لیے تحقیقات کر رہی ہے۔سنی عالم کو اس سے قبل مختلف اسلام مخالف گروہوں کی طرف سے ان کے خلاف دی جانے والی دھمکیوں کے بارے میں مطلع کیا گیا تھا ۔

ریگی نے مبینہ طور پر رہبر انقلاب اسلامی سید علی خامنہ ای کی طرف سے صوبے میں بھیجے گئے ایک مندوب کو بتایا: "یہاں تک کہ مخالف گروپوں نے مجھے دھمکیاں دی ہیں، لیکن یہ [دھمکیاں] کام نہیں آئیں گی۔"

ایران میں اسلامی اسٹیبلشمنٹ کی اہمیت اور شیعہ اور سنی مسلمانوں کے درمیان ہم آہنگی کی ضرورت پر ان کا زور ان کی اور وفد کے درمیان مختصر گفتگو کے دوران فوٹیج میں دیکھا جا سکتا ہے۔

ریگی نے کہا کہ اس مسجد کے کسی ایک رکن نے بھی خاش میں فسادات میں حصہ نہیں لیا۔ اس وقت مولوی نے وضاحت کی تھی، "میں نے ان سے کہا کہ کسی کو مسجد سے باہر جانے کی اجازت نہیں ہے کیونکہ ہم جانتے تھے کہ وہاں منافق موجود ہیں اور ہم جانتے ہیں کہ وہ کیا کر رہے ہیں… ہم دشمنوں اور منافقوں کی سازشوں سے واقف ہیں ۔ "اس کے علاوہ، انہوں نے کہا تھا کہ ہم اس ملک سے محبت کرتے ہیں۔

جی ہاں، خاش شہر کے امام جمعہ مولوی عبدالواحد ریگی نہ منافق تھے، نہ انتشار پسند، اور نہ ہی سعودی عرب، اسرائیل اور امریکہ کے کرائے کے قاتلوں میں سے تھے، جنہوں نے ایران میں سنیوں کے دفاع کا جھوٹا جھنڈا اٹھا رکھا ہے۔

شہید مولوی عبدالواحد ریگی ان شخصیات میں سے ایک تھے جن سے رہبر معظم انقلاب اسلامی کے وفد نے سیستان و بلوچستان کے دورے پر ملاقات کی جس کا مقصد دہشت گرد گروہوں کو اس صوبے میں افراتفری پھیلانے سے روکنا تھا۔ انہوں نے وفد سے ملاقات میں کہا تھا کہ حکومت مخالف گروہوں نے انہیں دھمکیاں دی ہیں۔ اس شہید عالم دین نے کہا تھا کہ منافقین اور ملک دشمنوں کے منصوبے اور سازشیں سب کے سامنے آچکی ہیں۔

مولوی عبدالواحد ریگی کے قتل اور شیعہ عالم دین اور زاہدان "مولائے متقین" مسجد کے امام حجت الاسلام سجاد شہرکی کے قتل میں صرف 40 دن کا وقفہ تھا اور اس میں کوئی شک نہیں کہ دونوں قتل کی وجہ اور مقصد ایک ہی تھا۔ ایک جیسے ہی دونوں دہشت گردانہ حملوں کا مقصد ایران کی سلامتی اور امن کو درہم برہم کرنا اور اسے افراتفری اور تباہی میں جھونکنا ہے تاکہ ایران میں صہیونی، سعودی اور امریکہ کے مذموم عزائم اور منصوبوں کو عملی جامہ پہنایا جا سکے جو سنیوں اور دیگر اقلیتوں کو اس ملک میں فتنہ کی آگ بھڑکانے کے لیے ایک ہتھیار کے علاوہ کسی چیز کے طور پر نہیں دیکھتے۔

ایران کے دشمن صوبہ سیستان و بلوچستان کے ایک حصے میں ایک شیعہ عالم کو قتل کرکے ہیں اور اس کے دوسرے حصے میں ایک سنی عالم کو قتل کرکے سنی شیعہ فساد اور فتنہ کی آگ میں بھڑکانا چاہتے ہیں جس کی اطلاع خود شہید مولوی عبدالواحد ریگی نے بھی دی تھی۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ ہر غیرت مند ایرانی کا سینہ اپنے مذہب، مسلک اور قومیت سے ہٹ کر ایسے فتنوں سے پاک ہے۔ اس طرح کے قتل و غارت فتنہ انگیزوں کی مایوسانہ کوشش ہے جس نے ایرانی قوم کے اتحاد کو نشانہ بنایا ہے جبکہ اس قوم کے فرزندوں کے درمیان برادرانہ تعلقات اس طرح کی فتنہ انگیزیوں کو ثمر آور نہیں ہونے دیتے اور اس مسئلے نے ایران کے دشمنوں کو اس طرح دیوانہ بنا دیا ہے اور وہ چھوٹے بڑے کسی پر بھی رحم کے لیے تیار نہیں ہیں اور وہ اپنے مذموم مقاصد کے حصول کے لیے ایران کے تمام لوگوں کو چاہے وہ کسی بھی مذہب کے ہوں قربان کرنے کے لیے تیار ہیں، حالانکہ ایران کی عظیم قوم ایسے فتنوں کے جال میں پھنسنے سے باخبر اور چوکس ہے۔

بلاشبہ شہید سجاد شہرکی کے قتل کی طرح شہید مولوی عبدالواحد ریگی کا قتل ایرانی قوم کے اتحاد کو تقویت دے گا اور اس سرحد اور خطے کے دشمنوں کو رسوا کرے گا، کرائے کے قاتل جو کہ داعش کی طرح سعودی کے حرام ڈالروں کے حصول کی کوشش کر رہے ہیں اور صہیونی حکومت اور امریکی حکومت کے منصوبوں کو عملی جامہ پہناتے ہوئے اس کے تلوے چاٹ رہے ہیں؛ انہیں ان کے جرائم کی سزا ضرور ملے گی۔

نوٹ: حوزہ نیوز پر شائع ہونے والی تمام نگارشات قلم کاروں کی ذاتی آراء پر مبنی ہیں حوزہ نیوز اور اس کی پالیسی کا کالم نگار کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

لیبلز

تبصرہ ارسال

You are replying to: .