۱۰ خرداد ۱۴۰۳ |۲۲ ذیقعدهٔ ۱۴۴۵ | May 30, 2024
آندھرا۔۔ قاسم سلیمانی

حوزہ/ آندھرا پردیش شیعہ علماء بورڈ کے پرسیڈنٹ مولانا سید عباس باقری نے ٣ جنوری ٢٠٢٣ کی رات اپنے گھر میں سردار شھید قاسم سلیمانی کی برسی کے موقع پر منعقد مجلس سے خطاب کیا۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، آندھرا پردیش شیعہ علماء بورڈ پرسیڈنٹ مولانا سید عباس باقری نے ٣ جنوری ٢٠٢٣عیسوی کی رات اپنے گھر میں سردار شھید قاسم سلیمانی کی برسی کے موقع پر منعقد مجلس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اب ہر سال اس شھید کی یاد منائی جاتی رہے گی کیونکہ عصر حاضر میں اس مردِ الٰہی نے جو قربانیاں پیش کی ہے اس سے تاریخ کبھی فراموش نہیں کرسکتی۔
انہوں نے کہا: یہ وہ عظیم شخصیت ہے جسے نہ تو دوست بھول سکتے ہیں اور نہ ہی دشمن، آج بھی باطل طاقتیں اس شھید کے صرف نام اور تصویر سے ہی اس قدر خوف زدہ ہے کہ ٹیوٹر، فیس بک اور انسٹاگرام پر اگر کوئی ان نام بھی لکھ دیتا ہے تو اس کے اکاونٹ کو بلاک کردیا جاتا ہے اُن کی اس مذموم حرکت سے قلم اور بیان کی آزادی کے کھوکھلے نعرے لگانے والوں حقیقت سامنے آجاتی ہے۔
مولانا نے مزید کہا: سردار شھید قاسم سلیمانی کی زندگی کے حالات اور ان کے وصیت نامے کو ہر ایک کو پڑھنا چاہیے کیونکہ فداکاری، ایثار، قربانی، شھادت کا جذبہ، عرفانِ الہی، کربلا کا درد، مظلوموں کی حمایت، ظالموں سے نبرد آزمائی، ولایت مداری، ہدف کے ساتھ وفاداری، عبادتِ الہی، ظہورِ امام عصر عج کے زمینہ سازی ان تمام مفاہیم کو یکجا کرکے مُجسَّم کردے تو وہ سردار شھید قاسم سلیمانی بنتے ہیں، اسی لئے سیدِ مقاومت، شیرِ عرب حضرت سید حسن نصراللہ نے فرمایا کہ شھید سلیمانی آج ایک شخص کا نام نہیں ہے بلکہ ایک مکتبِ فکر کا نام ہے۔
مولانا کے خطاب سے پہلے برخورد سید ھادی رضا باقری نے تلاوت کلام مجید سے مجلس کا آغاز کیا کثیر تعداد میں مؤمنین نے شرکت کی اور تمام شہدائے اسلام کو خراجِ عقیدت پیش کیا، اور اسی طرح آندھرا پردیش کے ایک شہر، کاکی ناڈا کے مصروف ترین سڑک پر انقلابی جوانوں نے شربت کی سبیل لگاکر راستہ چلتے تمام راہروں کو شھید کی شخصیت اور ان کی زندگی اور ان کے کارناموں سے متعارف کرواتے رہیں.

لیبلز

تبصرہ ارسال

You are replying to: .