۱۰ خرداد ۱۴۰۳ |۲۲ ذیقعدهٔ ۱۴۴۵ | May 30, 2024
News ID: 387145
3 جنوری 2023 - 14:05
حاج قاسم سلیمانی

حوزہ/ ہمارا فریضہ ہیکہ ہم شہید قاسم سلیمانی کے راستے کو جاری رکھیں اور ان کے مشن کو بہترین انداز میں پایہ تکمیل تک پہونچاییں جو انھوں نے ہمارے کندھوں پر رکھا ہے۔

تحریر : محمد جواد حبیب کرگلی

حوزہ نیوز ایجنسی | قاسم سلیمانی ولد حسن، 11 مارچ 1957ء کو ایران کے صوبہ کرمان کے مضافات میں رابُر نامی شہر کے سلیمانی قبیلے میں متولد ہوئے۔ اور 3 جنوری 2020ء کو ان کی گاڑی پر امریکی حملے میں عراق کے رضاکار فورس حشد الشعبی کے نائب سپہ سالار ابو مہدی المہندس سمیت بعض دیگر ساتھیوں کے ساتھ بغداد میں شہید ہوئے۔لیکن دنیا سجمھ گئی کہ عصر حاضر کی عظیم طاقت، قاسم سلیمانی تھے،دنیاوالوں نے آپکی شہادت پریہ دیکھاکہ! سردار قاسم سلیمانی، ابو مہدی مہندس اور انکے ساتھیوں کی شہادت کے بعد تشیع، جنازہ عراق کے لاکھوں لوگوں نے بغداد، کاظمین، اور کربلا ونجف میں کیں، اور پھر شہید سردار کا جنازہ، ایران منتقل ہوا، پھر خود ایران کے مختلف شہروں (اهواز،مشهد،تهران،قم وکرمان) میں کروڑوں لوگوں نے آپ کی تشیع جنازہ میں شرکت کی، اس کے علاوہ تہران میں ملیونون لوگ تشیع، جنازہ میں شریک ہوئے، خبر کے مطابق ایران میں سید روح‌الله امام خمینی رحمت اللہ علیہ کی تشیع جنازہ کے بعد سب سے بڑی تعداد میں جمعیت آپ کے جنازہ میں شریک ہوئے ہیں یہ خود اس بات کی دلیل ہے کہ جسے خدا وند زندہ رکھے اس کو کوئی مٹا نہیں سکتاہے ۔

نورحق شمع الہی کو بھجاسکتا ہے کون

جسکا حامی ہوخدا اسکو مٹاسکتا ہے کون

شیعہ قوم کی تاریخ مظلومیت سے عبارت ہے ۔ شہادت سے آغاز ہوتی ہےاور ہر زمانہ میں اسی شہادت کا تسلسل بر قرارہا ہے۔ چودہ صدی پر مشتمل تاریخ کا ہر وقفہ اہل بیت کے چاہنے والوں کی مظلومیت میں گزرا ہے۔ عزاداری ہو یا مقدسات عزا کا تحفظ، شہادت کے بغیر نامکمل نظر آتاہے۔ عزاداری کے تعلق سے برصغیر میں جانے کتنے عزادار سرخروئے حق ہوئے اور اسی طرح ائمہ معصومین علیہم السلام کے مقدس مقامات کے تحفظ میں بے پناہ دلاوراپنی جان کا نذرانہ پیش کرچکے ہیں۔ ۳جنوری ۲۰۲۰ اسی محافظ گروہ کا سردار قاسم سلیمانی بھی اپنی شہادت سے سرخرو ہوگئے تھے ۔شہید قاسم سلیمانی کون تھے ؟ انکی مکتب فکر کیا تھی ؟ اس کوسمجھناآج ہماری ذمہ داری ہے ۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی سید علی خامینہ ای حفظہ اللہ کے فرمان کے مطابق : "شہید قاسم سیلمانی ایک مکتب کا نام ہے "مزید انہوں جہاں جامعیت کے ساتھ اس شہید فقید کا تعارف کروایا ہے وہاں دشمن کو بھی یہ پیغام دیا ہے شہید قاسم سیلمانی صرف جنرل ہی نھیں تھے بلکہ ایک مکتب کا نام ہے جو اپنے افکار کے ساتھ زندہ تھا اور زندہ رہے گا۔ شہید کے جانے سے اس مکتب کے پیرو کار اسے زندہ رکھیں گے۔

تلوار کی دھار سے کٹ سکتی نھیں کردار کی لو

بدن کی موت سے کر دار مر نھیں سکتا.

مکتب آیت اللہ شہید مرتضی مطہری کی نگاہ میں:’’ ایک تھیوری اور جامعہ اور مکمل منصوبہ هے جسکا اصلی ہدف انسان کے لے کمال اور سعادت کی راہ کو معین کر نا ہے ‘‘شہید قاسم سیلمانی نے اپنی پاکیزہ فکر اور عمل کے ذریعے اس مکتب کی بنیاد رکھی اور مادیات کے اس دور میں ظلمت سے نکل کر نور کی طرف راہ کی راہنمایی فرمائی۔ شہید قاسم سیلمانی ایک مکتب کا نام ہے تو پھر اس کے اندر جامعیت کا عنصر بھی موجود ہونا چاہئے جو ہر دور کے عشاق کو راہنمایی کر سکے۔ جب شہید ایک مکتب اور مدرسہ ہے تو پھر جس طرح ایک مدرسہ اور مکتب میں مختلف علوم ہوتے ہیں، شہید قاسم سلیمانی کا مکتب بھی اپنے طالب کے لئے نصاب رکھتا ہے، جہاں اخلاق و معنویت، خدا کے ساتھ ارتباط ، اخلاص، یقین کامل، عزم راسخ، سعہ صدر، بردباری، عشق و محبت، شناخت دشمن، بصیرت، مقاومت، جس کی تفسیر علمی معاشرے میں رہتے پاکیزہ اور بابصیرت افراد میدان جنگ میں موجود مجاہدین اور اس کی علمی تفسیر بابصریت علماء کا وظیفہ ہے۔جب مکتب ہے تو پھر اپنے اندر اسرار و پیغام رکھتا ہے.اے دشمنان اسلام تم سمجھ رہے تھے شہید قاسم سیلمانی اور ابو مہدی المہندس کو شہید کر کے تم اپنے مقاصد میں کا میاب ہو جاو گے۔

نور خدا ہے کفر کی حالت پے خندہ زن/پھونکو ں سے یہ چراغ بجھایا نہ جاے گا۔

وعدہ الہی ہے بریدون ان یطفوا نور اللہ با فواھھم وللہ منتم نور ہ ولو کرہ الکافرون

شہید حاج قاسم سلیمانی خود فرماتے ہیں شہید ہونے کے لئے کچھ شرایط ہیں۔

پہلی شرط یہ ہے شہید بودن شرط شہیدشدن است یعنی شہید ہونے لے لئے شہیدوں والی زندگی گزارنا شرط ہے جب تک آپ کی زندگی شہیدوں والی نہیں ہوگی تب تک آپ شہادت پر فائز نہیں ہوسکتے ہیں۔

دوسری شرط ہجرت ہے یعنی انسان ہرچیز کو چھوڑکر خداوند کی را ہ میں ہجرت کرے انسان مال ودولت ، بیوی اور بچے ، والدین اور رشتہ دار ،بھائی اور بہین اور دوستوں کو جھوڑکر خدا کی راہ میں قدم بڑھائے یعنی منیت اور انانیت کو للہیت کے لئے ترک کرے ۔

تیسری شرط جہاد فی سبیل اللہ ہے شہید ہونے کی تیسری شرط یہ ہے کہ انسان مسلسل راہ خدا میں جہاد کرتے رہے تھکاوٹ ،سستی اور کاہلی نہ آنے دے ہرانسان اپنے فیلڈ میں کوشاں رہے اس میں مومنین اور مستضعفین کی مدد کرے راہ خدا سے دوری اختیار نہ کرے ہمیشہ اس راہ سے منسلک رہے ۔

چوتھی شرط یہ ہے کہ انسان استقامت اور ثابت قدمی کا ثبوت دے سختیوں کا مقابلہ کرے تمام تر چلینچنز کا سامنے کرنے کی ہمت رکھے طاقت رکھے اس راہ میں اپنی پوری عمر صرف کرے تب جاکے انسان کو شھادت مل سکتی ہے اور شہادت وہ مقام ہے جس سے بڑا کوئی اور مقام نہیں ہے پیامبر اسلام فرماتے ہرنیکی سے بڑھ کر ایک نیکی ہے یہاں تک کہ انسان راہ خدا میں شہید ہوجائے جب انسان راہ خدا میں شہید ہوتا ہے تو اس سے بڑھکر کوئی اور نیکی نہیں ہے ۔

دانشمندوں اور تحقیق کا ذوق رکھنے والوں کے لئے ایک وسیع وادی ہے، جنگی مہارت ہو یا پھر دشمن کے خلاف جنگ نرم، عرفان و معنویت کی بات ہو یا پھر اخلاص و عقیدت، ٹیبل ٹاک کی بات ہو یا دشمن کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر بات کرنے کی۔ جذبۂ شہادت ہو یا جذبۂ فداکاری، ناموس کی حفاظت کا معاملہ ہو یا انسانی جانوں کو خونخواروں سے نجات دلانے کی بات، خدا ہو یا دشمن، بے رعب و دبدبہ، یتیموں سے محبت ہو یا مصیبت زدہ افراد کی مدد، اہل تحقیق کے لئے ایک وسیع میدان ہے، یہ بابصیرت علماء اور اہل قلم کی ذمہ داری ہے کہ اس مکتب کو شفاف انداز میں آئندہ نسلوں تک پہنچائیں اور اس مکتب کو تحریف سے بچائیں۔جب مکتب کی بات ہے تو پھر مکتب روش مند اور ہدف مند ہوتا ہے، اس کا نکتۂ آغاز بھی ہے اور نکتۂ انجام بھی، ایرانیوں کے بقول اس میں رویش بھی ہے اور زایش بھی ۔ خود سازی سے شروع ہو کر معاشرہ سازی اور وحدت سے کثرت کی طرف جاری و ساری ہےآخری بات ہے جب یہ مکتب ہے تو "اصلہ ثابت و فرعھا فی السماء" کے تحت ایسا شجرہ طیبہ ہے۔ تؤتی اکلھا کل حین اس کے ثمرات اور پھل صرف ایک موسم کے لئے نہیں بلکہ ہر موسم میں پھلوں سے لدا ہوا ہے۔ باذن ربّھا اپنے رب کے اذن کے ساتھ ہر ایک کے لئے ہے، جب اس مکتب عشق کے ساتھ تعلق قائم کرتا ہے تو پھر یاد رکھتا ہوگا:

مکتب عشق کا دستور نرالا دیکھا

اس کو چھٹی نہ ملی جس نے سبق یاد کیا ۔

دین اسلام کے مکتب کے علمبرادار"شهید حاج قاسم سلیمانی،شہیدحاج قاسم سلیمانیؒ، ایک ماہر دشمن شناس تھے انھوں نے زمانے کے پیجیدہ حالات میں اہم اور مہم کی ترجیحات کو بخوبی پہچانا اور انھوں نے یہ بھی سمجھ لیا کہ تمام فسادات کا منبع و سرچشمہ امریکہ اور اسرائیل ہیں۔ لہذا انہوں نے فساد کے خلاف لرنے کی ہر ممکن کوشش کی۔ شہید حاج قاسم سلیمانی نے یہ جانتے تھے کہ عالم اسلام کی نجات کا واحد راستہ مقاومت ہے،لہذا نہضت مقاومت پر پوری توجہ مرکوز کی اور دشمنوں کو شکست دیتے ہوئے آگے بڑھتے رہے یہاں تک کے آج یمن،عراق، شام سب متحد اور منسجم ہوچکے ہیں اور استکباری طاقتوں سے دست و پنجہ نرم کر رہے ہیں یہ جرات اور یہ ہمت انہیں کہاں سے ملی؟بلا شک شهید قاسم سلیمانی کی وجہ سے اور یہ شھید کی کاوشوں کا نتیجہ ہے۔ شهید قاسم سلیمانی ولایت فقیہ کے مطیع تھے اسی وجہ سے وہ دلوں کے امیر بن گیے اور تمام اقوام عالم ان سے بے پناہ محبت کرتی تھی۔شاعر کہتا ہے :

مالک اشتر علی نہ رہا /زور بازروئے رھبری نہ رہا /جس سے ڈرتے تھے وقت کے دشمن ،/ہائی وہ قاسم جزی نہ رہا .

اس زمانہ کا یقینا مالک اشتر ہے تو/ ہاں ! زمانے کے علی کا باوفانوکر ہے تو

سینہء طاغوت پر اک کرارا وار ہو / غزوئ شام و یمن کا فاتح اکبر ہے تو

تم سے ہے اب کاخ استکبار کی نیندیں حرام / مشرق وسطی میں امریکہ کے آرمانوں کے شام

ہمارا فریضہ ہیکہ ہم شہید قاسم سلیمانی کے راستے کو جاری رکھیں اور ان کے مشن کو بہترین انداز میں پایہ تکمیل تک پہونچاییں جو انھوں نے ھمارے کندھوں پر رکھا ہے۔ ہمیں پہلے سے کہیں زیادہ سخت محنت اور تلاش کرنے کی ضرورت ہے ۔ آج ہمیں شھید قاسم سلیمانی کے راستے کو زیادہ سنجیدگی سے جاری رکھنا چاہیے اور ان کے بیانات گہر بار کو مشعل راہ قرار دیتے ہوئے آگے بڑھنا چاہیے۔

لیبلز

تبصرہ ارسال

You are replying to: .