۲ اردیبهشت ۱۴۰۳ |۱۲ شوال ۱۴۴۵ | Apr 21, 2024
محفل سوگواری امام هادی(ع) در حرم کریمه اهل بیت(س)

حوزہ/ حرم حضرت معصومہ (س) کے خطیب نے حدیث ثقلینکا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ قرآن اور اہل بیت علیہم السلام سے متمسک رہنے میں ہی نجات ہے، آج کے دور میں لوگوں کی گمراہی کی اصل وجہ قرآن و اہل بیت علیہم السلام سے دوری ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حجۃ الاسلام والمسلمین حسین انصاریان نے گذشتہ شب حرم حضرت معصومہ قم سلام اللہ علیہا میں امام شناسی کو دین اسلام کا ایک اہم فریضہ قرار دیا اور کہا: اگر کوئی شخص واقعی اہل توحید اور پیغمبر شناس ہو ، اور اس نے اپنی توحید کو پیغمبر شناسی کو قرآن کریم سے لیا ہو، لیکن اپنے امام کو نہ جانتا ہو تو اس کا دین ناقص ہے،اور ایک ناقص دین دنیا اور آخرت کی سعادت کا ضامن نہیں ہو سکتا۔

انہوں نے ایک روایت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا : اگر کوئی اہل بیت علیہم السلام کی معرفت نہیں رکھتا اور اپنے امام کو نہیں جانتا تو گویا اس نے اپنے سامنے آتش جہنم کو قرار دیا ہے، قرآن کریم جو کہ زمین و آسمان کی کی سب سے اعلیٰ، بہترین اور برتر کتاب ہے اسے سمجھنے کے لئے ایک استاد اور معلم کی ضرورت ہے، اور قرآن مجید کی متعدد سورتوں میں اللہ تعالیٰ نے «وَیُعَلِّمُهُمُ الْکِتَابَ» کہا ہے یعنی پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو بھیجنے کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ وہ کتاب خدا کی تعلیم دیں۔

حرم حضرت معصومہ (س) کے خطیب نے حدیث ثقلین« إِنِّی تَارِکٌ فِیکُمُ الثَّقَلَیْنِ کِتَابَ اللَّهِ وَ عِتْرَتِی اهل‌بیتی ما إِنْ تَمَسَّکْتُمْ بهما لَنْ تَضلُّوا أبَداً» کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ قرآن اور اہل بیت علیہم السلام سے متمسک رہنے میں ہی نجات ہے، آج کے دور میں گمراہی کی اصل وجہ قرآن و اہل بیت علیہم السلام سے دوری ہے۔

انہوں نے اس بات پر تاکید کرتے ہوئے کہ اہل بیت علیہم السلام ہی آیات الٰہی کے حقیقی مفسر اور استاد ہیں کہا: اگر کوئی شخص اپنی ذات سے بے خبر کوئی ایسا فقہی مسئلہ بیان کرے جس کا اسے علم نہ ہو، تو یہ گمراہ کن ہوگا۔ موجودہ دور میں لوگوں کو مسئلے اور مسائل پوچھنے اور سمجھنے کے لیے گزشتہ زمانے کی سختیوں اور پریشانیوں کو برداشت کرنے کی ضرورت نہیں ہے، بلکہ اس ترقی یافیہ زمانے میں انٹرنٹ اور سوشل میڈیا کے ذریعہ علما تک رسائی نہایت ہی آسان ہو گئی ہے۔

لیبلز

تبصرہ ارسال

You are replying to: .