۲۷ فروردین ۱۴۰۳ |۶ شوال ۱۴۴۵ | Apr 15, 2024
سراج العلماء علامہ مرزا الطاف حسین کلکتوی

حوزہ/ پیشکش: دانشنامہ اسلام، انٹرنیشنل نورمائکروفلم سینٹر دہلی کاوش: مولانا سید غافر رضوی چھولسی و مولانا سید رضی زیدی پھندیڑوی

حوزہ نیوز ایجنسی | سراج العلماء علامہ مرزا الطاف حسین کلکتوی نے بتاریخ 8 محرم سن 1304ہجری بمطابق 9 جون سن 1886عیسوی میں سرزمین کلکتہ صوبہ بنگال پر پیدا ہوئے۔ موصوف کے والد "معیار العلماء مولانا مرزا محمد تقی " اور آپ کے دادا "قائمۃ الدین مرزا محمد علی" بیک اپنے زمانہ کے مشہور و معروف علماء و خطباء میں شمار کئے جاتے تھے۔ اسی طرح سراج العلماء کے بھائی "فاضلِ جلیل علامہ مرزا محمد نقی" بھی اپنے زمانہ کے مشہور عالم دین تھے۔

سراج العلماء کی ولادت، کلکتہ کے علاقہ "مٹیا برج" میں ہوئی؛ موصوف کی ولادت سے پورا محلّہ سرور کی محفل بن گیا اور آپ کے والدین کی خدمت میں تبریک و تہنیت کے پیغامات کا سلسلہ جاری و ساری ہوگیا۔

کلکتہ کے جیّد اساتذہ سے کسب فیض کرنے کے بعد ذوقِ تعلیم کے تحت اپنی والدہ کے ہمراہ ہندوستان سے عراق کے لئے عازمِ سفر ہوئے اور کربلائے معلّیٰ پہنچ کر جوارِ حضرتِ عباسِ علمدار علیہ السلام میں وہاں کےمشہور و معروف علماء و افاضل کی خدمت میں زانوئے ادب تہہ کئے جن میں سے آیت اللہ سید کاظم بہبہانی، مفتی اعظم مولانا احمد علی مجتہد اور آیت اللہ سید ابوالقاسم موسوی خوئی وغیرہ کے اسمائے گرامی قابلِ ذکر ہیں۔

علامہ الطاف ایک طولانی مدّت تک سرزمینِ عراق کی علمی فضاؤں میں سانس لیتے رہے، جب آپ عراق سے ہندوستان کی جانب واپسی کا ارادہ کرنے لگے تو کربلا اور نجف کے مشہور مراجع کرام میں سے گیارہ مراجع نے اجازات سے نوازا۔ جن میں سے آیت اللہ محمد کاظم طباطبائی، آیت اللہ شیخ عبداللہ مازندرانی، شیخ الشریعہ آیت اللہ شیخ فتح اللہ اور آیت اللہ شیخ محمد حسین مازندرانی کے نام سرِ فہرست ہیں۔

اودھ کے شاہی خاندان سے نہایت عمیق روابط تھے، موصوف کے دادا اور والد کے حاصل کردہ حکومتی خطاب "قائمۃ الدین اورمعیار العلماء" گہرے تعلقات کا منھ بولتا شاہکار ہیں۔

خداوندعالم نے علامہ الطاف کو چار نعمتوں اور تین رحمتوں سے نوازا، نعمتوں کے نام کچھ اس طرح ہیں: مرزا جواد حسین آخوند، مرزا مجتبیٰ حسین عالم اور ان کے علاوہ دو نعمتیں بچپن کے عالم میں ہی خدا کو پیاری ہو گئیں۔

آخرکار یہ علم و عمل کا چراغ جس کو سراج العلماء کہا جاتا تھا، زمانہ کے طوفانوں کا مقابلہ کرتے کرتے 13 محرم سن 1394ہجری بمطابق 24 جنوری سن 1974عیسوی میں گل ہوگیا اور نماز جنازہ کی ادائیگی کے بعد مومنین کی آہ و بکا کے ساتھ مٹیا برج کی جامع مسجد کے فولادی دروازہ کے نزدیک سپردِ لحد کردیا گیا۔

ماخوذ از : نجوم الہدایہ(دانشنامہ علمای شیعہ در ھند سایز دائرۃ المعارف)، تحقیق و تالیف: مولانا سید غافر رضوی فلکؔ چھولسی و مولانا سید رضی زیدی پھندیڑوی، ج1، ص405، دانشنامہ اسلام، انٹرنیشنل نورمیکروفلم دہلی، 2023ء۔

ویڈیو دیکھیں:

https://youtu.be/U5N67wYbDkU?si=CNk09wDW6_7bZsa9

تبصرہ ارسال

You are replying to: .