۶ خرداد ۱۴۰۳ |۱۸ ذیقعدهٔ ۱۴۴۵ | May 26, 2024
شیخ علی دعموش

حوزہ/ شیخ علی دعموش نےکہا: اگر دشمن یہ سوچتا ہے کہ ہمارے بہترین مجاہدوں کو شہید کرکے وہ مزاحمت کے عزم و قوت کو کمزور کردے گا تو وہ غلط سوچ رہا ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، لبنان میں حزب اللہ کی ایگزیکٹیو کونسل کے وائس چیئرمین شیخ علی دعموش نے الشیاح نامی علاقے میں شہید "علی ناصر عبد علی" کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے منعقد ہونے والی م تقریب میں کہا: اگر دشمن یہ سوچتا ہے کہ ہمارے بہترین مجاہدوں کو شہید کرکے وہ مزاحمت کے عزم و قوت کو کمزور کردے گا تو وہ غلط سوچ رہا ہے، ہم وہ حزب اللہ ہو جو بہت ہی مضبوط اور قوی ہے، ہمارا ہمیشہ سے یہی نعرہ رہا ہے کہ"قتل ہوجانا ہماری عادت ہے اور شہادت ہماری عزت و کرامت ہے"۔

انہوں نے مزید کہا: دشمن لاکھ ہمارے مجاہدین اور ہماری افواج کو نشانہ بنائے لیکن قابض صہیونی فوج کو اب مزاحمت کی آگ سے کوئی نہیں بچا سکتا اور نہ ہی شمال میں آباد کاروں کو ان کی بستیوں کی طرف دوبارہ لوٹایا جا سکتا ہے۔

شیخ دعموش نے کہا:ہمارے مجاہدین کو نشانہ بنانے سے اسرائیلی حکومت کی اپنے مقاصد کے حصول میں ناکامی کی تلافی نہیں ہو پائے گی، دشمن کبھی بھی مزاحمت کو پیچھے نہیں ہٹا سکتا اور جب تک غزہ میں دشمن کی جارحیت جاری ہے جنوب میں مزاحمت کی کارروائیاں اسی طرح جاری رہیں گی ۔

انہوں نے کہا:تمام تر قربانیوں اور مشکلات کے باوجود اس جنگ میں ہمارے جیتنے امیدیں بہت زیادہ ہیں، کیونکہ دشمن ایک بہت بڑے بحران کا شکار ہے، وہ انتشار اور تباہی سے دوچار ہےاور دنیا کی نظر میں اس کی حیثیت کرتی جا رہی ہے۔

آخر میں شیخ دعموش نے کہا:لہذا دشمن کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے کہ وہ وقت کو برباد نہ کرتے ہوئے ہٹ دھرمی کو چھوڑ کر سیاسی حل تلاش کرے اور جارحیت کو روکے اور مزاحمت کی شرائط کے سامنے سرتسلیم خم کرے۔

لیبلز

تبصرہ ارسال

You are replying to: .