حوزہ نیوز ایجنسی حوزہ علمیہ ایران کے سربراہ آیت اللہ علی رضا اعرافی نے کہا ہے کہ فقہ اور اخلاق ایک دوسرے سے جدا نہیں ہیں بلکہ یہ ایک ہی نظام کے دو پر ہیں۔ انہوں نے جامعہ قرآن و حدیث میں منعقدہ ‘قومی کانفرنس برائے فقہ و اخلاق‘ سے خطاب کرتے ہوئے فقہ کے دائرہ کار کو وسیع کرنے اور انسانی اور اخلاقی پہلوؤں کو شامل کرنے پر زور دیا۔
آیت اللہ اعرافی نے اپنی تقریر میں نبی کریم (صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم) کی پندرہ سوویں سالگرہ کے موقع پر رہبر معظم انقلاب کی طرف سے ‘نہج البلاغہ‘ سے انس کی تلقین پر روشنی ڈالی اور اس کتاب کے خطبہ نمبر ۹۴ سے پیغمبر اسلام (صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم) کے بلند مقام کا ذکر کیا۔ انہوں نے فقہ اور اخلاق کے درمیان تعلق کا تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ دونوں علم کو الگ الگ دیکھا جا سکتا ہے، لیکن دراصل یہ ایک ہی منظم نظام کا حصہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اخلاقی صفات فقہی احکام کا موضوع بن سکتی ہیں اور فقہ کو انسانی و اخلاقی ابعاد پر گفتگو کرنی چاہیے۔
انہوں نے تین اہم نظریات پر بحث کی، جن میں سے وہ تیسری (وسطی) نظریہ کو ترجیح دیتے ہیں جس کے مطابق فقہ اور اخلاق میں کچھ آزاد مراکز ہیں تاہم بہت سے مشترکہ مسائل بھی موجود ہیں جن کا فقہ میں جائزہ لینا ضروری ہے۔ آیت اللہ اعرافی نے فقہ کے دائرہ کار میں انسانی اعمال کے اندرونی پہلوؤں، عقائد اور اخلاقی صفات کو شامل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ جب تک اخلاقی اور باطنی حالات اختیاری ہوں، تو وہ فقہی احکام کے دائرہ کار میں آ سکتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ فقہ صرف ظاہری احکام تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اس میں ‘فقہ العقائد‘ اور ‘فقہ الاخلاق‘ جیسے ابواب کا اضافہ ہونا چاہیے تا کہ انسانی سعادت اور کمالات کا حصول ممکن ہو سکے۔ انہوں نے گفتگو کے اختتام پر کہا کہ فقہ کے اہداف اور اخلاق کے اہداف میں کوئی بنیادی فرق نہیں ہے اور دونوں کا مقصد انسان کی بہبود اور خدا کی رضا حاصل کرنا ہے۔









آپ کا تبصرہ