جمعرات 4 جون 2026 - 12:50
آیۃ اللہ العظمیٰ شیخ محمد اسحاق فیاض رضوان اللہ تعالی علیہ 

حوزہ/ مرجع تقلید آیۃ اللہ العظمیٰ شیخ محمد اسحاق فیاض رحمۃ اللہ علیہ عصرِ حاضر کے ممتاز مراجعِ تقلید اور عالمِ تشیع کی عظیم علمی شخصیات میں شمار ہوتے تھے۔ آپ نے فقہ، اصول، تدریس، تحقیق اور دینی خدمات کے میدان میں گراں قدر خدمات انجام دیں اور اپنی علمی بصیرت، تقویٰ اور استقامت کے ذریعہ عالمِ اسلام میں ایک نمایاں مقام حاصل کیا۔

تحریر: مولانا سید علی ہاشم عابدی

حوزہ نیوز ایجنسی | مرجع تقلید آیۃ اللہ العظمیٰ شیخ محمد اسحاق فیاض رحمۃ اللہ علیہ عصرِ حاضر کے ممتاز مراجعِ تقلید اور عالمِ تشیع کی عظیم علمی شخصیات میں شمار ہوتے تھے۔ آپ نے فقہ، اصول، تدریس، تحقیق اور دینی خدمات کے میدان میں گراں قدر خدمات انجام دیں اور اپنی علمی بصیرت، تقویٰ اور استقامت کے ذریعہ عالمِ اسلام میں ایک نمایاں مقام حاصل کیا۔ آپ کی زندگی ایک ایسے مردِ علم و عمل کی داستان ہے جس نے افغانستان کے ایک دور افتادہ پہاڑی علاقے سے سفر کا آغاز کیا اور نجف اشرف کے عظیم علمی مرکز میں مرجعیتِ دینی کے اعلیٰ منصب تک رسائی حاصل کی۔

آبائی سرزمین شیرداغ

آیۃ اللہ العظمیٰ شیخ محمد اسحاق فیاض رضوان اللہ تعالی علیہ کا تعلق افغانستان کے تاریخی اور معروف ہزارہ نشین علاقہ شیرداغ سے ہے، جو موجودہ ضلع مالستان، ولایتِ غزنی میں واقع ہے۔ یہ علاقہ اپنی دلکش قدرتی خوبصورتی، بلند و بالا پہاڑوں، سرسبز و شاداب وادیوں، شفاف چشموں اور وسیع چراگاہوں کے باعث مشہور ہے۔ یہاں بہار اور گرمی کا موسم معتدل اور خوشگوار جبکہ سردیوں میں شدید برف باری ہوتی ہے۔

شیرداغ تاریخی طور پر جاغوری قوم کی ایک شاخ اور ہزارہ برادری کے اہم مراکز میں شمار ہوتا ہے۔ اس علاقہ کے باشندے مختلف معاشی، سماجی اور تعلیمی مشکلات کے باعث افغانستان کے دیگر شہروں اور بیرونی ممالک، خصوصاً ایران، پاکستان اور عراق کی طرف ہجرت کرتے رہے ہیں۔ انہی حالات نے یہاں کے بہت سے خاندانوں میں علم و دانش اور دینی تعلیم کے حصول کا جذبہ بھی پیدا کیا۔

ولادت اور خاندانی پس منظر

آیۃ اللہ العظمیٰ شیخ محمد اسحاق فیاض رحمۃ اللہ علیہ 1931 عیسوی میں شیرداغ کے ایک مؤمن، متدین اور محب اہلِ بیت علیہم السلام گھرانے میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد مرحوم محمد رضا ایک سادہ مگر دیندار کسان تھے جو اپنی محنت اور حلال روزی کے ذریعہ اہلِ خانہ کی کفالت کرتے تھے۔ اگرچہ معاشی اعتبار سے ان کا خاندان خوشحال نہیں تھا، لیکن ایمان، تقویٰ اور اخلاقی اقدار کے اعتبار سے مالامال تھا۔

والد نے بچپن ہی سے اپنے فرزند میں غیر معمولی ذہانت، فطانت اور علمی صلاحیتوں کے آثار محسوس کر لئے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ انہوں نے تمام تر مشکلات کے باوجود آپ کی تعلیم و تربیت پر خصوصی توجہ دی۔

ابتدائی تعلیم

پانچ برس کی عمر میں آپ کو مقامی مکتب میں داخل کرایا گیا۔ اس زمانے میں علاقہ میں نہ کوئی سرکاری اسکول تھا اور نہ ہی کوئی منظم دینی مدرسہ۔ آپ کے والد شدید سردی، برف باری اور دشوار گزار راستوں کی پروا کئے بغیر روزانہ آپ کو مکتب تک پہنچاتے تھے۔ اسی ماحول میں آپ نے قرآنِ کریم، فارسی زبان، ابتدائی دینی علوم اور لکھنا پڑھنا سیکھا۔

دینی تعلیم کا آغاز

ابتدائی تعلیم کے بعد آپ نے شیرداغ کے معروف عالمِ دین مرحوم ملا برات آخوندِ بزرگ کے زیرِ تربیت دینی علوم حاصل کئے۔ آخوندِ بزرگ مرحوم نہ صرف ایک ممتاز عالم تھے بلکہ تقویٰ، زہد اور علمی بصیرت کے اعتبار سے بھی بلند مقام رکھتے تھے۔ ان کی شخصیت نے آپ کی علمی اور روحانی تربیت میں بنیادی کردار ادا کیا۔

بعد ازاں آپ تقریباً پندرہ برس کی عمر میں مدرسۂ دینی حوتقول منتقل ہوئے، جہاں آپ نے شیخ قربان علی وحیدی مرحوم کی سرپرستی میں اپنی حوزوی تعلیم جاری رکھی۔ یہاں آپ نے مقدماتی اور سطح کی اہم کتابیں پڑھیں اور اپنی علمی استعداد کو مزید جِلا بخشی۔

والد کی وفات اور مشہد مقدس کی ہجرت

دورانِ تعلیم آپ کے والد کا انتقال ہوگیا، جو آپ کے لئے ایک بڑا روحانی اور جذباتی صدمہ تھا۔ تاہم اس عظیم سانحے نے آپ کے علمی عزم کو متزلزل کرنے کے بجائے مزید مضبوط کیا۔ چنانچہ آپ نے اعلیٰ دینی تعلیم کے حصول کے لئے مشہد مقدس کی طرف ہجرت کی۔

مشہد مقدس میں آپ مدرسۂ حاج حسن میں مقیم رہے اور ممتاز عالمِ دین مرحوم شیخ محمد حسین ادیب نیشاپوری رحمۃ اللہ علیہ سے علمِ ادب، بلاغت اور دیگر اسلامی علوم حاصل کیے۔

نجف اشرف کی طرف ہجرت

اٹھارہ برس کی عمر میں آپ نجف اشرف پہنچے اور حوزۂ علمیہ نجف کے علمی ماحول میں داخل ہوئے۔ یہاں آپ کو استاد الفقہاء آیۃ اللہ العظمیٰ سید ابو القاسم خوئی رضوان اللہ تعالی علیہ جیسے عظیم استاد کے دروس سے استفادہ کرنے کا شرف حاصل ہوا۔

آپ تقریباً پینتیس سال تک آیت اللہ العظمیٰ خوئی رضوان اللہ تعالی علیہ کے علمی فیوض سے بہرہ مند رہے۔ اپنی غیر معمولی علمی استعداد، تحقیقی بصیرت اور دقتِ نظر کے باعث آپ جلد ہی استاد کی خصوصی توجہ اور اعتماد حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ آیۃ اللہ العظمیٰ خوئی رضوان اللہ تعالی علیہ آپ کو اپنے ممتاز ترین شاگردوں میں شمار کرتے تھے اور آپ کے بارے میں فرمایا: "میرے نورِ چشم، محقق اور فاضل عالم شیخ محمد اسحاق فیاض۔"

درسِ خارج اور اجتہادی مقام

آیۃ اللہ العظمیٰ فیاض رحمۃ اللہ علیہ نے جوانی ہی میں فقہ و اصول کے اعلیٰ ترین مرحلے، یعنی درسِ خارج، میں شرکت شروع کر دی۔ آپ نے علمی تحقیق، تنقیدی مطالعہ اور فقہی مباحث میں غیر معمولی مہارت حاصل کی۔ آیۃ اللہ العظمیٰ خوئی رضوان اللہ تعالی علیہ کے دروسِ خارج کی جو تقریرات آپ نے مرتب کیں، وہ بعد میں "محاضرات فی اصول الفقہ" کے نام سے شائع ہوئیں اور اصولِ فقہ کے اہم ترین علمی مصادر میں شمار ہونے لگیں۔

یہ کتاب آج بھی حوزاتِ علمیہ میں تحقیق، تدریس اور علمی مراجعات کے لئے بنیادی کتب میں شمار ہوتی ہے۔

تدریسی خدمات

آیۃ اللہ العظمیٰ فیاض رحمۃ اللہ علیہ طویل عرصے تک حوزۂ علمیہ نجف کے ممتاز اساتذہ میں شمار ہوتے رہے۔ آپ نے مسجدِ ہندی، جامعۃ النجف اور دیگر علمی مراکز میں فقہ و اصول کی اعلیٰ سطح کی تدریس انجام دی۔

بعد ازاں آپ نے مستقل طور پر درسِ خارج کا آغاز کیا، جس میں دنیا بھر سے آنے والے اہل علم و فضل شریک ہوتے رہے۔ آپ کے دروس علمی گہرائی، تحقیقی قوت اور مضبوط استدلال کے باعث علمی حلقوں میں خاص شہرت رکھتے ہیں۔

علمی مقام اور علماء کی آراء

بزرگ علماء اور اہلِ نظر نے آیۃ اللہ فیاض رحمۃ اللہ علیہ کی علمی عظمت اور فقہی مہارت کا متعدد مواقع پر اعتراف کیا ہے۔ آیۃ اللہ العظمیٰ خوئی رضوان اللہ تعالی علیہ، شہید آیۃ اللہ سید محمد باقر صدر رحمۃ اللہ علیہ، شہید حجۃ الاسلام والمسلمین عبدالمجید خوئی رحمۃ اللہ علیہ اور دیگر اکابر علماء نے آپ کی فقاہت، اصولی بصیرت اور تحقیقی صلاحیتوں کو غیر معمولی قرار دیا ہے۔

آثار و تالیفات

تدریس، مرجعیت اور سماجی ذمہ داریوں کے باوجود آیۃ اللہ العظمیٰ فیاض رحمۃ اللہ علیہ نے تحقیق و تصنیف کے میدان میں بھی گراں قدر خدمات انجام دیں۔ آپ کی اہم تصانیف میں "محاضرات فی اصول الفقہ"، "المباحث الاصولیة"، "منہاج الصالحین"، "تعلیقات علی العروة الوثقی"، "احکام البنوک"، "مناسک الحج"، "المسائل المستحدثة"، "الرضاع" اور دیگر متعدد فقہی و اصولی کتب شامل ہیں۔

ان تصانیف میں علمی گہرائی، تحقیقی دقت، اختصار و جامعیت اور رواں اسلوب نمایاں طور پر نظر آتا ہے، جس کی وجہ سے یہ آثار حوزاتِ علمیہ اور علمی مراکز میں خصوصی اہمیت رکھتے ہیں۔

افسوس یہ آفتاب علم و عمل جمعرات 4 جون 2026 کی صبح بغداد کے ایک ہسپتال میں اس دار فانی سے کوچ کر گیا۔

رحمة الله عليه و رضوانه وغفرانه

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha