پیر 29 جون 2026 - 13:44
مولوی سید سلمان حسینی ندویؒ کی رحلت عالمِ اسلام کا عظیم علمی و فکری خسارہ ہے: نمائندۂ ولی فقیہ ہندوستان

حوزہ/ ہندوستان میں نمائندۂ ولی فقیہ حجۃ الاسلام والمسلمین عبدالمجید حکیم الٰہی نے ممتاز عالمِ دین، مفسرِ قرآن اور مفکرِ اسلام مولانا سید سلمان حسینی ندویؒ کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے اسے عالمِ اسلام کے لیے ناقابلِ تلافی علمی و فکری نقصان قرار دیا ہے۔ انہوں نے مرحوم کی دینی، علمی اور دعوتی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے ان کے اہلِ خانہ، متعلقین اور شاگردوں سے تعزیت کا اظہار کیا۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ہندوستان میں نمائندۂ ولی فقیہ حجۃ الاسلام والمسلمین عبدالمجید حکیم الٰہی نے ممتاز عالمِ دین، مفسرِ قرآن اور مفکرِ اسلام مولانا سید سلمان حسینی ندویؒ کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے اسے عالمِ اسلام کے لیے ناقابلِ تلافی علمی و فکری نقصان قرار دیا ہے۔ انہوں نے مرحوم کی دینی، علمی اور دعوتی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے ان کے اہلِ خانہ، متعلقین اور شاگردوں سے تعزیت کا اظہار کیا۔

بیان حسب ذیل ہے:

بسم اللہ الرحمن الرحیم

"وَالسَّابِقُونَ الْأَوَّلُونَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنصَارِ وَالَّذِينَ اتَّبَعُوهُم بِإِحْسَانٍ رَّضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ وَأَعَدَّ لَهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي تَحْتَهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا ۚ ذَلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ"

عالمِ اسلام کی ممتاز علمی و دینی شخصیت، جلیل القدر عالمِ ربانی، مفسرِ قرآن، مفکرِ اسلام، داعیِ اتحادِ امت اور ہندوستان کی علمی و دینی روایت کے درخشاں ستارے مولانا سید سلمان حسینی ندویؒ کے انتقال کی خبر سن کر دلی صدمہ اور گہرے رنج کا احساس ہوا۔ یقیناً ان کی رحلت صرف ہندوستان ہی نہیں بلکہ پورے عالمِ اسلام کے لیے ایک عظیم علمی و فکری خسارہ ہے۔

انہوں نے اپنی پوری زندگی قرآن و سنت کی خدمت، تعلیم و تربیت، دینی علوم کی اشاعت، ہزاروں علماء و طلبہ کی علمی و اخلاقی تربیت، امتِ مسلمہ کے اتحاد، اعتدال اور بین المسلمین اتحاد کے فروغ میں صرف کی۔ ان کی علمی خدمات، دعوتی جدوجہد، بصیرت افروز خطابات اور گراں قدر تصنیفات ہمیشہ اہلِ تحقیق کے لیے علمی سرمایہ اور آئندہ نسلوں کے لیے مشعلِ راہ رہیں گی۔

مرحوم سید سلمان حسینی ندویؒ ان نادر چند بزرگ علماء میں سے تھے جنہوں نے جرأت و بصیرت کے ساتھ انقلابِ اسلامی ایران کی حمایت کی، امام خمینیؒ کی تحریک کو امتِ مسلمہ کی بیداری کا نقطۂ آغاز قرار دیا اور رہبرِ شہید حضرت آیت اللہ العظمیٰ سید علی حسینی خامنہ ای کی قیادت سے اپنی قلبی وابستگی اور عقیدت کا برملا اظہار کیا۔ وہ ہمیشہ اسلامی وحدت، عزتِ امت، عالمی استکبار کے مقابلے میں مقاومت اور مظلوم اقوام کی حمایت کو اپنی دینی ذمہ داری سمجھتے تھے۔ ان کا یہ جرأت مندانہ اور حکیمانہ مؤقف انہیں عالمِ اسلام کے آزاد فکر علماء میں ممتاز اور منفرد مقام عطا کرتا ہے۔

بلاشبہ ایسی عظیم علمی، فکری اور دینی شخصیت کا فقدان مدارسِ اسلامیہ، علمی مراکز، دعوتی حلقوں اور پوری امتِ مسلمہ کے لیے ناقابلِ تلافی نقصان ہے۔ تاہم ان کی علمی میراث، افکارِ صالحہ، تربیت یافتہ شاگرد اور دینِ اسلام کی خدمت کے لیے انجام دی گئی گراں قدر کوششیں ہمیشہ زندہ رہیں گی اور اہلِ علم و تحقیق کو رہنمائی فراہم کرتی رہیں گی۔

میں اس عظیم سانحۂ ارتحال پر مرحوم کے اہلِ خانہ، متعلقین، علمائے کرام، اساتذہ، شاگردوں، دارالعلوم ندوۃ العلماء، ہندوستان کی علمی و دینی برادری اور بالخصوص مرحوم کے فرزندِ ارجمند مولوی سید یوسف حسینی ندوی کی خدمت میں دلی تعزیت پیش کرتا ہوں اور بارگاہِ الٰہی میں دعا گو ہوں کہ اللہ رب العزت اپنے فضل و کرم سے مرحوم کی مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند کرے، انہیں اپنے مقرب بندوں، انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین کے ساتھ محشور فرمائے اور تمام پسماندگان کو صبرِ جمیل اور اجرِ عظیم عطا فرمائے۔

نسأل الله سبحانه وتعالی أن يتغمّده بواسع رحمته، ويسكنه فسيح جناته، ويجزيه عن الإسلام والمسلمين خير الجزاء۔

عبدالمجید حکیم الٰہی

نمایندۂ ولی فقیہ ہندوستان

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha