پیر 14 ستمبر 2026 - 13:20
علماء کے واقعات | رہبرِ شہید نے کم عمری میں ہی تدریس شروع کر دی تھی

حوزہ/ رہبرِ شہید آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ایؒ نے طالب علمی کے ابتدائی برسوں ہی میں حوزہ کی کتابیں پڑھانا شروع کر دی تھیں۔ انہوں نے بتایا کہ بچپن میں ہی مشہد کے دو ذاکروں کو ’’جامع المقدمات‘‘ پڑھاتے تھے اور بعد میں حوزہ کی اعلیٰ سطح کی کتابیں رسائل، مکاسب اور کفایہ بھی پڑھائیں۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، رہبرِ شہید آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ایؒ نے طالب علمی کے ابتدائی برسوں ہی میں حوزہ کی کتابیں پڑھانا شروع کر دی تھیں۔ انہوں نے بتایا کہ بچپن میں ہی مشہد کے دو ذاکروں کو ’’جامع المقدمات‘‘ پڑھاتے تھے اور بعد میں حوزہ کی اعلیٰ سطح کی کتابیں رسائل، مکاسب اور کفایہ بھی پڑھائیں۔

رہبرِ شہید امام خامنہ ایؒ اپنے طالب علمی کے دور کا تذکرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

’’میں نے ادبیات، تفسیر، فقہ اور اصول سب پڑھائے ہیں۔ ادبیات کی تدریس طالب علمی کے بالکل ابتدائی زمانے سے شروع کر دی تھی۔ یعنی طالب علمی کے ابتدائی برسوں میں پڑھانا شروع کر دیا تھا۔ اگرچہ لکھنے کا میرا تجربہ زیادہ نہیں، لیکن تدریس کا تجربہ بہت پرانا ہے۔

مجھے یاد ہے کہ جب میں ابھی پرائمری اسکول سے نکلا ہی تھا تو مشہد کے دو ذاکروں کو جامع المقدمات پڑھاتا تھا۔

اس کے بعد بھی جب میں خود ادبیات پڑھ رہا تھا اور حوزہ میں داخل ہو چکا تھا، مقدمات کی کتابیں پڑھاتا رہا۔ میں نے جامع المقدمات کی کئی کتابیں، سیوطی، مغنی، مطول اور جواہر البلاغہ بھی پڑھائیں۔

اسی طرح آیت اللہ خوئیؒ کے شاگرد سید نقی حیدری کی اصول کی کتاب، جو معالم کی جگہ پڑھائی جاتی تھی، مشہد میں پڑھائی۔ قم میں بھی یہی کتابیں پڑھائیں۔

مشہد واپس آنے کے بعد 1343 سے 1356 ہجری شمسی تک مختلف ادوار میں اور کئی برس تک رسائل، مکاسب اور کفایہ بھی پڑھاتا رہا۔ 1354 میں جب مجھے جلاوطن کر دیا گیا تو پھر درس و بحث کا سلسلہ نہیں رہا۔

مشہد میں میرے درسِ مکاسب میں تقریباً 100 سے 120 طلبہ شریک ہوتے تھے۔‘‘

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha