ہفتہ 19 ستمبر 2026 - 13:00
مکہ و مدینہ کو نشانہ بنانے کی باتیں محض مذہبی فتنے کی سازش کا حصہ ہیں: امام جمعہ نجف

حوزہ/ نجف اشرف کے امام جمعہ حجۃ الاسلام والمسلمین سید صدرالدین قبانچی نے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے مذہبی فتنہ پھیلانے اور یمن و عراق کے خلاف عوامی جذبات بھڑکانے کی سازش سے ہوشیار رہنے کی تاکید کی۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، نجف اشرف کے امام جمعہ حجۃ الاسلام والمسلمین سید صدرالدین قبانچی نے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے مذہبی فتنہ پھیلانے اور یمن و عراق کے خلاف عوامی جذبات بھڑکانے کی سازش سے ہوشیار رہنے کی تاکید کی۔

انہوں نے حسینیہ اعظم فاطمیہ نجف اشرف میں نماز جمعہ کے خطبوں میں داخلی، علاقائی اور عالمی مسائل پر گفتگو کی۔ انہوں نے بغداد بین الاقوامی کتاب میلے کے انعقاد کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس سال میلے کا عنوان ’’بغداد، اسلامی ثقافت کا دارالحکومت‘‘ رکھا گیا ہے اور اس میں 600 ناشرین شریک ہیں۔

انہوں نے نئے تعلیمی سال کے آغاز میں تاخیر پر عوامی تشویش کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ تعلیمی امور سے متعلق اس تاخیر پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔

امام جمعہ نجف اشرف نے بصرہ کے عوام، علما اور قبائل کی جانب سے ایک ایسے جشن کی منسوخی پر بھی ان کا شکریہ ادا کیا جسے انہوں نے اخلاقی اقدار کے خلاف قرار دیا، اور کہا کہ یہ اقدام معاشرے کو درپیش اخلاقی چیلنجوں کے بارے میں بیداری کی علامت ہے۔

انہوں نے نجف اشرف میں حوزہ علمیہ کے قیام کی ہزار سالہ تاریخ کی مناسبت سے منعقدہ تقریبات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ نجف ایک بار پھر فکر، دین اور تشیع کے مرکز کے طور پر اپنی حیثیت حاصل کر رہا ہے۔

عراق کے وزیر اعظم کے آئندہ ہفتے امریکہ کے دورے کا ذکر کرتے ہوئے حجۃ الاسلام والمسلمین قبانچی نے کہا کہ عراق میں کسی بھی سیاسی یا سکیورٹی بحران کے اثرات پورے خطے اور عالمی معیشت پر پڑ سکتے ہیں، اس لیے تمام معاملات کو عقل و تدبر سے حل کیا جانا چاہیے۔

مذہبی خطبے میں انہوں نے امام حسن عسکریؑ کی ایک روایت بیان کرتے ہوئے شیعوں کی چار نمایاں صفات: دین داری، سچائی، امانت داری اور حسن اخلاق کو بیان کیا اور کہا کہ حقیقی شیعہ وہ ہے جس کے کردار سے یہ صفات ظاہر ہوں۔

انہوں نے اہل بیتؑ کے پیروکاروں کے لیے ایک روایت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ شیعیانِ اہل بیتؑ تین مواقع پر خوش ہوں گے: موت کے وقت، قبر میں سوال کے وقت اور قیامت میں اللہ تعالیٰ کے حضور پیشی کے وقت۔ انہوں نے کہا کہ یہ تینوں مواقع انتہائی دشوار ہیں، تاہم اہل بیتؑ سے محبت رکھنے والوں کے لیے ان میں بشارتیں بیان ہوئی ہیں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha