حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، آیت اللہ سید ہاشم حسینی بوشہری نے 9 اکتوبر 2026ء کو قم کے مصلائے قدس میں نماز جمعہ کے خطبوں کے دوران مختلف سماجی، سیاسی، اقتصادی اور دینی مسائل پر اظہار خیال کیا۔
انہوں نے عوام کی مسلسل حمایت کو سراہتے ہوئے کہا کہ رہبرِ شہید کی شہادت اور جدید رہبر کے انتخاب کے درمیانی عرصے میں عوام نے مجلس خبرگانِ رہبری اور دیگر ذمہ داران کے ساتھ اہم کردار ادا کیا۔ رہبرِ معظم انقلاب اسلامی کے پیغامات رہنمائی کا اہم ذریعہ ہیں اور ان پر عمل کرنا کامیابی کی ضمانت ہے۔
انہوں نے کہا کہ دشمن نے جنگ، دہشت گردی اور اقتصادی، بحری و فضائی پابندیوں کے ذریعے ایرانی قوم کی قوتِ برداشت آزمانے کی کوشش کی، لیکن عوام نے ثابت کیا کہ وہ مشکلات کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔ اب دشمن ثقافتی یلغار کے ذریعے معاشرے کی اقدار کو کمزور اور بے راہ روی کو فروغ دینا چاہتا ہے۔ انہوں نے والدین، اساتذہ اور متعلقہ حکام کو نئی نسل کے فکری و اخلاقی تحفظ کی ذمہ داری یاد دلائی۔
قم کے دینی تشخص پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ قم اہل بیت علیہم السلام کا حرم ہے اور یہاں بے راہ روی کو معمول بننے سے روکنا ضروری ہے۔ حکومت، متعلقہ وزرا اور عدلیہ سمیت تمام ذمہ داران کو اس سلسلے میں اپنی ذمہ داری ادا کرنی چاہیے۔
عراق کی خودمختاری کے بارے میں انہوں نے کہا کہ امریکی افواج کو مزاحمتی محاذ نے عراق سے نکلنے پر مجبور کیا۔ انہوں نے عراقی حکام پر زور دیا کہ وہ مضبوط موقف اختیار کریں اور امریکی افواج کی دوبارہ واپسی کا راستہ روکیں، کیونکہ عراق کی خودمختاری بھی ایران کی طرح اہم ہے۔
ایرانی کھلاڑیوں کی کامیابیوں پر مبارک باد پیش کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایرانی نوجوان جنگ کے دوران بھی کھیل، سائنس اور سفارت کاری کے میدانوں میں نمایاں کارکردگی دکھا رہے ہیں۔ انہوں نے حکام سے مطالبہ کیا کہ عوام کی معاشی مشکلات دور کرنے کے لیے مؤثر منصوبہ بندی کریں، ماہرین سے مشورہ لیں اور ملک کے قدرتی وسائل سے عوام کو فائدہ پہنچائیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ بازاروں میں سامان موجود ہونا اہم ہے، لیکن عوام کی قوتِ خرید بھی ضروری ہے؛ ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ لوگ اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے زندگی کی بنیادی اشیا خریدنا چھوڑ دیں۔
پہلے خطبے میں آیت اللہ حسینی بوشہری نے امام رضا علیہ السلام کی حدیث کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حقیقی عزت تقویٰ میں ہے۔ اصل پرہیزگاری یہ ہے کہ انسان تنہائی میں بھی خداوند عالم کی نافرمانی سے بچے۔
انہوں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی سیرت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے شدید مخالفت کے باوجود اسلام کو جزیرۂ عرب سے باہر تک پہنچایا۔ آج اسلامی انقلاب کو بھی ایسے دشمنوں کا سامنا ہے جو معاشرے کی اقدار کو متاثر اور اسلامی محاذ میں مایوسی پیدا کرنا چاہتے ہیں۔
انہوں نے رہبرِ شہید کے بیان کردہ اسلامی انقلاب کے پانچ مراحل، یعنی اسلامی انقلاب، اسلامی نظام، اسلامی حکومت، اسلامی معاشرہ اور اسلامی تمدن کا ذکر کیا اور کہا کہ آخری اہداف تک پہنچنے کے لیے رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی سیرت سے رہنمائی حاصل کرنا ضروری ہے۔
انہوں نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے مشن کے چھ بنیادی اصول بیان کیے: شرک کا خاتمہ، تعلیم و تربیت، قیامِ عدل، بشارت اور امید، دشمن کے اقتدار کو توڑنا اور امتِ مسلمہ کو عزت دینا، اور حاکمیتِ الٰہی کا قیام۔ انہوں نے مزید کہا کہ مناسب دعوت، عملی کردار، دشمن کی سازشوں کا مقابلہ، اطلاعاتی حکمتِ عملی، معاہدوں کی پابندی، موقع شناسی اور مؤثر نعروں کا انتخاب بھی اسلامی اہداف کے حصول میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔










آپ کا تبصرہ