حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، تنزانیہ کے شیعوں کے سربراہ شیخ حمید جلالہ موکیندی نگے نے جمعہ کے خطبے میں ذکرِ خدا، رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر درود بھیجنے، امانت داری اور خشوع و خضوع کی اہمیت بیان کرتے ہوئے مؤمنین کو دنیا و آخرت کے درمیان توازن برقرار رکھنے کی تاکید کی۔
تنزانیہ کی شیعہ جماعت (TIC) کے سربراہ اور دارالسلام کے علاقے کیگوگو پوسٹ میں مسجد غدیر کے امام جمعہ شیخ، حمید جلالہ موکیندی نگے نے 9 اکتوبر 2026 کو مسجد غدیر میں نماز جمعہ کے خطبے کے دوران قرآن و احادیث کی روشنی میں مؤمنین کی اخلاقی اور دینی ذمہ داریوں پر روشنی ڈالی۔
انہوں نے سورۂ نساء کی آیت 142 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ منافقین کی نمایاں علامتوں میں نماز کے لیے سستی کا مظاہرہ کرنا، لوگوں کو دکھانے کے لیے عبادت کرنا اور اللہ تعالیٰ کو کم یاد کرنا شامل ہے۔ اس کے برخلاف، مؤمنین کی زندگی ذکرِ خدا سے معمور ہونی چاہیے۔ انہوں نے سورۂ احزاب کی آیت 35 کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے کثرت سے ذکر کرنے والے مردوں اور عورتوں کے لیے مغفرت اور اجرِ عظیم کا وعدہ کیا ہے۔
شیخ جلالہ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر درود بھیجنے کی فضیلت بیان کرتے ہوئے مؤمنین کو اس عمل کو اپنی روزمرہ زندگی کا حصہ بنانے کی تلقین کی اور اسے خدا سے تعلق مضبوط کرنے کا ایک اہم ذریعہ قرار دیا۔
انہوں نے حضرت ابوذر غفاری کے نام پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی وصیت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ عقل مند انسان وہ ہے جو اپنے اعمال کا محاسبہ کرے اور آخرت کے لیے تیاری کرے، جب کہ نادان شخص خواہشاتِ نفس کی پیروی کرتے ہوئے بے بنیاد امیدیں باندھتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ آخرت کی فکر کا مطلب دنیاوی ذمہ داریوں سے کنارہ کشی نہیں، بلکہ حلال روزی کمانے، اہل خانہ کی ضروریات پوری کرنے اور دینی فرائض ادا کرنے کے درمیان توازن قائم رکھنا ہے۔
شیخ جلالہ نے امانت داری اور خشوع کو بھی مؤمنین کی اہم صفات قرار دیا اور کہا کہ امانت کی حفاظت، حقوق کی ادائیگی اور عبادت میں اخلاص ایک صالح معاشرے کی بنیاد ہیں۔ انہوں نے ریاکاری سے بچنے اور خدا کے حضور عاجزی اختیار کرنے پر بھی زور دیا۔
خطاب کے اختتام پر انہوں نے امام مہدی علیہ السلام کے ظہور میں تعجیل اور مؤمنین کو آپ کے سچے پیروکاروں میں شامل ہونے کی توفیق کے لیے دعا کی۔










آپ کا تبصرہ