حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حجت الاسلام و المسلمین شیخ علی الخطیب نے لبنان میں نماز جمعہ کے خطبے کے دوران کہا کہ لبنان کو بیرونی دباؤ کے سامنے جھکنے کے بجائے اپنے داخلی مسائل اور عوام کی مشکلات پر توجہ دینی چاہیے۔
انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی سیاسی سرگرمیوں کے بجائے عوام کے معاشی مسائل حل کرنے اور زندگی کے مختلف شعبوں میں ان کی ضروریات پوری کرنے کو ترجیح دے۔
شیخ الخطیب نے کہا کہ ایمان کے بعد اتحاد قوم کی سب سے بڑی طاقت ہے۔ تصادم سے بچنے کے نام پر کسی کے سامنے جھک جانا درست نہیں، کیونکہ اس سے ایمان اور اتحاد کی اہمیت ختم ہو جاتی ہے۔
انہوں نے حکومت کی کارکردگی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے جنوبی لبنان کے دوروں کے علاوہ کوئی مؤثر اقدام نہیں کیا، جبکہ مزاحمت سے وابستہ امور کو روکنے اور ان علاقوں میں عوام تک اس کی امداد پہنچنے میں رکاوٹ ڈالنے پر توجہ دی جا رہی ہے جہاں حکومت اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کر رہی۔
شیخ الخطیب نے اسرائیل کی دھمکیوں اور لبنان پر عائد پابندیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بیرونی طاقتیں ملک کو اندرونی تصادم کی طرف دھکیلنا چاہتی ہیں، تاہم انہیں امید ہے کہ لبنانی فوج اس جال میں نہیں پھنسے گی۔ انہوں نے مزاحمت کی جانب سے بے گھر افراد کو پناہ اور رہائش فراہم کرنے کی کوششوں کو بھی اہم قرار دیا۔
انہوں نے آخر میں کہا کہ دشمن بیرونِ ملک اور بعض عناصر اندرونِ ملک اختلافات اور انتشار کو ہوا دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ شیعیان لبنان کی سپریم اسلامی کونسل، تحریک امل کی قیادت اور حزب اللہ کی جانب سے قومی اتحاد برقرار رکھنے اور داخلی اختلافات کو روکنے کے لیے مسلسل کوششیں جاری ہیں۔










آپ کا تبصرہ